کوریائی آئی ٹی کی دنیا میں بادشاہ کی حیثیت رکھتے ہیں، تعلیم میں سو فی صد پڑھے لکھے لوگ، با شعور قوم کا با شعور ملک، چینی بہترین دوست ہیں
مصنف: شہزاد احمد حمید
قسط: 473
یہ بھی پڑھیں: اظہارِ رائے کی آزادی ہے لیکن ’ریڈ لائن‘ عبور کرنے پر کارروائی ہوگی، اعظم نذیر تارڑ
سول بازار کی رونقیں
اس بازار پر شام اتر آئی تھی اور ہر طرف چکا چوند روشنیاں تھیں، مرد و زن کی قطاریں، گہما گہمی ہم جیسے سیاحوں کو حیران و پریشان کرتی تھی۔ یہاں چینی یا جاپانی اکثریت میں آتے ہیں۔ چینی ان کے بہترین دوست اور بڑے بھائی جیسے ہیں جبکہ جاپانیوں کو یہ اچھا نہیں سمجھتے کہ کوریا عرصہ دراز تک جاپان کے زیر تسلط رہا اور پھر جاپان سے آزادی کے بعد کورین وار نے اسے تباہ برباد کر دیا تھا۔
جنرل پارک نے اس چرسی، افیمی اور سست ترین قوم کو بام عروج پر پہنچا دیا اور آج دنیا بھر میں اس کی حیثیت مسلمہ ہے۔ جنرل پارک نے 1969ء میں حکومت پر قبضہ کیا اور اگلے 10 سالوں میں اس قوم اور ملک کی کایا پلٹ کر رکھ دی۔ گو 1979ء کی فوجی بغاوت میں اسے گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا مگر آج بھی وہ کورین قوم کے دلوں میں ہیرو کی طرح بستا ہے۔
سول کی شاہرہ، پارکوں اور شہر میں جگہ جگہ لگے اس کے چھوٹے بڑے مجسمے کورین قوم کی اپنے لیڈر اور محسن سے محبت اور عقیدت کا اظہار ہیں۔ کاش ہمارا بھی کوئی فوجی طالع آزما پارک جیسا ہی ہوتا۔ جنرل پارک نے تن تنہا اپنے زرعی ملک کو انڈسٹریل ملک بنا دیا۔ ہر ملک اور قوم کی تاریخ میں ایک ہی لیڈر ہوتا جو اسے بام عروج بخش دیتا ہے۔ یہی تاریخ بتاتی ہے۔
رو لر مائیگریشن روکنے کے لئے اس نے saemual undong شروع کی، دنیا کی دوسری بڑی سٹیل مل "پھو ہانگ" شہر میں لگا کر سام سنگ، ایل جی، ہنڈائی اور کیا جیسی انڈسٹری کی داغ بیل رکھی اور جلد ہی کوریائی معاشیات میں ہی نہیں بلکہ دنیا کی معاشیات میں بھی انقلاب برپا کر دیا۔ ہر کورین کے ہاتھ میں سام سنگ کا فون ان کی حب الوطنی ظاہر کرتا ہے ویسے ہی جیسے ہر امریکی کے ہاتھ میں "ایپل کا فون"۔ کورین آئی ٹی کی دنیا میں بادشاہ کی سی حیثیت رکھتے ہیں۔ تعلیم میں سو فی صد پڑھے لکھے لوگ، یونیوسٹیوں جدید تعلیم کے گڑھ ہیں۔ با شعور قوم کا با شعور ملک۔
یہ بھی پڑھیں: سندھ: ماحول کی بہتری کیلئے پلاسٹک شاپنگ بیگز پر مکمل پابندی عائد
الیویرا اور کورین خواتین
بات کورین بازار سے کہاں پہنچ گئی ہے۔ جس بازار میں ہم مٹر گشت کر رہے تھے وہ اشیاء سے بھرا تھا۔ لوگوں کی بھیڑ تھی اور خوب خرید و فروخت بھی ہو رہی تھی۔ جگہ جگہ مساج پارلر تھے لیکن کیوں مجھے اپنی طرف متوجہ نہ کر سکے یا کچھ میں ہی شرما گیا تھا البتہ مجھے مساج پارلر نہ جانے کا پچھتاوہ ہی رہا۔
بیگم کے لئے میں نے یہاں سے ایک گرم شال اور چہرے کی سجاوٹ اور بناوٹ کے لئے "الیو ویرا کریم" بھی خریدی۔ کورین خواتین کی نازک اور خوبصورت جلد کی بڑی وجہ الیویرا کریم کا بھرپور استعمال ہے۔ مجال ہے جسم پر کوئی بھی بال ہو۔ نرم اور ملائم جلد کہ ہاتھ بس پھسلتا ہی چلا جائے۔
سیر کا اختتام
سارا دن کی یہ سیر نہایت مفید، پر لطف اور معلوماتی تھی۔ اس سے کوریا کی تاریخ اور کلچر سمجھنے میں بہت مدد ملی۔ اس روز چھٹی نہیں تھی لیکن ملکی اور غیر ملکی سیاحوں کا جم غفیر بادشاہ کے قدیم محل اور بدھ کا مندر دیکھنے امڈ آیا تھا۔ رات کا کھانا بھی خوب کھایا اور ایسے خواب خرگوش ہوئے کہ فجر کے وقت ہی آنکھ کھلی۔ یہاں ہم با جماعت نماز طارق شیخ کی امامت میں ادا کرتے تھے۔ 2 جمعہ جو یہاں آئے طارق نے ہی پڑھائے۔ مجھے اپنے قیام کے دوران یہاں کوئی مسجد دکھائی نہیں دی تھی۔
نوٹ: یہ کتاب "بک ہوم" نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں) ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔








