برطانیہ کا امریکا کو فوجی اڈے فراہم کرنا جارحیت میں شمولیت تصور ہوگا: عراقچی
ایرانی وزیر خارجہ کا برطانوی ہم منصب سے رابطہ
تہران (ڈیلی پاکستان آن لائن) ایرانی وزیر خارجہ نے برطانوی ہم منصب سے ٹیلیفونک رابطہ کیا اور دو ٹوک مؤقف بیان کیا کہ امریکا کو فوجی اڈے فراہم کرنا جارحیت میں شمولیت تصور ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد اور خیبر پختونخوا میں زلزلہ
ایران کی جانب سے جنگ کی دھمکی
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق، ایران نے خبردار کیا ہے کہ ایسے ممالک کو جنگ کا حصہ سمجھا جائے گا۔ ایرانی قیادت کا کہنا ہے کہ کسی بھی قسم کی مدد کو براہِ راست شرکت تصور کیا جائے گا، اور ایران پہلے ہی خبردار کر چکا ہے کہ دشمن کے تمام فوجی اڈے ہدف بن سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ستاروں کی روشنی میں آپ کا آج (منگل) کا دن کیسا رہے گا ؟
ایرانی وزیر خارجہ کا بیان
قبل ازیں، ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ایران نے اپنی فوجی طاقت کا اب تک صرف معمولی حصہ استعمال کیا ہے، اور اگر ایرانی انفراسٹرکچر پر دوبارہ حملہ کیا گیا تو ردعمل انتہائی سخت ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں: شیر پاؤ پل جلاؤگھیراؤ کیس کا 42 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری
ایران کی جانب سے تحمل اور تعمیراتی اقدامات
ایکس پر جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اب تک ایران نے کشیدگی کو بڑھانے سے گریز کیا ہے اور عالمی برادری کی درخواستوں پر عمل کیا ہے۔ موجودہ ردعمل ایران کی طاقت کا صرف چند فیصد ہے، اور اگر جنگ روکنی ہے تو شہری آبادیوں کو پہنچنے والے نقصانات کا ازالہ لازمی ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں: بلوچ قوم کو لاحاصل جنگ کی طرف دھکیلا جا رہا ہے: وزیر اعلیٰ بلوچستان
دفاعی اقدامات اور امن کی ضمانت
وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ ایران کی ہر کارروائی دفاعی نوعیت کی ہے، اور کسی بھی اضافی حملے یا خطرے کی صورت میں سخت اور جامع ردعمل دیا جائے گا۔ تحمل اور تعمیری اقدامات ہی خطے میں امن کے قیام کی ضمانت ہیں۔
امریکی طیارے کی ایمرجنسی لینڈنگ
خیال رہے کہ امریکی نشریاتی ادارے سی این این نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کی جانب سے فائرنگ کا نشانہ بنائے جانے کے بعد ایک ایف 35 اسٹیلتھ طیارے نے مشرق وسطیٰ کے امریکی اڈے پر ہنگامی لینڈنگ کی ہے، جبکہ امریکا کا بی 52 بمبار طیارہ واپس برطانیہ پہنچ گیا ہے۔







