بیوروکریسی کے جنسی درندے۔۔۔قسط نمبر 2

کون ہے؟

تحریر: ملک سلمان
کون ہے؟ پوچھنے والوں کو میں نہیں بتا سکتا کہ تم خود اس حمام میں ننگے اور گندے ہو۔ بہت سارے جعلی ایمانداروں اور نیکوکاروں کو نہیں بتا سکتا کہ تمہاری آڈیو اور ویڈیو خود دیکھی ہیں کہ جس میں تم خاتون کی منتیں کر رہے ہو کہ پہلے آپ پھر میں آن لائن سیلف پریکٹس کرتے ہیں۔ عقل کے اندھوں ابھی بھی وقت ہے کسی باہر کی عورت کے قدم چومنے سے بہتر ہے اپنی بیوی کے قدم دبا کر دیکھ لو دنیا جنت بن جائے گی۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان، افغانستان اور ازبکستان کے درمیان ریلوے معاہدہ طے پا گیا

اصلاح کی کوشش

بیوروکریسی کے جنسی درندے۔۔۔قسط نمبر 1 پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔
میرا مقصد صرف اصلاح اور خبردار کرنا ہے کہ جو گند تم لوگوں نے پھیلایا ہے تھیلے سے باہر آگیا تو منہ دکھانے کے قابل نہیں رہوگے۔ میں اس چیز پر پختہ یقین رکھتا ہوں کہ کسی کی پرائیویسی خراب نہیں کرنی چاہئے لیکن بطور خیرخواہ تمہیں سمجھانے کی آخری کوشش ہے کہ کتے کی رال ٹپکانے سے بہتر ہے تھوڑے میں گزارا لو۔

یہ بھی پڑھیں: ساہیوال ؛دریائے راوی میں اونچے درجے کا سیلاب، پورے پورے گھر پانی میں ڈوب گئے

شرم و حیا کی کمی

واحیات افسران جس طرح کی تھڑی ہوئی حرکتیں کرچکے ہیں صرف وہ ہی پبلک ہو جائیں تو بہت سارے خودکشی کرلیں یا احساس ندامت سے پاگل ہوجائیں۔ ویسے ایسی امید بھی کم لوگوں سے ہیں کیونکہ جس قدر گھٹیا ذہنیت کا ثبوت دے چکے ہیں لگتا نہیں کہ ان میں رتی برابر بھی شرم باقی ہوگی۔ چلیں شرم غیرت نہ سہی بے حیاؤ اپنا سوشل سٹیٹس ہی بچا لو۔

یہ بھی پڑھیں: جاوید اختر نے پاک بھارت کشیدگی پر بات کرنے سے انکار کردیا

آوارہ لڑکوں کی کہانی

جو سینئر افسران پارلیمنٹیرین، صحافیوں، ساتھی افسران اور دیگر بااثر شخصیات کیلئے بھی اکثر پہنچ سے دور ہوئے ہوتے ہیں وہ آوارہ لونڈوں لپاڑوں کی طرح لانگ ڈرائیو کے نام پر "شوگر بے بیز" کی خاطر روڈ انسپکیٹری کرتے ہوئے سڑکوں کی خاک چھان رہے ہوتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: نیپرا نے بجلی سستی کرنے کا اعلان کر دیا

ڈوپ ٹیسٹ کی ضرورت

ڈوپ ٹیسٹ کروا لیں آپ کو اندازہ ہوجائے گا جنسی خواہشات کی وحشت میں سوکالڈ کامیابی کے جھنڈے گاڑتے ہوئے ڈرگز کے عادی ہوچکے ہیں۔ ڈرگز کی کثرت کی وجہ سے منہ پر لعنتیں اور پھٹکارے سرجری کروانے سے بھی ختم نہیں ہو رہیں۔ چند افسران انباکس میں اخلاقیات کا لیکچر دے رہے تھے، یہ وہی ہیں جن کی ویڈیوز دیکھ چکا ہوں کہ خاتون کو کہتے ہوئے کہ یہ ساشے تمہارا یہ ساشے میرا اب دیکھنا یہ رات کبھی نہیں بھول پاؤگی۔

یہ بھی پڑھیں: ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ، آج پاکستان انتہائی اہم میچ میں انگلینڈ کے مدمقابل

آنے والی قسط

اس ٹاپک کو مزید اگلی قسط میں سہی۔ اخلاقی کرپشن کا دوسرا پہلو بھی دکھا دوں جس پر لکھنے کیلئے انہی افسران کی بیگمات نے سپیشل ریکوئسٹ کی کہ ان بے غیرت افسران کی اس عادت کی وجہ سے ان کی بیویوں کی زندگی برباد ہوچکی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: وفاقی کابینہ سے 27ویں آئینی ترمیم کا مسودہ کل منظور ہونے کا امکان

خواتین کی شکایات

گزشتہ سال ایک سینئر آفیسر کی وائف کی کال آئی کہ سلمان صاحب آپ کبھی۔۔۔اس نامرد کو بھی بندوں کی گیدرنگ میں انوائٹ کر لیا کریں کہ شائد انسان بن جائے۔ میں نے کہا کہ پانچ سات دفعہ بلایا ہے لیکن شائد وہ مصروف ہوتے ہیں۔ مذکورہ خاتون نے پرسرار قہقہے کے ساتھ کہا کہ اس (ک ن ج ر) نے ایک ہی کام میں مصروف ہونا ہوتا ہے۔ آپ کی محفل اوپن ہوتی ہے جبکہ اس کو بند کمرے میں مردوں کے ساتھ بیٹھنا پسند ہے۔

