بہرحال فیصلے تو بڑوں نے ہی کرنے ہوتے ہیں، پڑھائی تو ٹھیک کر رہی تھی لیکن چھیڑ چھاڑ کا سلسلہ چلتا ہی رہا، اکثر سکول ٹیچرز کا بلاوا آجاتا اور مجھے جانا پڑتا
مصنف: ع۔غ۔ جانباز
قسط: 95
چھوٹی بیٹی اسماء ناز کا داخلہ
چھوٹی بیٹی اسماء ناز کو بھی گیریژن ہائی سکول میں داخل کروا دیا۔ پڑھائی تو ٹھیک کر رہی تھی لیکن دوسرے بچّوں سے چھیڑ چھاڑ کا سلسلہ چلتا ہی رہا۔ اکثر سکول ٹیچرز کا بلاوا آجاتا اور مجھے سکول جانا پڑتا اور مجھے بتایا جاتا کہ کس طرح دوسرے بچّوں سے چھیڑ چھاڑ کا سلسلہ تھمنے نہیں آرہا۔
بڑی بیٹی آصفہ ناز کی صورتحال
یاد رہے بڑی بیٹی آصفہ ناز ایم بی بی ایس کرتے گھر کے ایک چھوٹے کمرے میں کنج تنہائی میں رہی۔ کچھ اِس دوران اُسے اُس کی امّی کی اچانک موت کا بھی جھٹکا لگا۔ بہن بھائیوں کے ساتھ مل بیٹھنا ایک خواب بن گیا۔ بہرحال فیصلے تو بڑوں نے ہی کرنے ہوتے ہیں۔
چھوٹی بیٹی کی تعلیم میں تبدیلی
میں نے یہی مناسب خیال کیا کہ چھوٹی بیٹی اسما ناز کو اِس مشقّت میں نہ ڈالوں۔ لہٰذا کافی پہلے ہی اِرادہ کر لیا کہ اُسے گلبرگ میں واقع کالج میں داخل کراؤں گا۔ میٹرک کے بعد میں نے اُسے ”ہوم اکنامکس کالج“ گلبرگ میں داخل کروایا جہاں سے اُس نے ایم ایس سی ہوم اکنامکس کی۔
محکمانہ سروس کی تفصیلات
میری سروس ”سوئل سروے“ کی ڈیوٹی کا سب سے آخری پڑاؤ ”شاہدرہ کینال ریسٹ ہاؤس“ میں تھا۔ میں نے وہاں سے لاہور شرق پور رڈ اور اُدھر شیخوپورہ سے پہلے کینال تک کا علاقہ اور پھر جی ٹی روڈ پر کامونکی تک کے علاقے کا سروے کیا۔ حسب معمول روزانہ لیبر کو ساتھ لے کر نکلے اور ایریل فوٹوگرافس پر پہلے سے نشان زدہ جگہوں پر لیبر سے 10 فٹ تک بور کرواتے۔
محکمانہ ٹرانسپورٹ کی ذمہ داری
میں اپنے دفتر میں محکمانہ ٹرانسپورٹ کا بھی انچارج تھا اور اُس وقت مغل پورہ گنج کے نزدیک نہر کے اُس پار واپڈا کی ورکشاپ تھی اور لاہور کے باسی ایک بٹ صاحب میرے اورور سیئر تھے۔ جو گاڑیوں کی سروس اور مرمت کا کام کرواتے تھے۔
ایک خاص ملاقات
ایک دن دِن ڈھلے بٹ صاحب شاہدرہ ریسٹ ہاؤس میں آوارد ہوئے۔ کہنے لگے ”میرا جی چاہا میں اپنے آفیسر سے فیلڈ میں مل آؤں“۔ چنانچہ دفتری باتوں کا سلسلہ جاری و ساری تھا کہ اِس دوران بٹ صاحب نے اپنی بغل میں دبائے تھیلے سے ایک بوتل نکال کر میز پر رکھ دی۔ پتہ چلا وہ بوتل پورٹ وائین کی ہے۔
بوتل کا انکار
میں نے کہا بٹ صاحب میں نے تو شراب کبھی چکھی نہیں۔ کہنے لگے چیخ کر دیکھیں۔ یہ اُس طرح کی کڑوی شراب نہیں، بلکہ میٹھی شراب ہے۔ میں نے پھر کہا بٹ صاحب آپ کا بہت بہت شکریہ، بھئی ہے تو یہ ایک ممنوع مشروب! چنانچہ بوتل واپس اُس کے تھیلے میں رکھوائی اور پھر چائے کے ایک کپ سے تواضع کر کے اُن کو رخصت کیا۔
ویلیز جیپس اور اُن کے ”ڈینمو“
امریکن ایڈ میں ملی فور ویل ویلیز جیپ ہمیں سروے کی ڈیوٹی کے لیے مل گئی تھیں۔ یہی کوئی پانچ چھ سروے پارٹیاں تھیں جو مختلف علاقوں میں جا کر سروے کرتی تھیں۔ جیپ کے آگے ایک آہنی رسّہ لپٹا ہوا ہوتا تھا کہ اگر جیپ پھنس جائے تو رسّہ کھول کر کسی جگہ یا دوسری گاڑی میں باندھ کر اُسے باہر نکال سکتے تھے۔
کتاب کی اشاعت
نوٹ: یہ کتاب ”بک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں)۔ ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔








