آئی ایم ایف اور پاکستان کے درمیان اسٹاف لیول معاہدہ طے پا گیا
آئی ایم ایف اور پاکستان کے درمیان معاہدہ
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) عالمی مالیاتی فنڈ(آئی ایم ایف) اور پاکستان کے درمیان اسٹاف لیول معاہدہ طے پا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: ایئر انڈیا کا مسافر طیارہ ممکنہ طور پر جان بوجھ کر گرایا گیا: دی ٹیلی گراف
ملنے والی رقم کی تفصیلات
آئی ایم ایف کے مطابق منظوری کے بعد پاکستان کو توسیعی فنڈ سہولت کے 1 ارب ڈالر اور آر ایس ایف کے تحت 21 کروڑ ڈالر تک رسائی حاصل ہوگی۔ یعنی پاکستان کو مجموعی طور پر 1 اعشاریہ 2 ارب ڈالر ملیں گے۔ یہ رقم آئی ایم ایف ایگزیکٹو بورڈ کی منظوری کے بعد جاری ہوگی اور نئی قسط ملنے سے پاکستان کو ملنے والی رقم 4.5 ارب ڈالر ہو جائے گی۔
یہ بھی پڑھیں: ایران بڑے پیمانے پر حملے کرنے کی پوزیشن میں نہیں رہا، اسرائیلی فوج کا دعویٰ
معاشی بہتری اور چیلنجز
عالمی مالیاتی فنڈ کا کہنا ہے کہ پاکستانی معیشت میں بہتری، مہنگائی اور کرنٹ اکاؤنٹ کنٹرول میں ہے، تاہم مشرق وسطیٰ کی کشیدگی سے معیشت کو خطرات لاحق ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: آزاد اور خود مختار فلسطینی ریاست کا قیام پائیدار امن کے لیے ناگزیر ہے اور فلسطینیوں کا حق ہے، وزیر اعظم شہباز شریف
حکومتی اقدامات
اعلامیے کے مطابق حکومت پاکستان مالی خسارہ کم کرنے کا عزم رکھتی ہے اور اس حوالے سے ٹیکس نظام بہتر بنانے کے لیے اصلاحات جاری ہیں۔ غریب عوام کے لیے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام میں توسیع کی گئی ہے اور مہنگائی کے اثرات کم کرنے کے لیے امداد بڑھانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کے خلاف بیان لینے آیا بھارتی وفد ناکام رہا: شیری رحمان
مالی پالیساں
آئی ایم ایف کا کہنا ہے کہ اسٹیٹ بینک مہنگائی کنٹرول کے لیے سخت پالیسی جاری رکھے گا، ضرورت پڑنے پر شرح سود مزید بڑھائی جا سکتی ہے۔ عالمی مالیاتی فنڈ کے مطابق زرمبادلہ ذخائر میں اضافہ اور معاشی استحکام بہتر ہوا ہے، تاہم توانائی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ مہنگائی بڑھا سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سونا 21110 روپے مہنگا، فی تولہ قیمت ساڑھے 5لاکھ سے تجاوز کرگئی
ٹیکس نیٹ میں توسیع
آئی ایم ایف نے پاکستان پر ٹیکس نیٹ بڑھانے اور اخراجات کنٹرول کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ایف بی آر اصلاحات پر عملدرآمد شروع ہونے سے مثبت نتائج سامنے آنے لگے ہیں۔ پاکستان ڈیجیٹل انوائسنگ اور ٹیکس آڈٹ نظام مضبوط بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعلیٰ مریم نواز سے فلپائن کے سفیر ڈاکٹر ایمینوئیل آر فرنینڈز کی ملاقات، پنجاب میں سرمایہ کاری کی پیشکش
مالی سال کے اہداف
مالی سال 2026 میں 1.6 فیصد پرائمری سرپلس کا ہدف ہے۔ پاکستان کا مالی سال 2027 میں سرپlus 2 فیصد تک بڑھانے کا منصوبہ ہے۔ صحت، تعلیم اور سماجی تحفظ پر اخراجات بڑھانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ غربت میں کمی اور سماجی تحفظ حکومت کی ترجیحات میں شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کے ساحل پسنی اور جیوانی تک سمندر کے پانی کا رنگ ’سبز‘ ہو گیا
بیرونی ادائیگیوں کی یقین دہانی
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پاکستان نے بینکاری نظام کو بیرونی ادائیگیوں کے لیے مستحکم رکھنے کی یقین دہانی کرائی ہے اور توانائی شعبے میں اصلاحات، گردشی قرضے روکنے کا عزم کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ کی لاہور پریس کلب کے نومنتخب عہدیداروں کو مبارکباد
نجکاری اور بدعنوانی کی روک تھام
عالمی مالیاتی فنڈ کا کہنا ہے کہ پاکستان کی سرکاری اداروں کی اصلاحات اور نجکاری اہم ترجیح ہے۔ حکومت پاکستان نے مارکیٹ میں حکومتی مداخلت کم کرنے کا عندیہ بھی دیا ہے۔
ماحولیاتی اقدامات
موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے حکومتی اقدامات تیز کیے جائیں گے۔ آئی ایم ایف کی جانب سے گرین ٹرانسپورٹ اور کاربن اخراج میں کمی پر بھی زور دیا جا رہا ہے۔ پانی کے نظام کی بہتری اور آفات سے نمٹنے کے لیے مالی نظام کی تیاری جاری ہے۔








