آسٹریلیا سے وطن واپس پہنچنے والی ایرانی فٹبال ٹیم کی کھلاڑی فاطمہ شعبان نے اہم انکشافات کر دیئے۔
ایرانی فٹبال ٹیم کی کھلاڑی کا انکشاف
تہران (مانیٹرنگ ڈیسک) آسٹریلیا سے وطن واپس پہنچنے والی ایرانی فٹبال ٹیم کی کھلاڑی فاطمہ شعبان نے اہم انکشافات کر دیئے۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب فیسٹیول کا افتتاح
آسٹریلوی پولیس کا دباؤ
تفصیلات کے مطابق، آسٹریلیا سے اپنے وطن پہنچنے والی ایرانی فٹبال ٹیم کی کھلاڑی فاطمہ شعبان نے دعویٰ کیا ہے کہ آسٹریلوی پولیس نے ان پر ایران واپس نہ جانے کے لیے دباؤ ڈالا۔ تمام افراد کے پاسپورٹ چیک کیے گئے، ہر کھلاڑی پولیس آفیسر کے ساتھ کمرے میں گئی، اور انہیں کئی عجیب و غریب سوالات کا جواب دینا پڑا۔ انہوں نے محسوس کیا کہ پولیس کا مقصد یہ کہنا تھا کہ ان کی واپسی خطرناک ہوگی کیونکہ ایران حالتِ جنگ میں ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پشاور: سپریم کورٹ پولیس کے زیر استعمال مال مقدمہ گاڑیوں پر برہم، تفصیلات طلب
خوش آمدید کا حوصلہ افزائی
فاطمہ شعبان نے مزید کہا کہ ان سے پوچھا گیا کہ فیملی سے بات کر کے پوچھ لیں کہ آیا انہیں آسٹریلیا میں رکنا ہے یا جانا ہے۔ ان کا جواب تھا کہ جنہوں نے رکنا تھا وہ رک گئیں۔ وہ اپنے وطن واپس آ کر بہت خوش ہیں، یہ ان کا گھر ہے۔ انہیں توقع نہیں تھی کہ اتنے لوگ استقبال کے لیے موجود ہوں گے اور انہیں ایران کی بیٹی ہونے پر فخر ہے۔
پناہ کی پیشکش اور فیصلے
خیال رہے کہ ایرانی بالرز کو آسٹریلیا میں پناہ کی پیشکش کی گئی تھی۔ 7 نے پناہ لی لیکن پھر 5 نے درخواست واپس لے لی تھی۔








