دنیا کو بہتر بنانے کے لیے پاکستان سمیت اسٹیک ہولڈرز میز پر بیٹھے ہیں، بھارت کی سیٹ کہاں ہے؟
بھارتی ممتاز شخصیات کی مودی سرکار پر تنقید
نئی دہلی (مانیٹرنگ ڈیسک): ’’دنیا کو بہتر بنانے کے لیے پاکستان سمیت سٹیک ہولڈرز جس میز پر بیٹھے ہیں، اس میں بھارت کی سیٹ کہاں ہے؟‘‘ بھارت کی ممتاز شخصیات مودی سرکار پر برس پڑیں۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان میں آج اقلیتوں کا قومی دن منایا جا رہا ہے
پاکستان کی سفارتی کوششوں کا اثر
تفصیلات کے مطابق امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششوں کی دنیا بھر میں پذیرائی سے بھارت کو بڑا دھچکا لگا۔ بھارت میں کہا جا رہا ہے کہ جنگ بندی میں اگر پاکستان ثالث کا کردار ادا کر سکتا ہے تو بھارت کیوں نہیں؟ اس حوالے سے وزیر اعظم نریندر مودی کڑی تنقید کی زد میں آ گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ایران کے ایٹمی پلانٹس اور متعلقہ تنصیبات کتنی اور کہاں ہیں؟
مودی سرکار کی ناکامی
بھارت کی ممتاز شخصیات نے مودی سرکار پر الزام عائد کیا کہ اگر پاکستان جنگ بندی میں کردار ادا کر سکتا ہے تو بھارت کیوں خاموش ہے؟ مودی سرکار آخر کر کیا رہی ہے؟
یہ بھی پڑھیں: جنگ مسلط کرنے والوں کو اسی طرح جواب دیں گے جیسا مئی میں دیا تھا، فیلڈ مارشل عاصم منیر
تبصروں کا سلسلہ
بھارتی کالمسٹ اویناش پالیوال نے یہ کہا کہ بھارت شاید یہ سمجھتا ہے کہ اس نے ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل جنگ میں ایک فریق منتخب کر لیا ہے، لیکن اسے اس غلط فہمی میں نہیں رہنا چاہیے کہ اس فریق نے ابھی تک بھارت کو منتخب نہیں کیا۔
خارجہ پالیسی کی ناکامی
’’جنگ‘‘ کے مطابق بھارتی نیشنل کانگریس کی رکن سپریا شری ناتھ نے مودی سرکار کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ’’ٹرمپ کے ایران کے ساتھ بحران کے دوران پاکستان کو مرکزی کردار کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ دنیا کو بہتر بنانے کے لیے مصر، ترکیہ اور پاکستان سمیت سٹیک ہولڈرز جس میز پر بیٹھے ہیں، اس میں بھارت کی سیٹ کہاں ہے؟ کیا یہ مودی اور ان کے ساتھیوں کے دور میں ہماری خارجہ پالیسی کی کھلی ناکامی نہیں ہے؟‘‘








