امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف جنگ کا آغاز غیر قانونی تھا، جنگ جاری رہی تو۔۔۔؟ ترک وزیر خارجہ کھل کر بول پڑے
ایران کے خلاف جنگ کا آغاز
لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف جنگ کا آغاز غیر قانونی تھا، اور اگر یہ جنگ جاری رہی تو اس کے نتائج سنگین ہوسکتے ہیں۔ ترک وزیر خارجہ کھل کر بول پڑے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان کے 2 نئے سفراء کی تعیناتی کی منظوری دے دی
ترکی کی خارجہ پالیسی کے تین اہم نکات
ترکی کے وزیر خارجہ حاکان فیدان نے کہا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف جنگ کا آغاز غیر قانونی تھا۔ انہوں نے مشرق وسطیٰ کی موجودہ صورتحال کے حوالے سے تین اہم ترجیحات کا ذکر کیا:
- جنگ کے آغاز کو روکنا
- جنگ کے پھیلاؤ کو روکنا
- ترکی کو اس جنگ سے دور رکھنا
حاکان فیدان نے کہا کہ ترکی جنگ کے آغاز سے ہی ان تینوں اہداف پر مسلسل کام کر رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعلیٰ مریم نواز کا ساؤتھ ایشیئن کراٹے چیمپئن شپ میں 2 پاکستانی کھلاڑیوں کو گولڈ میڈل جیتنے پر مبارکباد
علاقائی جنگ کے اثرات
انہوں نے علاقائی جنگ کو طویل ہونے سے روکنے کی ضرورت پر زور دیا اور خبردار کیا کہ اگر جنگ جاری رہی تو علاقے میں "طویل مدتی دشمنی" پیدا ہوسکتی ہے جو کئی نسلوں تک اثر انداز ہوگی۔
یہ بھی پڑھیں: جنگ بندی معاہدہ قبول کرو ورنہ صفحہ ہستی سے مٹا دیا جائے گا، اسرائیل کی حماس کو دھمکی
اسرائیل اور علاقائی استحکام
انٹرویو میں وزیر خارجہ نے اسرائیل کو امن کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ قرار دیا اور علاقائی استحکام کے لیے دباؤ ڈالنے کی ضرورت پر بات کی۔
ترکی کے سفارتی کردار
آخر میں، حاکان فیدان کا کہنا تھا کہ ترکی سفارتی کوششوں کے ذریعے جنگ کو روکنے اور اسے محدود رکھنے میں فعال کردار ادا کر رہا ہے۔








