راس لفان توانائی کمپلیکس پر حملہ: قطر کی ایل این جی برآمدات میں 17 فیصد کمی، سالانہ 20 ارب ڈالر کا نقصان، قطری وزیر
قطر کی ایل این جی برآمدی صلاحیت میں کمی
دوحہ(ڈیلی پاکستان آن لائن) قطر کے وزیرِ توانائی کا کہنا ہے کہ راس لفان تنصیب پر حملے کے نتیجے میں قطر کی مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کی برآمدی صلاحیت اگلے پانچ سالوں میں 17 فیصد کم ہو جائے گی، جس سے ملک کو سالانہ آمدنی میں 20 ارب ڈالر کا نقصان ہو گا۔
یہ بھی پڑھیں: کراچی: ٹینکر ڈرائیور کی ٹریفک اہلکار کو اغوا کرنے کی کوشش، 3 پولیس اہلکار زخمی
حملوں کا اثر اور صنعتی پروسیسنگ
بی بی سی اردو کے مطابق صنعتی پروسیسنگ یونٹ ٹرین کا استعمال کرتے ہوئے قدرتی گیس کو بہت کم درجہ حرارت پر ٹھنڈا کر کے ایل این جی تیار کی جاتی ہے۔ قطری وزیر کا کہنا ہے کہ ایرانی حملوں سے پلانٹ کی 14 ٹرینوں میں سے دو کو نقصان پہنچا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستانی حدود کی بندش سے بھارتی پروازوں کیلئے مشکلات، ویانا کو ٹرانزٹ سٹیشن بنالیا
ایرانی جواب
ایران کے مطابق یہ راس لفان پر حملہ بدھ کو اس کے جنوبی پارس گیس فیلڈ پر اسرائیلی حملے کا جواب تھا۔
یہ بھی پڑھیں: ملک میں سیکیورٹی فورسز اور لیویز کا مشترکہ آپریشن، فتنہ الخوارج کے 2 ٹھکانے تباہ، 9 دہشت گرد ہلاک، 8 گرفتار، بھاری مقدار میں اسلحہ اور گولہ بارود برآمد
مرمت یا تعمیر نو
سنگاپور میں مقیم کلین فیول مارکیٹ انٹیلی جنس فراہم کرنے والی فرم ہائی سائٹ کے چیف کمرشل افسر سیاران رو بی بی سی کو بتاتے ہیں کہ پانچ سال کا عرصہ صرف مرمت کے لیے نہیں بلکہ یہ ’ایک مکمل تعمیر نو ہے۔‘
یہ بھی پڑھیں: سعودی عرب کے بعد کئی دیگر ممالک بھی پاکستان کے ساتھ اس طرح کے معاہدے کرنا چاہتے ہیں،اسحاق ڈار
عالمی منڈی میں قطر کی حیثیت
ایشیائی ممالک خاص طور پر جاپان، جنوبی کوریا، انڈیا اور چین قطری ایل این جی پر سب سے زیادہ انحصار کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ یورپ میں، اٹلی اور بیلجیم بھی اس کے بڑے بڑے گاہکوں میں شامل ہیں۔ یوکرین کی جنگ کے نتیجے میں روسی درآمدات سے منہ موڑنے کے بعد یورپ کا مشرق وسطیٰ کی گیس پر تیزی سے انحصار بڑھتا جا رہا ہے۔
قطر کا کردار
قطر قدرتی گیس کی عالمی منڈی کے سب سے بڑے کھلاڑیوں میں سے ایک ہے۔








