سابق گورنر سندھ محمد زبیر نے گورنر سندھ کو ملنے والی مراعات کی تفصیلات شیئر کردیں
سابق گورنر سندھ کا انٹرویو
کراچی (ویب ڈیسک) سابق گورنر سندھ محمد زبیر نے اپنے عہدے کے دوران فراہم کی جانے والی سہولیات کے بارے میں بات کی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ:
تنخواہ اور سہولیات
میری تنخواہ 80 ہزار روپے تھی، اور مجھے پنشن نہیں ملتی، لیکن میرا خیال ہے کہ یہ 60 سے 64 ہزار روپے ہوگی۔ اس عہدے میں سٹینو گرافر، ڈرائیور، کھانا پینا، نوکر چاکر، اور کاریں شامل تھیں جن کا پٹرول مفت تھا۔
گورنر کے عہدے کی ضرورت
یہ باتیں سینئر صحافی و تجزیہ نگار رؤف کلاسرا کے سوال کا جواب دیتے ہوئے کیں۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا گورنر کی ضرورت واقعی ہے اور یہ ایک رسمی عہدہ ہے؟
ماضی کے تجربات
محمد زبیر نے مزید کہا کہ جب وہ گورنر تھے تو انہوں نے صدر کو ایک تفصیلی خط لکھا کہ ملٹری سیکریٹری کا تصور پرانا ہو چکا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہہ دیا کہ اگر گورنر رکھنا ہے تو مناسب طریقے سے رکھیں۔ گورنر ہاؤس وہی ہے جو برطانوی دور میں چھوڑا گیا تھا اور اس کی مناسب دیکھ بھال کے لیے 30 مالی چاہییں۔ گورنر اور اس کی فیملی کے لئے سہولیات میں بجلی، پٹرول، کاریں اور نوکر چاکر شامل ہیں۔
معاشی اہمیت
محمد زبیر نے کہا کہ جب انہیں گورنر بنایا گیا تو دو اہم چیزیں تھیں۔ انہوں نے کراچی کو معاشی حب قرار دیا کیونکہ سٹاک ایکسچینج، سٹیٹ بینک اور دیگر کاروباری ادارے وہاں موجود ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وفاق کی پالیسی سندھ کراچی سے نافذ ہوتی ہے اور گورنر وفاق کا نمائندہ ہوتا ہے۔ بزنس کمیونٹی کو گورنر کے ساتھ براہ راست رابطہ کرنا چاہیے تاکہ ان کے مسائل جلد حل ہو سکیں۔
سابق گورنر سندھ محمد زبیر کی رائے سے بہت سارے اختلافات کیے جا سکتے ہیں لیکن ایک بات ہے وہ سکرین پر بیٹھ کر وہ باتیں بھی کہہ دیتے ہیں جو دوسرے چھپاتے ہیں۔
مکمل پروگرام لنک
https://t.co/Z8EiwSaS9h via @YouTube@NeoNewsUR @fawadnb @Real_MZubair @NasrullahMalik1 pic.twitter.com/qAHqEJ6LtW— Rauf Klasra (@KlasraRauf) March 18, 2026








