اسرائیل کا ایران کے وزیر انٹیلی جنس اسماعیل خطیب کو ہلاک کرنے کا دعویٰ
اسرائیل کی کارروائی
تل ابیب (ڈیلی پاکستان آن لائن) اسرائیل کا کہنا ہے کہ اس نے منگل کو ایک حملے میں ایران کے وزیر انٹیلی جنس اسماعیل خطیب کو ہلاک کر دیا ہے۔ یہ کارروائی ملک کی اعلیٰ قیادت پر ہونے والے تازہ ترین حملے کے طور پر سامنے آئی ہے، جو کہ ایران کے سکیورٹی چیف علی لاریجانی کی ہلاکت کے ایک دن بعد وقوع پذیر ہوئی۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب میں صحت کی ایمرجنسی: تمام کوششوں کے باوجود حکومت سموگ کے مسئلے پر قابو پانے میں ناکام کیوں ہے؟
حملے کی تفصیلات
اسرائیلی فوج نے ایران کے انٹیلی جنس وزیر اسماعیل خطیب کی ہلاکت سے متعلق تفصیلات جاری کر دی ہیں۔ فوج کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی تہران میں ایک "ٹارگٹڈ اسٹرائیک" کے ذریعے انجام دی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: بانی پی ٹی آئی کی بہن عظمیٰ خان نے عمران خان تک رسائی اور علاج کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کرلیا
اسماعیل خطیب کا کردار
آئی ڈی ایف کے مطابق، خطیب کی زیر قیادت ایرانی وزارتِ انٹیلی جنس نے حکومتی جبر اور مبینہ دہشت گرد سرگرمیوں کی معاونت میں کلیدی کردار ادا کیا۔ بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اسماعیل خطیب خود حالیہ مظاہروں کے خلاف کریک ڈاؤن کے دوران مظاہرین کی گرفتاریوں اور ہلاکتوں میں "اہم کردار" رکھتے تھے۔
ایرانی قیادت پر اثرات
اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اسماعیل خطیب کی ہلاکت ایرانی قیادت کے دیگر اعلیٰ کمانڈروں کی ہلاکتوں کے سلسلے کا حصہ ہے اور اس سے ایرانی نظام کے کمانڈ اینڈ کنٹرول ڈھانچے کو نمایاں نقصان پہنچا ہے۔ دوسری جانب ایران کی جانب سے تاحال اسماعیل خطیب کی ہلاکت سے متعلق ان اطلاعات پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔








