25 کروڑ مالیت کی چوری کا مقدمہ، گھریلو ملازمہ سے صرف 2 ہزار روپے برآمد،ملزمہ بری۔
چوری کے کیس میں بریت
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) 25 کروڑ روپے کی چوری کے کیس میں گھریلو ملازمہ سے صرف 2 ہزار روپے برآمد ہوئے، عدالت نے ملزمہ کو بری کردیا۔
یہ بھی پڑھیں: حکومت نے کوئی فیصلہ نہ کیا، یوں ایک اور عجوبہ لائن کا اختتام ہوا، جسے دیکھنے کے لیے غیر ملکی سیاح بھی یورپ اور امریکہ وغیرہ سے آتے رہے تھے۔
عدالتی سماعت کی تفصیلات
نجی ٹی وی چینل ایکسپریس نیوز کے مطابق ڈسٹرکٹ کورٹ میں گھریلو ملازمہ پر تقریباً 25 کروڑ روپے مالیت کی چوری کے مقدمے سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی۔ عدالت میں بتایا گیا کہ گھریلو ملازمہ پر کروڑوں روپے چوری کا الزام ہے اور دوران تفتیش برآمدگی صرف 2 ہزار روپے ہوئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور کے سرکاری ہسپتالوں سے نومولود بچوں کے اغوا کا سلسلہ تھم نہ سکا،جنرل ہسپتال سے 2روز کا بچہ اغوا
جوڈیشل مجسٹریٹ کی فیصلہ
جوڈیشل مجسٹریٹ اسلام آباد ایسٹ رضوان الدین نے رخسانہ بی بی کی بریت درخواست منظور کر لی۔ واضح رہے کہ گھریلو ملازمہ پر 4 لاکھ روپے، 5 لاکھ برطانوی پاؤنڈز اور 5 لاکھ سعودی ریال کی چوری کا مقدمہ درج تھا۔
یہ بھی پڑھیں: رمضان المبارک میں گھی اور کوکنگ آئل کی قیمتوں میں بڑی کمی کا اعلان
مدعی کی شکایت
پی ڈبلیو ڈی کی رہائشی خاتون نے گھریلو ملازمہ کے خلاف تھانہ لوئی بھیر میں جنوری 2024ء میں چوری کا مقدمہ درج کرایا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: طالبہ نے کلاس روم میں شادی کی پیشکش کرنے پر پروفیسر کی ٹھکائی کر دی
ملزمہ کے وکیل کی بیان
آج ہونے والی سماعت میں ملزمہ کی جانب سے حبیب حنظلہ ایڈووکیٹ عدالت میں پیش ہوئے۔
یہ بھی پڑھیں: کونسے اینگل پر نصب سولر پینلز سب سے زیادہ بجلی پیدا کرتے ہیں؟
عدالت کے ریمارکس
دورانِ سماعت عدالت نے ریمارکس دیے کہ وکیل صفائی کے مطابق ملزمہ بے گناہ ہے، جسے بدنیتی کی بنیاد پر جھوٹے مقدمہ میں ملوث کیا گیا۔ ملزمہ پر 18 ستمبر 2025 کو فرد جرم عائد کی گئی، استغاثہ کو شواہد پیش کرنے کے متعدد مواقع دیئے گئے اور بار بار مواقع دیئے جانے کے باوجود استغاثہ کی جانب سے کوئی بھی گواہ پیش نہیں کیا جا سکا۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان فضائیہ کے افغانستان پر حملے شروع، ننگرہار میں بڑا ایمونیشن ڈپو تباہ کردیا
عدالتی فیصلہ
عدالتی فیصلے کے مطابق دستیاب ریکارڈ کی روشنی میں اگر استغاثہ کے شواہد ریکارڈ بھی کر لیے جائیں تو ملزمہ کو سزا کا امکان نہ ہونے کے برابر ہے۔ یہ بات ناقابل یقین ہے کہ اتنی بڑی رقم گھر میں رکھ کر چابی ملازمہ کے حوالے کر دی جائے۔ گھر میں غیر ملکی کرنسی کی موجودگی یا چوری سے متعلق قانونی ثبوت یا دستاویزی شواہد بھی پیش نہیں کیے گئے۔
یہ بھی پڑھیں: ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزا کے خلاف اسلام آباد میں وکلاء کی ہڑتال اور احتجاجی ریلی
استغاثہ کی کہانی مشکوک
فیصلے میں عدالت نے مزید کہا کہ استغاثہ کی کہانی انتہائی مشکوک ہے اور یہ قانون کا طے شدہ اصول ہے کہ شک کا فائدہ ہمیشہ ملزم کے حق میں جاتا ہے۔ مزید عدالتی کارروائی سے قیمتی وقت کا ضیاع ہو گا جسے حقیقی مقدمات کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ مدعیہ کے مطابق گھر سے بھاری رقم چوری ہوئی جبکہ ملزمہ سے صرف 2000 روپے برآمد ہوئے۔ برآمد کی گئی رقم بھی بغیر کسی نشاندہی یا تفصیل کے تھی جس کی کوئی قانونی حیثیت نہیں۔
مدعیہ کی اطلاع
عدالت کے مطابق مدعیہ کو ہمسایوں نے گھریلو ملازمہ کے گھر میں داخلے کی اطلاع دی لیکن کسی کا دفعہ 161 کا بیان ریکارڈ پر موجود نہیں۔ ملزمہ رخسانہ بی بی کو ضابطہ فوجداری کی دفعہ 249 اے کے تحت مقدمہ سے بری کیا جاتا ہے۔








