بحر ہند کے پانیوں پر چلتے چھوٹے بڑے بحری جہازوں کا نظارہ دلفریب تھا۔
مصنف: شہزاد احمد حمید
قسط: 471
ہماری حیرانگی کی بات یہ تھی کہ بحر ہند کے پانیوں پر تعمیر کردہ hanging bridge سے ہماری بس 60 کلو میٹر کی رفتار سے 20 منٹ تک دوڑتی رہی تھی۔ اس پل کے نیچے سے بحر ہند کے پانیوں پر چلتے چھوٹے بڑے بحری جہازوں کا نظارہ دلفریب تھا۔ 6 رویہ اس پل کو دیکھ کر انسانی آنکھ دنگ اور عقل حیران رہ جاتی ہے۔
ٹال پلازہ کا نظام
ٹال پلازہ پر 3 کیٹگری کی گاڑیاں گزرتی ہیں۔ پہلی جن کے ماتھے پر کمپیوٹر والا ٹوکن لگا ہوتا ہے۔ یہ تقریباً 40 کلو میٹر کی رفتار سے گزرجاتی ہیں۔ ٹال پلازہ پر نصب خود کار کمپیوٹر نظام دور سے ہی آنے والی گاڑی کے ماتھے پر لگے ٹوکن کو پڑھ لیتا ہے۔ دوسری وہ گاڑیاں جن کے پاس نقد ٹوکن کی پوری پوری رقم ہوتی ہے اور تیسری وہ گاڑیاں جن کے پاس بڑے نوٹ ہوتے ہیں اور انہیں باقی ریز گاری لینی ہوتی ہے۔
80 فیصد گاڑیوں پر ٹوکن ہی لگے تھے۔ اس قوم کے لئے وقت کی بہت اہمیت ہے اور ان کی ترقی کی شاید بڑی وجہ بھی وقت کی پابندی ہے۔
سڑکوں کی ٹریفک
جیسے جیسے سیول شہر پیچھے رہتا جارہا تھا سڑک پر ٹریفک بتدریج کم ہوتی جا رہی تھی۔ اچانک پانچ لائینز والی شاہراہ چار لائینز میں بدلی گئی۔ شہر سے نکلنے والی ٹریفک زیادہ ہونے کی وجہ سے ٹریفک لائینز بھی زیادہ ہیں۔ ٹریفک کا دباؤ کم ہوا تو ایک لائن کم کر دی گئی۔
ایسا ہی نظام شہر میں داخلے کے وقت بھی ہے۔ ہمارے ملک کے بالکل برعکس جہاں بے ہنگم ٹریفک ہے۔ شہر کے باہر سے چار یا تین لائینز آتی ہیں تو شہر میں داخل ہوتے دو لائینز رہ کر ٹریفک کو اکثر و بیشتر جام کئے رکھتی ہیں۔ ہم نے کوریا میں گزارے 15 دن میں ایک بار بھی ٹریفک جام نہیں دیکھا، نہ ہارن کی آواز سنی اور نہ ہی کسی موٹر کو لائن سے باہر چلتے دیکھا۔
ڈسپلن کی اہمیت
ڈسپلن آدھے مسائل حل کر دیتا ہے لیکن بدقسمتی سے وطن عزیز میں اس کا فقدان ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ نظم و ضبط توڑنا ہم اپنی شان اور آن سمجھتے ہیں۔
کوئیکا ہیڈ کواٹرز
2 گھنٹے کے سفر کے بعد ہم اپنی پہلی منزل KOICA ہیڈ کواٹرز پہنچے تو تھکن چہروں سے عیاں تھی۔ دن کے 11 بجے تھے۔ شہر سے ہٹ کر یہ شاندار عمارت اس ملک کی ترقی کی ایک اور مثال تھی۔ استقبالیہ سے لے کر یہاں رہائشی کمروں، ڈائیننگ ہالز سبھی سے جددیت ڈھلکتی تھی۔
یہاں کا سٹاف انتہائی تربیت یافتہ، خوش اخلاق اور چہرے پر دلپذیر مسکراہٹ سجائے تھا۔ چائے کا فی سے فارغ ہوئے تو ہاتھ میں فارم تھما دئیے گئے۔ اس فارمیلٹی سے فارغ ہو کر ہم نے پاسپورٹ جمع کرائے اور ہمیں گلے میں لٹکانے والے نام کے کارڈ دئیے گئے۔
کمرے الاٹ ہوئے۔ سامان اٹھائے کمروں میں پہنچے تو نیند کی دیوی مزید انتظار کے لئے تیار نہ تھی۔ مجھے وہاں لے گئی جہاں اسے لے جانا چاہیے تھا۔
کوئیکا کے مقاصد
اگلے روز ہمیں کوئیکا کے بنیادی مقاصد اور رولز سے آگاہ کیا گیا۔ سیر سپاٹے کے لئے تین تین سو ڈالر بھی دئیے گئے۔ یہ بھی بتا دیا گیا کہ یہاں کسی خاتون سے چھیڑ چھاڑ مہنگی پڑ سکتی ہے۔
ڈیپورٹ ہونے کے علاوہ اپنے ملک میں بھی تادیبی کاروائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ یہ بھی بتا دیا گیا کہ کوریا کے پینتالیس (45) فیصد لوگ لا دین ہیں اور یہ بتانے والی حسینہ کا تعلق بھی اسی فرقہ سے تھا۔
نظام و تنظیم
یہاں کا نظم و ضبط مثالی تھا۔ ناشتہ صبح ساڑھے سات سے ساڑھے آٹھ بجے، دوپہر کا کھانا ایک اور دو بجے کے درمیان جبکہ رات کا کھانا 7 اور 8 بجے کے درمیان۔ ہمارے لئے حلال کھانوں کا ہی بندوبست تھا۔ ناشتہ بھی لاجواب تھا جبکہ دوپہر اور رات کے کھانوں میں بھی کافی ورائیٹی ہوتی تھی۔
سیول شہر کی سیر
اگلے روز 10 بجے ہم خاتون گائیڈ کے ہمراہ سیول شہر کی سیر کو روانہ ہوئے۔ سیول دنیا کے مہنگے ترین شہروں میں سے ایک ہے۔ یہاں پاؤ بھر مچھلی پاکستانی تقریباً پچیس (25000) روپے کی ملتی تھی، مقامی کرنسی ”یوان“ ایک ڈالر میں پندرہ ہزار (15000) ملتے تھے۔ اس شہر کی صفائی بھی قابل دید تھی۔
(جاری ہے)
نوٹ: یہ کتاب ”بک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں) ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔








