آہ و بکا ہے، طاقت کے مراکز بدل رہے ہیں، قیمتیں اوپر جا رہی ہیں، 60 فیصد نوجوان آبادی والے ملک میں اکثریت بے روزگار ہو رہی ہے

مصنف کی شناخت

مصنف: رانامیر احمد خاں

قسط: 343

یہ بھی پڑھیں: دو کروڑ کے کتے نے ٹرمپ کی حفاظت سنبھالی

مقصدِ تأسیس

56 سال پہلے 1967ء میں حکمران طبقوں کے خلاف قائم ہونے والی پارٹی (پیپلز پارٹی) نے اپنا نصب العین بتایا تھا۔ "عوام طاقت کا سرچشمہ ہیں" اس سال کے آغاز میں عوام نے عملاً اپنے آپ کو طاقت کا سرچشمہ ثابت کیا ہے۔ مگر ایک اور پارٹی حکمران طبقوں کو للکار رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پنجاب میں خواتین کے ساتھ زیادتی اور تشدد کے واقعات پر فیکٹ شیٹ جاری، جنوری تا جون 6ماہ کے دوران 15 ہزار سے زائد کیسز رپورٹ ہوئے

معاشی مشکلات اور مہنگائی

ان 12 مہینوں میں 9 اپریل 2022ء سے 9 اپریل 2023ء میں کیا نہیں ہوا۔ انتہائی ضروری اشیاء کی مہنگائی میں 47 فیصد اضافہ ہوا۔ واہگہ سے گوادر تک آہ و بکا ہے۔ قیمتیں اوپر ہی جا رہی ہیں۔ بانیٔ پاکستان کی تصویر والی کرنسی، امریکی ڈالر کی تصویر کی کرنسی کے سامنے زیر ہوتی جا رہی ہے۔ 60 فیصد نوجوان آبادی والے ملک میں نوجوانوں کی اکثریت بے روزگار ہو رہی ہے۔ آئی ایم ایف کے سامنے برسوں کا تجربہ رکھنے والے وزیر خزانہ (اسحٰق ڈار) کچھ نہیں کر پا رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: رحیم یار خان، چھوٹو کوش ڈکیت نے ۲۱ ساتھیوں سمیت سرنڈر کردیا

بین الاقوامی طاقت کے مراکز

طاقت کے مراکز بدل رہے ہیں۔ واشنگٹن، بیجنگ کے مقابلے میں بہت کمزور ہو گیا ہے۔ اب سُپرطاقت چین ہے، مگر چھوٹے ملکوں کو یرغمال بنانے کے لیے نہیں بلکہ انہیں مزید طاقت دینے کے لیے۔ چین نے ہمارے دو دوستوں سعودی عرب اور ایران میں سفارتی تعلقات قائم کروائے ہیں۔ اس پر پاکستان میں جس خوشی کا اظہار ہونا چاہیے تھا وہ نہیں ہو سکا۔ یہ تینوں ہمارے کرم فرما ہیں۔ سعودی عرب ہمیشہ ہمارا خیرخواہ رہا ہے، اور ایران نے سب سے پہلے پاکستان کو تسلیم کیا تھا۔ 1965ء اور 1971ء کی جنگ میں ہمارے طیاروں کی حفاظت کی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: سندھ حکومت نے شب برات کے موقع پر صوبے بھر کے تمام تعلیمی اداروں میں چھٹی کا اعلان کر دیا

سیاسی جماعتوں کی کارکردگی

13 جماعتیں اکٹھی ہیں۔ بین الاقوامی اسٹیبلشمنٹ بھی ایک صفحے پر ہے لیکن ان 12 مہینوں میں یہ عوام کو کوئی راحت پہنچا نہیں سکے۔ مفت آٹا بھی صحیح طریقے سے تقسیم نہیں کر سکے۔ 16 جانیں چلی گئی ہیں۔ ان سے کہیں زیادہ بہتر انداز میں راشن کی تقسیم سیلانی، اخوت، الخدمت اور بحریہ ٹاؤن والے گروپ کر رہے ہیں۔ حرف و دانش، تدبر، بصیرت سب دور کھڑے نظارہ کر رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: وکٹ مشکل تھی ، بنگلہ دیش سے شکست کے بعد کپتان سلمان آغا کا بیان

حکومت کی ناکامیاں

ملکی سلامتی کا مقدس نعرہ بھی نتیجہ خیز نہیں رہا۔ مخالفین پر ساری بلڈوزنگ بے نتیجہ ہے بلکہ ان کی مقبولیت میں ہر لمحہ اضافہ ہو رہا ہے۔ تاریخ کے ایک طالب علم اور پاکستان کی تاریخ کے عینی شاہد ہونے کے ناطے مجھے یہ تشویش ہو رہی ہے کہ 13 میں سے ایک پارٹی (پیپلز پارٹی) 1970ء کی دہائی سے اور دوسری مسلم لیگ (ن) 1985 سے اس ملک پر حکومت کرتی آ رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد میں پولیس افسران کی منشیات فروشوں کی پشت پناہی کا انکشاف، کئی نوکری سے برطرف

انتخابی منظرنامہ

دونوں پارٹیاں ملک کے اداروں کی قربت اور دوریوں کے ذائقے بھی چکھ چکی ہیں۔ پھر بھی یہ دونوں بڑی اور ان کے ساتھ مختلف علاقوں کی 11 پارٹیاں صرف ساڑھے تین سال حکومت کرنے والی (تحریک انصاف) کو اب تک میدان سے باہر کیوں نہیں کر پائیں۔ بہت تیزی سے نیب قوانین میں تبدیلی کر کے اپنے مقدمات ختم کروائے ہیں جو اُن کی سب سے بڑی کامیابی قرار دی جا رہی ہے۔

آگے کا راستہ

سوال یہ ہے کہ 13 جماعتوں اور ان کے سرپرستوں نے 12 مہینوں میں کیا حاصل کیا ہے۔ پارلیمنٹ کو بالادست اور سپریم ثابت کرنے کی کوشش بھی ناکام رہی ہے کیونکہ پارلیمنٹ نامکمل ہے۔ اس پارلیمنٹ نے کسی لمحے بالادست ہونے کا تاثر نہیں دیا۔

(جاری ہے)

نوٹ: یہ کتاب "بک ہوم" نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں) ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

Related Articles

Back to top button
Doctors Team
Last active less than 5 minutes ago
Vasily
Vasily
Eugene
Eugene
Julia
Julia
Send us a message. We will reply as soon as we can!
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Mehwish Sabir Pakistani Doctor
Ali Hamza Pakistani Doctor
Maryam Pakistani Doctor
Doctors Team
Online
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Dr. Mehwish Hiyat
Online
Today
08:45

اپنا پورا سوال انٹر کر کے سبمٹ کریں۔ دستیاب ڈاکٹر آپ کو 1-2 منٹ میں جواب دے گا۔

Bot

We use provided personal data for support purposes only

chat with a doctor
Type a message here...