حکومت کا پاکستانیوں کی بیرون ملک دولت واپس لانے پر غور، نجی ٹی وی کا ذرائع کے حوالے سے دعویٰ
بیرون ملک دولت کی واپسی پر غور
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) حکومت نے پاکستانیوں کی بیرون ملک دولت واپس لانے پر غور شروع کر دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: امریکہ ایران سے معاہدہ نہیں، ایسا صدر چاہتا ہے جو ملک کو جنگ میں نہ دھکیلے، ٹرمپ
مشرق وسطیٰ اور یورپ میں پاکستانی اثاثے
نجی ٹی وی چینل جیو نیوز کے مطابق حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ اس وقت مشرق وسطیٰ اور یورپ میں پاکستانیوں کے تقریباً 200 ارب ڈالر موجود ہیں۔ یہ رقم 2018 اور 2019 میں ایمنسٹی میں ظاہر کی گئی مگر پاکستان منتقل نہ ہوئی۔
یہ بھی پڑھیں: گرمیوں میں ہیٹ ریشز میں اضافہ کیوں ہوتا ہے اور اسے کیسے روکا جائے؟
ایمنسٹی سکیم کے تحت گوشوارے
ذرائع کے مطابق، دونوں سکیموں میں مجموعی طور پر 82889 گوشوارے جمع کرائے گئے تھے، اور مجموعی طور پر حکومت کو 194 ارب روپے ٹیکس حاصل ہوا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: ٹانک “فتنہ الخوارج” کے خلاف سیکیورٹی فورسز کا انٹیلی جنس کی بنیاد پر آپریشن، 8 خارجی ہلاک، آئی ایس پی آر
حفاظتی وجوہات
ایران پر حملوں کی وجہ سے پاکستانی اپنی دولت کسی محفوظ ملک منتقل کرنا چاہ رہے ہیں۔ حکومتی ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ حکومت روشن ڈیجیٹل سکیم میں اس رقم کو واپس لانے کے لیے غور کر رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: انٹربینک میں ڈالر سستا ہو گیا
روشن ڈیجیٹل سکیم کی سرمایہ کاری
کسی بھی ملک کے شہری کو روشن ڈیجیٹل سکیم میں سرمایہ کاری کی اجازت دیئے جانے پر غور کیا جا رہا ہے۔ اس وقت اس سکیم میں صرف بیرون ملک پاکستانی سرمایہ کاری کر سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: حکومت نے گوادر سے عمان تک فیری سروس کی منظوری دے دی
ریئل سٹیٹ سیکٹر میں سہولیات
حکومت غیر ملکی کمپنیوں اور پاکستان مقیم شہریوں کو سکیم میں سرمایہ کاری کی اجازت دے گی۔ حکومت رئیل سٹیٹ سیکٹر میں اوورسیز پاکستانیوں کو ٹیکس رعایت دینے پر کام کر رہی ہے۔ اوورسیز پاکستانیوں سے رئیل سٹیٹ سیکٹر میں خریدی جانے والی جائیداد کی قیمت کے 10 فیصد پر ٹیکس وصول کیا جائے گا۔
کالا دھن استثنا
ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ سہولت کالا دھن رکھنے والوں کو حاصل نہیں ہوگی۔ یہ سکیم آئندہ بجٹ یا اس سے پہلے نافذ کی جا سکتی ہے۔








