امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف جنگ کا آغاز غیر قانونی تھا، جنگ جاری رہی تو۔۔۔؟ ترک وزیر خارجہ کھل کر بول پڑے
ایران کے خلاف جنگ کا آغاز
لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف جنگ کا آغاز غیر قانونی تھا، اور اگر یہ جنگ جاری رہی تو اس کے نتائج سنگین ہوسکتے ہیں۔ ترک وزیر خارجہ کھل کر بول پڑے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد کے سیکٹر ایف سیون میں جیز (Jazz) کی جانب سے 5G کا آغاز، سوشل میڈیا پر صارفین کے پیغامات
ترکی کی خارجہ پالیسی کے تین اہم نکات
ترکی کے وزیر خارجہ حاکان فیدان نے کہا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف جنگ کا آغاز غیر قانونی تھا۔ انہوں نے مشرق وسطیٰ کی موجودہ صورتحال کے حوالے سے تین اہم ترجیحات کا ذکر کیا:
- جنگ کے آغاز کو روکنا
- جنگ کے پھیلاؤ کو روکنا
- ترکی کو اس جنگ سے دور رکھنا
حاکان فیدان نے کہا کہ ترکی جنگ کے آغاز سے ہی ان تینوں اہداف پر مسلسل کام کر رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سیلاب:غفلت کسی عذاب سے کم نہیں
علاقائی جنگ کے اثرات
انہوں نے علاقائی جنگ کو طویل ہونے سے روکنے کی ضرورت پر زور دیا اور خبردار کیا کہ اگر جنگ جاری رہی تو علاقے میں "طویل مدتی دشمنی" پیدا ہوسکتی ہے جو کئی نسلوں تک اثر انداز ہوگی۔
یہ بھی پڑھیں: عمران خان کے بیٹوں کو ملاقات کی اجازت نہ دینا اور عطا تارڑ کے جواب پر پاکستان تحریک انصاف کا رد عمل آگیا۔
اسرائیل اور علاقائی استحکام
انٹرویو میں وزیر خارجہ نے اسرائیل کو امن کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ قرار دیا اور علاقائی استحکام کے لیے دباؤ ڈالنے کی ضرورت پر بات کی۔
ترکی کے سفارتی کردار
آخر میں، حاکان فیدان کا کہنا تھا کہ ترکی سفارتی کوششوں کے ذریعے جنگ کو روکنے اور اسے محدود رکھنے میں فعال کردار ادا کر رہا ہے۔








