بھارتی وزارت دفاع نے 25ارب ڈالر مالیت کا جدید اسلحہ اور دفاعی سامان خریدنے کی منظوری دے دی
بھارتی وزارتِ دفاع کی بڑی خریداری
نئی دہلی(ڈیلی پاکستان آن لائن) بھارتی وزارتِ دفاع نے 2.38 ٹریلین روپے (تقریباً 25 ارب ڈالر) مالیت کے جدید اسلحے اور دفاعی ساز و سامان کی خریداری کی منظوری دے دی ہے جس میں بڑا حصہ روسی اسلحے کا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈا پور خیبرپختونخوا ہاؤس کے باہر اسلام آباد پولیس کے ساتھ الجھ پڑے
ایس-400 میزائل سسٹمز کی شامل
اس بڑے دفاعی سودے میں پانچ مزید روسی ساختہ ایس-400 (S-400) سطح سے فضا میں مار کرنے والے میزائل سسٹم شامل ہیں، جس پر امریکی انتظامیہ کی جانب سے شدید ردِعمل کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ بھارتی وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ کی سربراہی میں منعقدہ 'ڈیفنس ایکوزیشن کونسل' کے اجلاس میں ان خریداریوں کی منظوری دی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: انٹونی بلنکن نے ٹرمپ کا ایران میں رجیم چینج کا دعویٰ مسترد کر دیا
ایس-400 کی لاگت اور استعمال
بلوم برگ کی رپورٹ کے مطابق صرف پانچ نئے ایس-400 سسٹمز کی لاگت کا تخمینہ 6.1 ارب ڈالر لگایا گیا ہے۔ وزارتِ دفاع نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ یہ سسٹم حساس اور اہم علاقوں کو نشانہ بنانے والے دشمن کے طویل فاصلے تک مار کرنے والے فضائی اہداف کا مقابلہ کرنے کے لیے استعمال کیے جائیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: منصف کا قلم قانون اور آئین کی امانت ہوتا ہے لوگوں کا نہیں، عظمیٰ بخاری
پاکستان کے ساتھ تنازع کا حوالہ
رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ بھارت کے پاس پہلے سے موجود تین ایس-400 سسٹمز گزشتہ سال مئی میں پاکستان کے ساتھ ہونے والے چار روزہ تنازع کے دوران استعمال کیے گئے تھے۔ مزید دو سسٹمز کی فراہمی اگلے چند مہینوں میں متوقع ہے، جبکہ حالیہ منظوری کے بعد بھارت کے پاس ایسے جدید سسٹمز کی کل تعداد دس ہو جائے گی۔
یہ بھی پڑھیں: وزیر اعلیٰ تریموں بیراج پہنچ گئیں، سیلاب کی صورتحال کا جائزہ لیا، جدید ٹیکنالوجی استعمال میں لانے کا حکم
روس بھارت کے لئے مستحکم اسلحہ فراہم کنندہ
سٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (SIPRI) کی 2025 کی رپورٹ کے مطابق، روس اب بھی بھارت کو اسلحہ فراہم کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے، جو بھارت کی مجموعی درآمدات کے ایک تہائی سے زائد حصے پر محیط ہے۔ حالانکہ بھارت اب فرانس جیسے ممالک سے بھی بڑے پیمانے پر خریداری کر رہا ہے، لیکن حالیہ فیصلہ ظاہر کرتا ہے کہ وہ جدید ٹیکنالوجی کے لیے اب بھی اپنے پرانے اتحادی ماسکو پر بھروسہ کرتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: یہ کم ظرف شخص جھوٹ بول رہا ہے
امریکی تحفظات اور ممکنہ اثرات
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ ماضی میں بھی بھارت کی جانب سے روسی اسلحے کی خریداری پر کڑی تنقید کر چکی ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ تجارتی معاہدوں پر جاری تعطل کے بعد روس کے ساتھ یہ نیا بڑا دفاعی معاہدہ واشنگٹن اور نئی دہلی کے تعلقات میں مزید بدمزگی کا باعث بن سکتا ہے۔
دیگر خریداریوں کی منظوری
میزائل سسٹمز کے علاوہ، وزارتِ دفاع نے روسی ساختہ لڑاکا طیاروں کی مرمت (Overhaul) اور مقامی سطح پر تیار کردہ مسلح ڈرونز (Unmanned Strike Aircraft) کی خریداری کی بھی منظوری دی ہے۔ یہ ڈرونز نگرانی کے علاوہ دشمن کے خلاف جارحانہ فضائی کارروائیوں کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں۔








