جب تک سیاستدانوں میں سیاسی پختگی نہیں ہو گی، تمام تر سرگرمیوں کیلئے پارلیمنٹ کو اپنا مرکز نہیں بنائیں گے ملک اسی طرح پٹری سے اْترتا چڑھتا رہے گا

مصنف: رانا امیر احمد خاں

قسط: 346

(5) سیاسی جماعتوں کی لاحاصل تحریکیں سیاسی عدم استحکام کا باعث

پاکستان میں آج تک سیاسی جماعتوں نے حکمرانوں کے خلاف آدھی درجن سے زائد تحریکیں برپا کی ہیں جن کا حاصل سوائے پہلے نیم مارشل لاء کو گرا کر دوسرا بدترین مارشل لاء لگوا دینا جیسے ایوب خاں کی حکومت کو گرا کر جنرل یحییٰ خاں کا مارشل لاء لگوایا گیا۔بھٹو کی نیم جمہوری حکومت کو گرا کر جنرل ضیاء الحق کے مارشل لاء لگوانے کی راہ ہموار کی گئی۔ اسی طرح عمران خاں کی 2013ء کے الیکشن کے بعد کی تحریک دھرنا ہو یا موجودہ پی ڈی ایم کی تحریک مولانا فضل الرحمان، بلاول بھٹو زرداری یا مریم نواز مارچ ہویا عمران خاں کے اسلام آباد مارچ ہوں یہ سب لاحاصل تحریکیں ہیں جن کے نتیجے میں ملک میں بدامنی اور عدم استحکام پیدا ہوتا ہے جو جمہوریت اور قومی تعمیر و ترقی دونوں کے لیے زہرِ قاتل ہے۔ جب تک سیاستدانوں میں سیاسی پختگی پیدا نہیں ہو گی، وہ اپنی تمام تر سرگرمیوں کے لیے پارلیمنٹ اور اسمبلیوں کو اپنا مرکز، قبلہ و کعبہ نہیں بنائیں گے پاکستان اسی طرح بار بار پٹڑی سے اْترتا چڑھتا رہے گا اور ایک دن جمہوریت پر عوام کا اعتماد جاتارہے گا۔

(6) تمام سیاسی جماعتیں ملکی تعمیر و ترقی کے لیے مشترکہ قومی ایجنڈا تشکیل دیں

ایک جمہوری پاکستان کے لیے آگے بڑھنے کے لیے موجودہ پارلیمانی نظام میں ایک ہی طریقہ ہے کہ تمام سیاسی جماعتیں پارلیمنٹ میں بیٹھ کر ملک کی تعمیر و ترقی اور تیزی سے آگے بڑھنے کے لیے ایک مشترکہ ایجنڈا برائے اقتصادی ترقی، سماجی ترقی، تعمیرِ قومی کردار، آبادی کنٹرول منصوبہ بندی، تعلیم و ٹیکنالوجی، زرعی و صنعتی پیداوار میں بڑھوتری اور قانون کی حکمرانی کے لیے لائحہ عمل ترتیب و تشکیل دیں۔ تمام تر مسائل پر قومی ڈائیلاگ، بحث و مباحثہ، پارلیمنٹ کے اندر اور پارلیمنٹ سے باہر جاری رکھتے ہوئے پارلیمنٹ اور اسمبلیوں میں دلجمعی اور یکسوئی سے بیٹھ کر ملک و ملت کے مفاد میں قانون سازی کرنی چاہیے۔

(7) ریاست کے اداروں میں سیاسی عدم مداخلت کی ضرورت

تمام قومی ادارے بشمول پارلیمنٹ، اسمبلیاں، الیکشن کمیشن، سٹیٹ بنک، عدلیہ، نیب، پاک آرمی، پولیس، ڈسٹرکٹ ایڈمنسٹریشن اور دیگر کو آئین و قانون کے مطابق اپنے اپنے دائرہ کار میں کام کرنے کی آزادی ہونی چاہیے۔ اداروں کے کام میں سیاسی مداخلت کی بجائے انہیں مزید مضبوط بنانے کے لیے پارلیمنٹ کو بروقت قانون سازی کرنی چاہیے۔ اسی طرح آئین کے مطابق طاقتور ترین اداروں کا بھی کوئی کام نہیں ہے کہ وہ حکومت سازی، حکومتوں کو گرانے اور دیگر اداروں کے کام میں مداخلت کریں۔ آئین و قانون کی حکمرانی کے بغیر پاکستان کیا دنیا کا کوئی بھی ملک آگے بڑھ سکتا ہے اور نہ ہی مہذب ملکوں کی صف میں شامل ہو سکتا ہے۔

(8) جمہوریت لوکل گورنمنٹ نظام کے بغیر نامکمل

مقامی حکومتوں اور بلدیاتی انتخابات کے بغیر دنیا میں کسی جمہوریت کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔ جمہوریت میں عوام کی شمولیت اور جمہوری نظام کو مضبوط بنانے اور ملک بھر کے شہروں، قصبوں اور دیہات میں متوازن ترقی کے لیے اولین ضرورت اس امر کی ہے کہ ملک میں ایک مضبوط، پائیدار اور بااختیار لوکل گورنمنٹ کا نظام لایا جائے اور اسے معطل کرنے کا اختیار صوبائی حکومتوں سے واپس لیا جائے۔ دیکھنے میں آیا ہے کہ ماضی میں مارشل لائی حکومتوں نے لوکل گورنمنٹ کا نظام دیا جبکہ نام نہاد جمہوری سیاسی حکومتوں نے لوکل گورنمنٹ کے نظام کو عضوِ معطل بنائے رکھا۔ اس طرح ہمارے سیاستدان جمہوریت کو کمزور کرتے ہوئے ماورائے آئین میونسپل اداروں کے اختیارات خود استعمال کرتے رہے ہیں۔ ہمارے حکمران ملک اور جمہوریت کو مضبوط کرنے کی بجائے کمزورتر کرنے کا باعث بنے ہیں۔ ذاتی مفادات کے حصول کی خاطر قومی ترقی کا پہیہ جام کئے رکھا ہے۔ اسی لیے وطن عزیز میں قحط الرجال بھی ہے اور حقیقی پروگریسو لیڈر شپ کا فقدان بھی۔

(جاری ہے)

نوٹ: یہ کتاب ”بک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں) ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

Related Articles

Back to top button
Doctors Team
Last active less than 5 minutes ago
Vasily
Vasily
Eugene
Eugene
Julia
Julia
Send us a message. We will reply as soon as we can!
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Mehwish Sabir Pakistani Doctor
Ali Hamza Pakistani Doctor
Maryam Pakistani Doctor
Doctors Team
Online
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Dr. Mehwish Hiyat
Online
Today
08:45

اپنا پورا سوال انٹر کر کے سبمٹ کریں۔ دستیاب ڈاکٹر آپ کو 1-2 منٹ میں جواب دے گا۔

Bot

We use provided personal data for support purposes only

chat with a doctor
Type a message here...