پاکستان تب تک نیوکلیئر ہتھیار استعمال نہیں کرے گا جب تک سعودی سلامتی کو خطرہ نہ ہو، چینی پروفیسر وکٹر گاؤ
چین کے معروف تجزیہ کار کا پاکستان کے کردار پر اظہار خیال
بیجنگ (ڈیلی پاکستان آن لائن) چین کے معروف تجزیہ کار پروفیسر وِکٹر گاؤ نے ایران سے متعلق جاری کشیدگی کے تناظر میں پاکستان کے ممکنہ کردار پر تفصیلی اظہارِ خیال کیا ہے، جس میں انہوں نے پاکستان کی مذہبی، دفاعی اور سفارتی پوزیشن کو نہایت اہم قرار دیا۔
یہ بھی پڑھیں: 26 نومبر احتجاج کیس؛ پی ٹی آئی کارکنان کی جرمانے و دیگر آرڈرز کیخلاف دائر اپیلوں پر فیصلہ سنا دیا گیا
پاکستان کی شناخت اور عالمی امور میں کردار
شرمین نروانی کے پروگرام "دی کریڈل" میں گفتگو کرتے ہوئے وِکٹر گاؤ کا کہنا تھا کہ وہ پاکستان کو اچھی طرح جانتے ہیں اور متعدد بار اس ملک کا دورہ کر چکے ہیں۔ ان کے مطابق پاکستان ایک ایسا ملک ہے جہاں عوام، حکومت اور فوج سب اپنے اسلامی تشخص پر فخر کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان دنیا بھر کے مسلم ممالک کے جائز مفادات کی حمایت کرتا ہے اور کسی بھی اسلامی ملک یا مسلمانوں کی تذلیل یا تباہی کو برداشت نہیں کرے گا۔ ان کے بقول یہی وہ بنیادی رجحان ہے جو مستقبل میں بھی پاکستان کی پالیسیوں کی رہنمائی کرے گا۔
یہ بھی پڑھیں: لیوا کھجور فیسٹیول عجمان میں پاکستانی آموں کی شاندار نمائش اور پذیرائی
پاکستان اور سعودی عرب کا دفاعی تعاون
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی تعاون نہایت اہمیت کا حامل ہے۔ پاکستان کے فوجی پہلے ہی مشرقِ وسطیٰ کے کئی ممالک میں خدمات انجام دے رہے ہیں، جبکہ پاکستان ایک ایٹمی طاقت کے طور پر بھی تسلیم شدہ ہے۔ ان کے مطابق اگر کوئی قوت سعودی عرب کے خلاف غیر معمولی یا خطرناک اقدام کرنے کی کوشش کرے تو یہ دفاعی تعاون متحرک ہو سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سندھ میں پولیو کے مزید 2 کیسز رپورٹ، رواں سال تعداد 12 ہوگئی
پاکستان کی حکمت عملی اور نیوکلیئر ہتھیاروں کا استعمال
تاہم وِکٹر گاؤ نے یہ بھی واضح کیا کہ پاکستان کسی بھی ملک کے خلاف انتہائی مہلک (نیوکلیئر) ہتھیار استعمال کرنے جیسے اقدام کی طرف اس وقت تک نہیں جائے گا جب تک کوئی حقیقی اور سنگین خطرہ موجود نہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ اگر سعودی عرب کی خودمختاری، سلامتی یا علاقائی سالمیت کو بنیادی خطرہ لاحق ہوا تو صورتحال مختلف ہو سکتی ہے، لیکن موجودہ حالات میں ایسا کوئی مرحلہ نہیں آیا۔
یہ بھی پڑھیں: کرم ایجنسی میں بے گناہ عوام پر دہشت گردانہ حملے کی شدید مذمت کرتے ہیں: قونصل جنرل ایران مہران موحدفر
چین اور پاکستان کے تعلقات کی نوعیت
چین اور پاکستان کے تعلقات پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان گہری دوستی اور باہمی تعاون موجود ہے اور وہ ایک دوسرے کی بھرپور حمایت کرتے ہیں۔ اگرچہ دونوں کے درمیان کوئی باضابطہ دفاعی معاہدہ موجود نہیں، تاہم عالمی اور باہمی امور پر دونوں ممالک ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے نظر آتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعلیٰ پنجاب کی سپریم کورٹ بار کے نو منتخب صدر اور عہدیداروں کو مبارکباد
پاکستان اور امریکہ کے تعلقات
انہوں نے پاکستان اور امریکہ کے تعلقات میں بہتری کو بھی مثبت قرار دیا، بشرطیکہ اس سے چین اور پاکستان کے تعلقات متاثر نہ ہوں۔ ان کے مطابق چین یہ چاہتا ہے کہ پاکستان دنیا کے زیادہ سے زیادہ ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات قائم کرے اور اپنی پالیسیوں میں درست فیصلے کرے۔
پاکستان کا اہم کردار
وِکٹر گاؤ نے اس یقین کا اظہار کیا کہ پاکستان نہ صرف اسلامی دنیا بلکہ دیگر مسلم ممالک کے جائز مفادات کا بھی بھرپور دفاع کرے گا، خصوصاً مشرقِ وسطیٰ کے حساس حالات میں پاکستان کا کردار اہم اور فیصلہ کن ہو سکتا ہے۔








