نیب کا 3 سال کے دوران تاریخ کی سب سے بڑی ریکوری 115 کھرب روپے سے زائد رقم واپس لانے کا دعویٰ
نیب کی تاریخی ریکوری
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) قومی احتساب بیورو نے گزشتہ 3 سال کے دوران اپنی تاریخ کی سب سے بڑی ریکوری کا دعویٰ کرتے ہوئے 115 کھرب روپے سے زائد رقم واپس لانے کا انکشاف کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان ریلویز کی پہلی عید اسپیشل ٹرین لاہور سے روانہ
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی میں پیش کردہ رپورٹ
ایکسپریس نیوز کے مطابق یہ تفصیلات سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف میں پیش کی گئی نیب کی کارکردگی اور اصلاحات سے متعلق رپورٹ میں سامنے آئیں۔
یہ بھی پڑھیں: سونے کی قیمت میں بڑی کمی
ریاست کی مالی بچت
رپورٹ کے مطابق ادارے پر خرچ ہونے والے ہر ایک روپے کے بدلے 629 روپے قومی خزانے میں واپس آئے۔ نیب نے 48 لاکھ 50 ہزار ایکڑ سرکاری زمین واگزار کروا کر تقریباً 110 کھرب روپے کی قومی بچت ممکن بنائی۔ مزید برآں ہاؤسنگ سوسائٹیز میں متاثر ہونے والے 1 لاکھ 29 ہزار افراد کے 213 ارب روپے واپس دلائے گئے، جبکہ منی لانڈرنگ کے خلاف کارروائیوں میں 85 ارب 40 کروڑ روپے کے اثاثے منجمد کیے گئے۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعلیٰ مریم نواز کی پاکستان انڈر 16 والی بال ٹیم کو ایشین چیمپئن بننے پر مبارکباد
رکاوٹیں اور تجاویز
رپورٹ میں احتساب کے نظام میں موجود رکاوٹوں کی نشاندہی بھی کی گئی، جس کے مطابق 50 کروڑ روپے سے کم مالیت کے کرپشن کیسز پر کارروائی نہ ہونا ایک بڑی مشکل ہے۔ نیب نے تجویز دی ہے کہ کرپشن کیسز میں ملزم کے ذاتی فائدے کو ثابت کرنے کی شرط ختم کی جائے اور صرف قومی خزانے کو نقصان پہنچانے پر سزا دی جائے۔
یہ بھی پڑھیں: خیبر پختونخوا سے وفد کا دورۂ پنجاب، ویمن پروٹیکشن اتھارٹی کے ہیڈ آفس میں تفصیلی بریفنگ میں شرکت
نیب کا دائرہ اختیار
دستاویزات کے مطابق 100 سے کم متاثرین والے فراڈ کیسز اب نیب کے دائرہ اختیار سے باہر ہیں، جبکہ 100 متاثرین کے بیانات ریکارڈ کرنے کی شرط مقدمات میں تاخیر کی بڑی وجہ ہے۔ احتساب عدالتوں میں ایک ریفرنس کے فیصلے میں اوسطاً 6 سال لگتے ہیں، جبکہ ملک بھر میں 23 میں سے صرف 16 عدالتیں فعال ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: آسٹریلیا کے خلاف میچ کے بعد سپنر عثمان طارق مشکل میں پڑ گئے
بجٹ کی واپسی اور کیسز کی شرح
نیب نے کفایت شعاری مہم کے تحت 238 آسامیاں ختم کر کے 66 کروڑ روپے کا بجٹ بھی واپس کیا۔ سال 2025 میں نیب کے 58 فیصد کیسز میں سزائیں ہوئیں جبکہ 42 فیصد ملزمان بری ہو گئے۔
آرٹیفیشل انٹیلیجنس کا استعمال
رپورٹ کے مطابق بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے لیے قائم خصوصی سیل کو مزید فعال بنانے اور کرپشن کی تحقیقات میں آرٹیفیشل انٹیلی جنس کے استعمال کی بھی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔








