افغان میڈیا نے کابل ہسپتال حملے میں 400 افراد کی ہلاکت کے جھوٹے دعوؤں کی قلعی کھول دی
کابل ہسپتال حملے کے جھوٹے دعوے
اسلام آباد (خصوصی رپورٹ) افغان میڈیا نے کابل ہسپتال حملے میں 400 افراد کی ہلاکت کے جھوٹے دعوؤں کی قلعی کھول دی۔
یہ بھی پڑھیں: وزیر داخلہ محسن نقوی، وزیر مملکت طلال چودھری سے مفتی منیب الرحمن کی اہم ملاقات
ہلاکتوں کی عدم موجودگی
افغان میڈیا کے مطابق حملے کے دوران ہلاکتوں، خون کے آثار اور بڑی تباہی کے نشانات نہیں ملے۔ افغان طالبان حکام کے بحالی مرکز پر حملے کے دعوے کے حق میں کوئی ثبوت نہیں ملا۔
یہ بھی پڑھیں: ایشیا کپ، بنگلہ دیش نے کانٹے دار مقابلے کے بعد افغانستان کو8 رنز سے شکست دے دی
آگ کے بارے میں حقائق
’’جیو نیوز‘‘ کے مطابق افغان میڈیا کا کہنا ہے کہ کابل میں بحالی مرکز کے قریب لگی آگ معمولی نوعیت کی تھی، بحالی مرکز کے قریب آگ قریبی طالبان فوجی کیمپ پر حملے کے باعث لگی۔
یہ بھی پڑھیں: ثاقب فیاض مگوں کا ٹریڈ آرگنائزیشن رولز میں مجوزہ ترامیم پر تحفظات کا اظہار،قومی اسمبلی قائمہ کمیٹی میں مجوزہ بل پر تنقید، نظرثانی کا مطالبہ کردیا
اقوام متحدہ کی تصدیق
اقوام متحدہ کے ادارے برائے افغانستان نے بھی 400 افراد کی ہلاکت کے جھوٹے دعوے کی تصدیق نہیں کی۔
یہ بھی پڑھیں: جب دنیا جنگ کی عادی ہو جائے
عینی شاہدین کی گواہی
افغان میڈیا کی رپورٹر نے بھی ہسپتال میں موجود عینی شاہدین کے ذریعے طالبان رجیم پروپیگنڈا آشکار کیا۔
یہ بھی پڑھیں: خیبر پختونخوا میں شہید ہونے والے لیفٹیننٹ دانیال اسماعیل اور 4 جوانوں کے بارے میں اضافی معلومات سامنے آگئیں
زخمیوں کی تعداد
افغان میڈیا کے مطابق اس وقت کابل سینٹرل ہسپتال میں 15 زخمی زیر علاج ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی کے 26 نومبر کے احتجاج میں زخمی ہونے والا ایک اور رینجرز اہلکار شہید ہوگیا
پاکستان کے فضائی حملے
خیال رہے کہ گزشتہ روز پاکستان نے کابل اور ننگرہار میں کامیاب فضائی حملے کیے، ایمونیشن اور ٹیکنیکل انفراسٹرکچر تباہ کیا۔ ترجمان افغان وزارت داخلہ نے اس سے پہلے جھوٹا دعویٰ کیا تھا کہ منشیات کے عادی افراد کی بحالی کے مرکز پر حملے میں 400 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔
وفاقی وزیر اطلاعات کا بیان
وفاقی وزیر اطلاعات عطاء تارڑ نے کہا ہے کہ افغان طالبان رجیم نے ہسپتال پر حملے کا جھوٹا بیانیہ بنانے کی کوشش کی اور افغان طالبان رجیم کو جھوٹی پوسٹس ڈیلیٹ کرنا پڑیں۔








