دوران تربیت ہمیں 2 سیموئیل انڈونگ لیڈران سے ملوایا گیا، کورین ان کو انتہائی عزت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور ان کے تجربات سے فائدہ اٹھاتے ہیں

مصنف: شہزاد احمد حمید

قسط: 475

سیموئیل انڈونگ لیڈران سے ملاقات

دوران تربیت ہمیں 2 سیموئیل انڈونگ لیڈران سے ملوایا گیا۔ وہ اپنی مخصوص گرے وردی میں آئے۔ اکیڈمی پہنچنے پر جیسے ان کا استقبال ہوا نا قابل فراموش تھا۔ زندہ قومیں اپنے ہیروز کو نہ بھولتی ہیں اور ان کی عزت و تکریم بھی سب سے بڑھ کر کی جاتی ہے۔ اس تحریک کے 35 سال گزرنے کے باوجود بھی ان کے جذبے اسی دور کی طرح جوان تھے۔ انہوں نے ہمیں اپنے تجربات بتائے۔ دونوں کی ذاتی کنٹری بیوشن پورے گاؤں سے زیادہ تھی۔

جنرل پارک اور مقامی لیڈران

اس تحریک کے لیڈران کو جنرل پارک نے ہر موقع پر ایڈمائیرکیا۔ وہ جہاں بھی جاتے یہ مقامی لیڈر ان کے ساتھ بیٹھتے، جنرل ان سے مشورے کرتا اور ان کی اہمیت اور کنٹری بیوشنز کی قدر کرتا تھا۔ آج بھی کورین ان کو انتہائی عزت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور ان کے تجربات سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ ہماری طرح نہیں کہ تحریک پاکستان کے کارکنان کو سامنے بیٹھا کر صدارتی کرسی پر بیٹھ کل کے لونڈے بھاشن دیتے ہیں۔ ایسے لوگ جن کا تحریک پاکستان سے دور دور تک واسطہ نہیں تھا۔ یہی فرق ہے زندہ اور مردہ قوموں میں۔

گاؤں کا دورہ

ہمیں ایک ایسے ہی گاؤں کا وزٹ بھی کرایا گیا جو اس تحریک کے نتیجے میں کایہ پلٹ گئی تھی۔ یہ گاؤں ہمیں تو اسلام آباد کا پوش علاقہ ہی لگا تھا۔ اس گاؤں کے لیڈر کے چہرے پر میں نے ایسا اطمینان دیکھا جیسا ارطغرل غازی ڈرامے کے کردار ”ابن العربی“ کے چہرے پر تھا۔ خدمت خلق، ایمانداری، نصب العین سے محبت، اگر یہ سب دل و جان سے ہوں تو دل اور چہرے پر سکون ہو جاتے ہیں خواہ کرنے والے کا تعلق کسی بھی مذہب سے کیوں نہ ہو۔

یونیسکو کے ورلڈ ہیرٹیج گاؤں

ہمیں اس گاؤں میں بھی لے جایا گیا جو اب”یونیسکو کے ورلڈ ہیرٹیج“ میں شامل تھا۔ کئی سو سال قدیم اس گاؤں کے گھر کورین طرز تعمیر کا شاندار نمونہ تھے۔ لوگ روایتی لباس پہنے اپنے کاموں میں مشغول تھے۔ پہاڑوں کی ڈھلوان سے لٹکے اس گاؤں کے گھر دھوپ میں چمکتے ایک انوکھا سماں تراش رہے تھے۔ ایسا شاندار منظر کم کم ہی دیکھنے میں ملتا ہے۔ اس گاؤں کے پرائمری سکول کی عمارت عقل کو دنگ کرتی تھی۔

اسٹیل مل کا دورہ

ہمیں اس دوران پھوہانگ سٹیل مل کا دورہ بھی کرایا گیا۔ اس سٹیل مل کی زمین کا بڑا حصہ سمندر سے نکالا گیا۔ یہ خود میں معجزہ تھا۔ اس کا شمار دنیا کی دوسری بڑی سٹیل مل میں ہوتا ہے۔ جب پارک نے یہ سٹیل مل لگانے کا ارادہ کیا تو کوریا کے سب سے قریبی اتحادی امریکہ نے اسے مل لگانے کے لئے نہ صرف حوصلہ شکنی کی بلکہ انہیں کسی قسم کی معاونت سے بھی انکار کر دیا۔ دھن کے پکے جنرل پارک کو خود پر بھروسہ تھا انہوں نے جرمن معاونت سے یہ مل لگائی اور اپنے خواب سچے کر دکھائے۔

ہوٹل میں قیام

یہاں ہمارا قیام سیو ن سٹار ہوٹل میں تھا جس کی سترویں منزل سے شہر کا نظارہ حیران کن تھا۔

(جاری ہے)

نوٹ: یہ کتاب ”بک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں) ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

Related Articles

Back to top button
Doctors Team
Last active less than 5 minutes ago
Vasily
Vasily
Eugene
Eugene
Julia
Julia
Send us a message. We will reply as soon as we can!
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Mehwish Sabir Pakistani Doctor
Ali Hamza Pakistani Doctor
Maryam Pakistani Doctor
Doctors Team
Online
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Dr. Mehwish Hiyat
Online
Today
08:45

اپنا پورا سوال انٹر کر کے سبمٹ کریں۔ دستیاب ڈاکٹر آپ کو 1-2 منٹ میں جواب دے گا۔

Bot

We use provided personal data for support purposes only

chat with a doctor
Type a message here...