وزیر مملکت بلال اظہر کیانی نے ڈبلیو ٹی او کی چودھویں وزارتی کانفرنس میں حاصل ہونیوالی پیش رفت پر تفصیلات شیئر کر دیں
پاکستانی وفد کی قیادت
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) وزیئر مملکت برائے خزانہ و ریلوے بلال اظہر کیانی نے کیمرون کے دارالحکومت یواوندے میں منعقدہ عالمی تجارت کی تنظیم (ڈبلیو ٹی او) کی 14ویں وزارتی کانفرنس (MC14) میں پاکستان کے وفد کی قیادت کی۔
یہ بھی پڑھیں: وزیر دفاع خواجہ آصف کی سعودی ہم منصب شہزادہ خالد بن سلمان سے ملاقات
کانفرنس کی تفصیلات
وزیر مملکت بلال اظہر کیانی نے وطن واپسی پر کانفرنس میں حاصل ہونے والی پیش رفت پر تفصیلات شیئر کیں۔
Returning to Islamabad after leading the Pakistan delegation at the 14th WTO Ministerial Conference in Yaoundé, Cameroon.
1. As Minister-Facilitator for Agriculture negotiations, held 14 bilateral consultations with key WTO Member states, and chaired a small group meeting, to… pic.twitter.com/aVHFGqff94
— Bilal Azhar Kayani (@BilalAKayani) March 29, 2026
یہ بھی پڑھیں: عالمی جہاز رانی شدید افراتفری کا شکار، خلیج فارس میں پھنسے جہاز اور عملہ خطرے میں، کتنا مالی نقصان ہو سکتا ہے۔ تہلکہ خیز انکشاف
زراعت مذاکرات میں کردار
بلال اظہر کیانی نے بطور وزیر فیسیلیٹیٹر برائے زراعت مذاکرات میں اہم ذمہ داری نبھائی۔ انہوں نے ڈبلیو ٹی او رکن ممالک کے ساتھ مشاورت کی اور ایک گروپ میٹنگ کی صدارت کی، جس کا مقصد زراعت، تجارت اور عالمی خوراک کی سلامتی سے متعلق مسودہ وزارتی اعلامیے پر اتفاق رائے پیدا کرنا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب حکومت نے لاہور میں 4 فروری سے 8 فروری تک 5 روزہ خصوصی تعطیلات کا اعلان کر دیا
ملٹی لیٹرل سیشنز
کانفرنس کے دوران انہوں نے زراعت پر ایک توسیعی ملٹی لیٹرل سیشن کی صدارت بھی کی، جس میں 76 رکن ممالک نے مسودہ اعلامیے پر غور کیا اور نئے طریقہ کار اور ممکنہ لچک کے بارے میں خیالات کا تبادلہ کیا۔ اس سیشن میں شریک اکثریت نے مسودہ متن کی حمایت کی اور اتفاق رائے پیدا کرنے کی کوششوں کو سراہا۔
یہ بھی پڑھیں: سندھ: سکولوں میں ٹوپی اجرک کا تحفہ اور بچوں کو استقبال کیلئے کھڑا کرنے پر پابندی عائد
پاکستان کے مفادات کی حفاظت
بلال اظہر کیانی نے ڈبلیو ٹی او اصلاحات سے متعلق متعدد ملٹی لیٹرل سیشنز میں پاکستان کا مؤقف پیش کیا، جس میں بنیادی مسائل، فیصلہ سازی کے عمل اور لیول پلیئنگ فیلڈ (مساوی مواقع) پر توجہ دی گئی تاکہ پاکستان کے اہم تجارتی مفادات کا تحفظ کیا جا سکے۔
یہ بھی پڑھیں: عالمی منڈی میں تاریخ کی بلند ترین سطح کو چھونے کے بعد سونے کی قیمت دھڑم سے گر گئی
بہتر تجارتی تعلقات
انہوں نے یورپی یونین، سنگاپور اور کولمبیا کے ہم منصبوں کے ساتھ مل کر Multiparty Interim Arrangement for Arbitration (MPIA) کا ایک سیشن بھی مشترکہ طور پر منعقد کیا۔
علاوہ ازیں، ترکی اور جرمنی کی اعلیٰ سطحی ڈیلیگیشنز کے ساتھ دو طرفہ مشاورت کی گئی، جن کا فوکس پاکستان کے ساتھ دو طرفہ تجارت اور معاشی تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر تھا۔
یہ بھی پڑھیں: مورا حسین نے امید سے ہونے کی افواہوں پر خاموشی توڑ دی
نتائج اور شکرگزاری
بلال اظہر کیانی نے پاکستان کی ڈیلیگیشن کے مصروف شیڈول کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ کانفرنس میں پاکستان کی شمولیت معنی خیز اور نتیجہ خیز رہی۔ انہوں نے پاکستان کے سفیر اور ڈبلیو ٹی او میں مستقل نمائندے علی سرفراز حسین سمیت پوری ٹیم کا شکریہ ادا کیا، جن کی محنت اور تعاون سے کانفرنس میں پاکستان کے لیے مثبت نتائج حاصل ہوئے۔
عالمی تجارت کے چیلنجز
یہ کانفرنس عالمی تجارت کے نظام کو بحال کرنے اور موجودہ چیلنجز سے نمٹنے کے لیے اہم سمجھی جا رہی ہے، جس میں زراعت جیسے دیرینہ مسائل پر پیشرفت کی کوششیں جاری ہیں۔








