کہ آج عید ہے شعلوں کو شبنمی کر دے
غزہ کی عید
غزہ میں عید ہے، بچے خوشی مناتے ہیں
لہو سنے ہوئے کپڑوں میں گیت گاتے ہیں
وہ گا رہے ہیں کہ اے دو جہان کے مالک
زمین، دشت و جبل، آسمان کے مالک
یہ بھی پڑھیں: باکسنگ ڈے ٹیسٹ میں پہلے ہی دن 20 وکٹیں گر گئیں
خدا کی قدرت
اندھیری رات کو قندیل بھیج دیتا ہے
تو ابرہوں کو ابابیل بھیج دیتا ہے
ستم گری سے عداوت مزاج ہے تیرا
فلک نشین جہانوں پہ راج ہے تیرا
یہ بھی پڑھیں: چہرے پر غصہ تھا مگر خاموش رہے، بات آئی گئی ہو گئی، اندر کا قانون دان جاگ چکا تھا، نئے پیٹرن پر فیصلے لکھنے پڑے، پھر سے دن رات کی محنت۔
نبی کی مثالیں
عدو کی گود میں موسیٰ کو پالنے والے
سیاہ رات سے سورج نکالنے والے
یہ بھی پڑھیں: انگلینڈ سے شکست کے بعد سلمان علی آغا کی اہلیہ اور بیٹے کو آن لائن ہراسانی کا سامنا
الہی مدد
ظلام بحر میں یونس کو پالتا ہے تو
بھنور سے نوح کی کشتی نکالتا ہے تو
یہ بھی پڑھیں: سونا مزید مہنگا، قیمت پہلی بار 3 لاکھ 40 ہزار 6 سو روپے کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی
فصل بہار
خزاں کا دور تیرے حکم سے ہو فصل بہار
تیری رضا ہو تو آتش کدے بنیں گلزار
یہ بھی پڑھیں: توشہ خانہ ٹو کیس: وکلا اور فیملی ممبران کو سماعت میں آنے کی اجازت
ہماری فریاد
تیرا کرم ہو تو کعبے سے فیل رک جائے
ہو تیرا حکم تو دریائے نیل رک جائے
زمین پہ جھوٹے خداؤں کے ہم ستائے ہوئے
ہیں آسماں کی طرف دونوں ہاتھ اٹھائے ہوئے
یہ بھی پڑھیں: ٹک ٹاکر سامعہ حجاب نے حسن زاہد کو معاف کر دیا، دونوں میں غیر مشروط صلح ہو گئی
پاک زمین
زمین پاک نجس ہاتھیوں سے ہے ویران
ہمارا پاک لہو ارض پاک پر قربان
فضا میں اڑتے ہوئے ہاتھیوں کی یہ چنگھاڑ
یہ خاک وخون میں غلطاں عزیمتوں کے پہاڑ
یہ بھی پڑھیں: بھارتی فوج کے کرنل کا اپنے اعلیٰ افسران پر اہلیہ سے زیادتی کا الزام
خواب و حقیقت
گھروں کی قبر میں مدفون بے دوا بیمار
کئی گھروں پہ پڑی ہے پڑوس کی دیوار
لہو میں بھیگ کے سوکھے ہوئے بچھونوں کی
ہے التجا میرے ٹوٹے ہوئے کھلونوں کی
یہ بھی پڑھیں: بھارت کا “سارک” سکیم کے ویزے رکھنے والے پاکستانی شہریوں کو 48 گھنٹوں میں ملک چھوڑنے کاالٹی میٹم ، سیما حیدر کا مستقبل کیا ہوگا؟ جانیے
رحمت کی دعا
رحیم کھول تیرے رحم کے خزانے کو
سکوت بخش دے ہر توپ کے دہانے کو
بنا کے آگ سے ظلمت کے ساتھیوں کے لیے
پرند بھیج دے لوہے کے ہاتھیوں کے لیے
عید کی خوشیاں
چراغ طور اندھیروں میں کچھ کمی کر دے
کہ آج عید ہے شعلوں کو شبنمی کر دے
کلام: سرفراز بزمی