یہ بھی پڑھیں: معروف ترک سوشل میڈیا انفلوئنسر ’ترکان آتائے‘ نے ’ماریہ بی ‘ سنگین الزام لگا دیا، بڑا دعویٰ

ایک اور کہانی

اس بات کا مطلب مجھے کچھ مہینے بعد سمجھ آیا جب مجھے ایک اور آفیسر کی وائف نے کال کی۔۔۔ یہ آپ کی طرف ہے۔ میں نے کہا کہ نہیں میری طرف تو آج تک نہیں آیا۔ کہنے لگیں کہ مجھے تو آپ کا انویٹیشن دکھا کر نکلا تھا کہ ڈنر پر جا رہا ہوں۔ خاتون آفیسر نے اسرار کیا کہ آپ لوکیشن شئیر کریں میں آپ کو پک کرتی ہوں آپ نے ایک جگہ چھاپے مارنے میرے ساتھ جانا ہے۔۔۔ یہ وہیں ملے گا۔

یہ بھی پڑھیں: ہمیں بھارت سے ایسا کوئی خطرہ نہیں کہ جس کا مقابلہ نہ کرسکتے ہوں: شاہد خاقان عباسی

بڑے افسر کی حقیقت

میں نے بہت کہا کہ یہ میرا نہیں آپ کا ذاتی گھریلو معاملہ ہے۔ خیر انکے اسرار پر میں ان کے ساتھ چل نکلا فیز 8 میں گھر کے سامنے جا کر انہوں نے نان اسٹاپ ہارن بجانا شروع کردیا۔ چوکیدار باہر نکلا تو اسے کہا کہ۔۔۔۔۔کو کہو کہ عزت سے خود باہر آجائے ورنہ میں نے اندر آکر سب کو گولی مار دینی ہے۔ مذکورہ افسر ہاتھ جوڑتا ہوا باہر آیا کہ پلیز گھر جاؤ میں تمہارے پیچھے آیا۔

یہ بھی پڑھیں: پنجاب حکومت کا گردوں کے مریضوں کیلئے ڈائیلائسز کارڈ لانچ کرنے کا اعلان

گے گروپ کے مسائل

چند ماہ قبل میں اور سینئر کالم نویس محسن گورائیہ لاہور جمخانہ کلب میں بیٹھے ہوئے تھے کہ زوردار تھپر اور خاتون کی گالیوں کی آواز آئی۔ پیچھے مڑ کر دیکھا تو اہم محکمے کے ڈی جی تھپر سے لال منہ کو چھپائے بھاگ رہا تھا کہ جبکہ خاتون گالیاں دے رہی تھی کہ اگر مردوں کے ساتھ ہی منہ کالا کرنا تو اس سے شادی کیوں کی۔

خاتم

بیوروکریسی کا یہ ”گے گروپ“ ہر طرح کی سوشل گیدرنگ سے دور اپنی دنیا میں مگن کام ڈالتا رہتا ہے۔ لیکن ان کے اس قوم لوط والے شوق سے ان کی بیویوں کی زندگی برباد ہوچکی ہے اس لیے وہ کھلم کھلا ان کے دوستوں کو اس بات کے شکوے کرتی ہیں کہ وہ صرف شو پیس اور سٹیٹس سمبل بن کر رہ گئی ہیں اور ان کے خاوند شادی سے پہلے والے شوق سے باہر نہیں نکل رہے۔

پارٹی اور "گے گروپ" دونوں کی خاصیت ہے کہ سوشل گیدرنگ اور دوستوں کی محفل سے الگ تھلگ رہتے ہیں کیونکہ ان کو ذہنی ڈر ہوتا ہے کہ اپنے شوق کے ہاتھوں مجبور صوفے کی بجائے کسی کی گود میں نہ بیٹھ جائیں۔

”گے گروپ“ والے دفتر میں چڑچڑے پن کا شکار اور فرعونیت کا روپ دھارے رہتے ہیں۔ ”گے گروپ“ والے افسران بامشکل تیس سے چالیس ہوں گے لیکن یہ سارے اس مخصوص گروپ کی وجہ سے "کی پوسٹ" انجوائے کر رہے ہیں۔

جاری ہے۔۔۔

نوٹ: یہ مصنف کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔

Categories: بلاگ

Related Articles

Back to top button
Doctors Team
Last active less than 5 minutes ago
Vasily
Vasily
Eugene
Eugene
Julia
Julia
Send us a message. We will reply as soon as we can!
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Mehwish Sabir Pakistani Doctor
Ali Hamza Pakistani Doctor
Maryam Pakistani Doctor
Doctors Team
Online
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Dr. Mehwish Hiyat
Online
Today
08:45

اپنا پورا سوال انٹر کر کے سبمٹ کریں۔ دستیاب ڈاکٹر آپ کو 1-2 منٹ میں جواب دے گا۔

Bot

We use provided personal data for support purposes only

chat with a doctor
Type a message here...