ایران نے آبنائے ہرمز میں چین کے دو مال بردار بحری جہازوں کو روک کر واپس بھیج دیا، وال سٹریٹ جرنل کی رپورٹ میں دعویٰ
ایران کا آبنائے ہرمز میں چین کے جہازوں کا روکنا
تہران (ڈیلی پاکستان آن لائن) وال سٹریٹ جرنل کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی نے ایک نیا اور حیران کن رخ اختیار کر لیا ہے جب ایران نے آبنائے ہرمز میں چین کے دو مال بردار بحری جہازوں کو روک کر واپس بھیج دیا۔ وظیفہ سمجھا جاتا تھا کہ چین منظور شدہ فہرست میں شامل ہے۔ تہران کا اب کہنا ہے کہ صرف وہی جہاز گزر سکتے ہیں جو ایران کے لیے گھریلو اشیاء، گاڑیاں، کپڑے اور ادویات لے کر جا رہے ہوں۔ آبنائے ہرمز پر گھیرا مزید تنگ ہوتا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور آج بھی دنیا کا آلودہ ترین شہر
پہلی بار چین کے جہازوں پر پابندی
یہ اقدام اس لیے غیر معمولی سمجھا جا رہا ہے کیونکہ تہران اب تک صرف اُن ممالک کے جہازوں کو نشانہ بنا رہا تھا جنہیں وہ اسرائیل اور امریکہ کا حامی تصور کرتا ہے۔ دوسری جانب، اسرائیل نے ایران کی اسلحہ سازی کی تنصیبات پر وسیع پیمانے پر حملے شروع کر دیے ہیں اور ایرانی شہر اراک کے بعض حصوں کے رہائشیوں کو علاقہ خالی کرنے کی وارننگ دی گئی ہے۔ جمعہ کے روز خلیجی ممالک نے ڈرونز اور میزائلوں کی ایک بڑی لہر کو فضا میں ہی تباہ کر دیا، تاہم کچھ میزائل کویت کی دو بندرگاہوں پر گرے جبکہ ایک میزائل اردن کی حدود میں جا گرا۔
یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد ہائی کورٹ نے آوارہ کتوں کی ویکسینیشن کی ہدایت دے دی
امریکہ کی فوجی موجودگی میں اضافہ
واشنگٹن میں بدلتی صورتحال کے پیشِ نظر پینٹاگون مشرقِ وسطیٰ میں مزید 10,000 زمینی فوج بھیجنے پر غور کر رہا ہے تاکہ صدر ٹرمپ کے پاس فوجی آپشنز موجود رہیں، اگرچہ وہ تہران کے ساتھ امن مذاکرات کے امکانات کا بھی جائزہ لے رہے ہیں۔ ان جنگی حالات کے باعث عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتیں ایک بار پھر 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی ہیں اور امریکی اسٹاک مارکیٹ میں مندی کا رجحان دیکھا گیا ہے، باوجود اس کے کہ صدر ٹرمپ نے ایران کے توانائی کے شعبے پر حملے مزید 10 دن کے لیے روکنے کا فیصلہ کیا ہے۔
آنے والے مذاکرات
اس بحران پر قابو پانے کے لیے جی سیون (G7) ممالک کے وزرائے خارجہ کا اجلاس آج فرانس میں متوقع ہے، جبکہ امریکی سینیٹ کی مسلح خدمات کی کمیٹی اپریل کے وسط میں اس جنگ پر پہلی عوامی سماعت کرنے کا منصوبہ بنا رہی ہے۔








