وفاق ہمارے ساتھ مسلسل زیادتی کر رہا، مزید برداشت نہیں کریں گے: سہیل آفریدی
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کا بیان
پشاور (ڈیلی پاکستان آن لائن) وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ وفاق ہمارے ساتھ مسلسل زیادتی کر رہا ہے، اب مزید برداشت نہیں کریں گے۔
یہ بھی پڑھیں: نصف سے زائد بجٹ قرض ادائیگی میں جائیگا، 118 سے زائد منصوبے بند کردیئے: احسن اقبال
ملاقات کا پس منظر
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی سے ضلع خیبر کے قومی مشران اور قبائلی عمائدین پر مشتمل وفود نے ملاقاتیں کیں، جن میں عوامی مسائل، امن و امان اور ترقیاتی حکمت عملی پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: شارجہ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری اور پاکستان کے وفاقی وزیر برائے سرمایہ کاری کے درمیان ملاقات
تجاویز اور ترقیاتی حکمت عملی
دوران ملاقات قومی مشران اور قبائلی عمائدین نے علاقے کی پائیدار ترقی اور خوشحالی کے لئے تجاویز پیش کیں۔
یہ بھی پڑھیں: ریاست مخالف پروپیگنڈے کے الزام میں پی ٹی آئی کے یوسی چیئرمین کو گرفتار کرلیا گیا
مالی امور کی تفصیلات
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے کہا کہ ضم اضلاع کیلئے این ایف سی کی مد میں 1375 ارب روپے واجب الادا ہیں۔ انضمام کے وقت وفاقی حکومت نے ضم اضلاع کے لئے 100 ارب سالانہ کا وعدہ کیا تھا، وفاق کی جانب سے ضم اضلاع کیلئے سات سال میں صرف 168 ارب ملے، 532 ارب بقایا ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: خیبر پختونخوا میں دہشتگردی کے واقعات میں خواتین کے بھی ملوث ہونے کا انکشاف، چونکا دینے والی تفصیلات سامنے آگئیں
وفاق کی زیادتی
انہوں نے کہا کہ وفاق ہمارے ساتھ مسلسل زیادتی کر رہا ہے، یہ مزید برداشت نہیں کریں گے، ضم اضلاع کیلئے ایک ہزار ارب روپے کا جامع ترقیاتی پیکج لا رہے ہیں، اس پیکج میں ہر شعبے اور ہر ضم ضلع کیلئے ترقیاتی منصوبے شامل ہیں، کوئی بھی ضلع یا علاقہ ترقی سے محروم نہیں رہے گا۔
یہ بھی پڑھیں: صوبائی وزیر سوشل ویلفیئر کا شاہدرہ میں فلڈ ریلیف کیمپ کا دورہ، متاثرین میں کپڑے اور راشن بیگز تقسیم کیے۔
مستقبل کے منصوبے
سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ عوامی نمائندوں کی مشاورت سے تیراہ پیکج کی تیاری پر کام جاری ہے، باڑہ ڈیم کیلئے آئندہ مالی سال میں فنڈز مختص کی جائے گی جبکہ خیبر انڈسٹریل زون پر کام جاری ہے۔
مقامی مسائل کا حل
انہوں نے مزید کہا کہ ضلع خیبر کے جبہ ڈیم کا مسئلہ حل ہوگیا ہے، ریگی للمہ کا مسئلہ قومی مشران اور عمائدین کی مشاورت سے حل کیا جائے گا۔








