چند دن کی 1965ء کی جنگ نے ملکی معاشی حالات ابتر کردئیے، لوگوں کو تنگی کا ملال نہ تھا جنگ میں سرخرو ہونے کی وجہ سے سر فخر سے بلندیوں پر تھا
مصنف: ع۔غ۔ جانباز
قسط: 90
یہ بھی پڑھیں: سالگرہ میں تحائف کے تبادلے پر جھگڑا، شوہر نے بیوی اور ساس کو قتل کر دیا۔
1965ء کی جنگ اور اس کی تباہکاریاں
چند دن کی 1965ء کی جنگ نے ملکی معاشی حالات ابتر کردئیے۔ ہمیں تنخواہ باقاعدہ ملنی بند ہوگئی۔ کبھی 2 ماہ کبھی 3 ماہ بعد تنخواہ ملتی۔ لیکن چونکہ مسلّط کی گئی جنگ میں سرخرو ہوئے تھے لہٰذا لوگوں کو اس تنگی کا ملال نہ تھا بلکہ اُلٹا جنگ میں سرخرو ہونے کی وجہ سے پاکستانی قوم کا سر فخر سے بلندیوں پر تھا۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم کی سینیٹر شیری رحمان کے گھر آمد، بیٹی کے انتقال پر تعزیت اور فاتحہ خوانی کی۔
یادگار شہدا کی زیارت
پھر کچھ عرصہ بعد "میجر عزیز بھٹی شہید" کی جائے شہادت دیکھنے کو دل چاہا تو ہڈیارہ پل کے پاس بی آر بی نہر پر اُن کے مدفن میں دعائے مغفرت کی اور ساتھ ہی اُس "بینکر" پر کھڑا واہگہ بارڈر کی طرف نظر کیے سوچتا رہا تھا کہ یہ جذبہ شہادت ہی تھا جو توپوں کے گولوں کی بوچھاڑ میں "میجر عزیز بھٹی شہید" سینہ تانے اپنے جوانوں کی کمان کرتے شہید ہوئے۔
پھر اُدھر جی ٹی روڈ پر واہگہ بارڈر کی طرف "دو یادگارِ شہدا" پر بھی حاضری دی اور دعائے مغفرت کی کہ ہمارے نڈر نوجوان ملکی دفاع میں اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر کے جام شہادت نوش کر کے سرخرو ہوئے۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب کابینہ کی قائمہ کمیٹی برائے قانون سازی و نجکاری کا اجلاس، اہم فیصلے
ضلع مظفر گڑھ کا سفر
اِس ضلع میں سروے کرتے کافی وقت گذارا۔ سب سے پہلا پڑاؤ "خان گڑھ ایریگیشن ریسٹ ہاؤس" میں تھا۔ "نواب زادہ نصراللہ خان" اُس علاقہ کا وڈیرہ اور ایک سلجھا ہوا سیاست دان تھا۔ اِس کے علاوہ بھی مظفر گڑھ میں "کھر فیملی" اور دوسری وڈیرہ فیملیز کا ہی سکّہ چلتا تھا۔ عام لوگ چھوٹے کاشتکار تھے یا اِن وڈیروں کے مزارع، غربت عام تھی، غربت کے باوجود ایک سے زیادہ شادیوں کا رواج عام تھا۔ دو دو تین تین شادیاں کر کے عام آدمی بھی عورتوں کو کام پر مزدوری کے لیے بھیج دیتا اور خود بیٹھے بھنگ کے نشے میں موج کرتے۔ خانگڑھ ایریگین ریسٹ ہاؤس کے بعد جتوئی ریسٹ ہاؤس اور پھر "شیر سلطان ریسٹ ہاؤس" میں قیا م رہا۔
یہ بھی پڑھیں: توہین عدالت کیس؛اسلام آباد ہائیکورٹ نے وزارت داخلہ کو رپورٹ جمع کروانے کیلئے مزید وقت دیدیا
سردیوں کی شدت اور مقامی لوگوں کی حالت
