ایران کے سستے مگر مہلک ’’شاہد ڈرون‘‘ کیا صلاحیت رکھتے ہیں اور کیسے وسیع تباہی کا سبب بن رہے ہیں ۔۔؟ اہم تفصیلات جانیے
ایرانی ڈرونز کی خطرناک تاثیر
واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک) ایرانی ساختہ سستے مگر مہلک "شاہد ڈرون" مشرق وسطیٰ کی جنگ میں وسیع تباہی کا سبب بن رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: مہاراجہ رنجیت سنگھ کی برسی، بھارت نے پاکستان میں سکھوں کے داخلے پر پابندی لگا دی
جدید ٹیکنالوجی کی خصوصیات
خبررساں ایجنسی کے مطابق یہ ڈرونز جدید ٹیکنالوجی سے لیس ہیں اور جی پی ایس کے بغیر بھی ہدف تک پہنچنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کے دوران ایرانی ساختہ "شاہد" ڈرونز سستے ہونے کے باوجود انتہائی مہلک ثابت ہو رہے ہیں اور بڑے پیمانے پر تباہی کا باعث بن رہے ہیں۔ ان میں انرشیل نیویگیشن سسٹم (INS) استعمال کیا جاتا ہے جو انہیں الیکٹرانک جامنگ کے باوجود درست سمت برقرار رکھنے میں مدد دیتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: امریکہ کے ساتھ تجارتی جنگ، چین کی تیاری کیسی ہے؟ امریکی میڈیا کی تہلکہ خیز رپورٹ
پرواز کی حکمت عملی
"جیو نیوز" کے مطابق رپورٹس کے مطابق "شاہد ڈرون" پہلے جی پی ایس کے ذریعے اپنے ہدف کا مقام محفوظ کرتے ہیں اور پھر جیمنگ سے بچنے کے لیے آف لائن پرواز کرتے ہیں۔ ہدف کے قریب پہنچنے پر یہ دوبارہ جی پی ایس سے جڑ کر زیادہ درست حملہ کرتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: الخدمت فاؤنڈیشن نے دیوالی کی مناسبت سے 1400 ہندو خاندانوں میں تحائف تقسیم کر دیے
جدید ٹیکنالوجی کی موجودگی
امریکی تحقیقاتی اداروں کے مطابق "شاہد" طرز کے بعض ڈرونز میں جدید اینٹی جیمنگ اینٹینا ٹیکنالوجی بھی نصب ہے جبکہ ماہرین کا کہنا ہے کہ ان میں امریکی فوجی جی پی ایس جیسی جدید صلاحیتیں بھی شامل کی گئی ہیں۔ یہ ڈرونز ہلکے پلاسٹک اور فائبر گلاس سے تیار کیے جاتے ہیں جس کی وجہ سے یہ ریڈار سے بچتے ہوئے کم بلندی پر پرواز کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
متبادل نیویگیشن سسٹمز
ماہرین کے مطابق ایران ممکنہ طور پر ان ڈرونز میں BeiDou اور GLONASS جیسے متبادل نیویگیشن سسٹمز بھی استعمال کر رہا ہے جس سے ان کی کارکردگی اور ہدف تک پہنچنے کی صلاحیت مزید بہتر ہو جاتی ہے۔







