امریکا نے 50 ممالک کے لیے ویزا قوانین مزید سخت کردیئے۔
نئے ویزا قوانین کا آغاز
واشنگٹن (ڈیلی پاکستان آن لائن) امریکا نے سیاحتی اور کاروباری ویزوں کے حصول کے لیے نئے سخت قوانین متعارف کرا دیے ہیں جن کے تحت اب 50 ممالک کے شہریوں کو ویزا درخواست دیتے وقت 15 ہزار ڈالر کی قابلِ واپسی ضمانت جمع کرانا ہوگی۔
یہ بھی پڑھیں: اپنی خوشیوں میں ان کو بھی شامل کریں جو ضرورت مند ہیں: فاروق ستار
امریکی حکومت کی امیگریشن پالیسی
غیر ملکی خبر رساں اداروں کے مطابق یہ فیصلہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حکومت کی جانب سے امیگریشن پالیسی سخت کرنے کے سلسلے کی تازہ کڑی ہے۔ نئی توسیع کے بعد مزید 12 ممالک کو اس پروگرام میں شامل کیا گیا ہے جبکہ اس سے قبل 38 ممالک پہلے ہی اس فہرست میں موجود تھے۔
یہ بھی پڑھیں: خیبرپختونخوا حکومت نے اپنی وسائل سے ایک ارب 80 کروڑ کی لاگت سے 112 گاڑیاں بلٹ پروف کروا لیں
نئے ضابطے کی تفصیلات
نئے ضابطے کے تحت یہ شرط خاص طور پر مختصر مدت کے کاروباری اور سیاحتی ویزوں پر لاگو ہوگی۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ اس اقدام کا مقصد ایسے افراد کی حوصلہ شکنی کرنا ہے جو ویزا مدت ختم ہونے کے بعد بھی امریکا میں قیام جاری رکھتے ہیں۔ اگر ویزا ہولڈر مقررہ مدت پوری ہونے پر واپس اپنے ملک چلا جائے یا ویزا حاصل کرنے کے باوجود سفر نہ کرے تو جمع کرائی گئی 15 ہزار ڈالر کی رقم واپس کردی جائے گی۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم شہبازشریف نے معیشت کے بارے میں بڑا فیصلہ لے لیا
نئے شامل کردہ ممالک
جن نئے ممالک کو اس فہرست میں شامل کیا گیا ہے ان میں کمبوڈیا، ایتھوپیا، جارجیا، گریناڈا، لیسوتھو، ماریشس، منگولیا، موزمبیق، نکاراگوا، پاپوا نیو گنی، سیشلز اور تیونس شامل ہیں۔
تنقید اور انسانی حقوق کی تنظیموں کے خدشات
امریکی حکومت کا کہنا ہے کہ ویزا بانڈ پروگرام سے غیر قانونی قیام کی شرح کم کرنے میں مدد ملی ہے، تاہم انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس پالیسی پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے سفر کی آزادی اور قانونی حقوق متاثر ہو سکتے ہیں۔ یہ اقدام امریکا کی وسیع تر سخت امیگریشن حکمت عملی کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے جس میں ویزوں کی منسوخی، ملک بدری کی کارروائیاں اور درخواست دہندگان کی مزید سخت جانچ پڑتال بھی شامل ہے.