سردیوں کا موسم تھا، صبح کے وقت ریسٹ ہاؤس میں کمبل اوڑھ کر بیڈ سے باہر برآمدے میں بنچ پر لیٹا ہوا تھا۔ کہ سامنے کے کوارٹروں سے ریسٹ ہاؤس کا خاکروب نکلا جس کے جسم پر تو کپڑے تھے لیکن سر ننگا اور پاؤں میں جُوتا نہ تھا۔ پیچھے جو نظر پڑی تو اُس کے چار بچّے اُس کے پیچھے خراماں خراماں چلے آرہے۔ پہلے بچّے کے دھوتی اور قمیض تھی سر سے پاؤں سے ننگا تھا۔ دوسرے لڑکے کے تن پر صرف قمیض تھی، نیچے صرف پاؤں میں چپل سی تھی، تیسرے لڑکے کے نیکر سی تھی اور بس۔ جو سب کے پیچھے جو چلا آرہا تھا وہ بالکل ننگ دھڑنگ تھا۔ میں بیٹھا سوچتا رہا کہ سردی کے مارے کمبل اوڑھے دُبکا بیٹھا ہوں۔ یہ لوگ اِس حال میں بے دھڑک جا رہے ہیں۔ قدرت نے اِن میں "Resistance Power" کو بڑھا دیا ورنہ وہ اِس شدید سردی کے تھپیڑے کب برداشت کر سکتے۔
یہ بھی پڑھیں: اڈیالہ جیل میں میڈیکل بورڈ کے ڈاکٹرز کی نگرانی میں بانی پی ٹی آئی عمران خان کی آنکھوں کا چیک اپ جاری
کھجوروں کی کثرت
مظفر گڑھ کا اکثر علاقہ کھجوروں کے باغات کا مسکن ہے۔ ہمارے سروے کے دوران تو فصل پک چکی تھی اور ہم سرکاری "مُفت خورے" اپنا سوئل سروے کا کام کرتے جب ذرا سی بھی بھوک چمکتی تو وقفہ کر کے بیٹھ جاتے اور لیبر کو حکم صادر فرما دیتے کہ جاؤ درختوں پر سے خستہ و لذیذ "ڈوکے" اُتار لاؤ۔ شکم پروری جاری رہتی۔ پھر جو فرائض منصبی کا خیال کوندتا تو چل پڑتے اور اگلی جگہ پر لیبر سے "بور" کروا کے سمپل چیک کر کے رجسٹر میں اندراج کرتے جاتے۔
اس طرح بلا مبالغہ روزانہ ہر کوئی ڈیڑھ دو کلو "ڈوکے" پیٹ کی نذر کر ہی جاتے اور دوسری غذائی اشیاء کا بندوبست کرنے کی تو ضرورت ہی نہ پڑتی اور نہ ہی اتنی زیادہ کھجوروں کی پیدا کردہ گرمی جسموں کو متاثر کرتی۔ سروے کرتے کرتے جوانی کا عالم تھا جو کچھ گذرے وقتوں کے عشاّقانِ عظام کی بھی یاد آجاتی۔
یہ بھی پڑھیں: فلسطین کا مسئلہ اس بات کا امتحان ہے کہ بین الاقوامی قانون کی کوئی حیثیت ہے یا نہیں: ایران
رنگ پور کھیڑے کا سفر
ایک دفعہ مظفر گڑھ سے "رنگ پور کھیڑے" کی ورق گردانی کے لیے نکل کھڑے ہوئے۔ مظفر گڑھ سے یہ فاصلہ بیس پچیس کلو میٹر کا ہوگا۔ مسحور کُن یادوں کے سہارے جارہے تھے کہ سرِ راہ بائیں طرف ایک چھوٹی سی آبادی کے پاس ایک جمگھٹا سا نظر پڑا تو رک گئے۔ حقیقت حال کا پتہ چلا کہ Flat کڑاہی میں لبا لب دیسی گھی ڈال کر پراٹھے تلے جارہے ہیں۔ انتظار کیا۔ باری آنے پر پراٹھے مل گئے۔ واہ کیا مزا تھا۔ اُن پراٹھوں کا، زبان چٹخارے لیتے ہار نہ مانے۔ آگے سفر جاری رہا اور آخر کا رنگ پور کھیڑے کی حدود میں جا داخل ہوئے۔ وہاں تلاشِ بسیار کے باوجود کوئی شخص "ہیر رانجھا" کی ورق گردانی کے لیے نہ مِل سکا لہذا واپس آگئے۔ (جاری ہے)
نوٹ
یہ کتاب "بک ہوم" نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں) ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔








