عراقی مزاحمت کاروں نے اربیل میں امریکی ایئر بیس پر ریڈار سسٹم کو تباہ کردیا
عراقی مزاحمت کاروں کا کامیاب حملہ
اربیل (مانیٹرنگ ڈیسک) عراقی مزاحمت کاروں نے اربیل میں امریکی ایئر بیس پر ریڈار سسٹم کو تباہ کردیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: امریکہ نے بھارت کو ایک اور جھٹکا دے دیا، بھارت کے لیے ایران کی چاہ بہار بندرگاہ پر پابندیوں سے استثنیٰ ختم کر دیا
معلومات کی تفصیلات
تفصیلات کے مطابق، عراق میں سرگرم مزاحمتی گروہ نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے اربیل میں واقع امریکی زیرِ انتظام ہریر ایئر بیس کے 3 اہم اور حساس مقامات کو نشانہ بنا کر تباہ کر دیا ہے۔ اس کے بعد وہاں امریکی فوجی سرگرمیوں میں نمایاں کمی آئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: نیشنل سائبر کرائم انوسٹی گیشن ایجنسی نے معروف وی لاگر رجب بٹ، اقرا کنول اور انس علی کو طلب کرلیا
امریکی فوجی نقل و حرکت میں کمی
ایرانی میڈیا کے مطابق بغداد میں موجود ایک نمائندے نے بتایا کہ مسلسل میزائل اور ڈرون حملوں کے بعد اس اڈے سے امریکی فوجی نقل و حرکت تقریباً رک گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پولیس افسران کی اکثریت ایمانداری سے تفتیش نہیں کر سکتی نوکری خطرے میں ہوتی ہے، سیاستدان ایماندار افسران اپنے علاقے میں برداشت نہیں کر سکتے
حملوں کی شدت
’’جنگ‘‘ کے مطابق، عراق میں ایران کے حمایت یافتہ مسلح دھڑوں کے اتحاد ’’اسلامک مزاحمتی گروپ عراق‘‘ نے دعویٰ کیا ہے کہ گزشتہ 2 ہفتوں کے دوران مربوط حملوں میں اڈے کے اہم انفرااسٹرکچر کو بارہا نشانہ بنایا گیا، جن میں مرکزی ریڈار سسٹم بھی شامل ہے، جو متعدد بار حملوں کے بعد تباہ کر دیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: علی امین گنڈا پور کی مبینہ گرفتاری کی خبر پر قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر عمر ایوب کا سنسنی خیز بیان
امریکی فضائی سرگرمیوں میں کمی
رپورٹ میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ ان حملوں کے نتیجے میں اربیل اڈے پر امریکی فضائی سرگرمیاں تقریباً 95 فیصد تک کم ہو گئی ہیں، اور لاجسٹک پروازیں بھی بڑی حد تک معطل ہو چکی ہیں۔ امریکی افواج اب محدود نگرانی کے لیے ہیلی کاپٹرز کے بجائے ڈرونز پر انحصار کر رہی ہیں۔
بغداد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر حملہ
اسی طرح بغداد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے اندر واقع وکٹوریہ بیس پر بھی میزائل حملے کا دعویٰ کیا گیا ہے، جس میں مبینہ طور پر امریکی اہلکاروں کو جانی نقصان پہنچنے کی بات بھی کی گئی ہے۔ تاہم ان دعوؤں کی اب تک تصدیق نہیں ہوسکی۔








