مشکل کی اس گھڑی میں معاشی طور پر کمزور عوام کو تنہا نہیں چھوڑیں گے: وزیراعظم
وزیراعظم کا کمزور طبقے کے ساتھ اظہار یکجہتی
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ مشکل کی اس گھڑی میں معاشی طور پر کمزور طبقے کو تنہا نہیں چھوڑیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدہ معطل کیے جانے کے بعد دریائے جہلم اور نیلم کی کیا صورتحال ہے؟
اجلاس کی تفصیلات
تفصیلات کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت خلیجی بحران کے پیٹرولیم مصنوعات پر اثرات، ملک میں موجودہ ذخائر اور عوامی ریلیف کے اقدامات کا جائزہ لینے کیلئے اہم اجلاس ہوا۔ اجلاس کو ایندھن کی بچت کیلئے حکومتی اقدامات پر عملدرآمد، آئندہ کے لائحہ عمل اور موجودہ ذخائر پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ انٹیلی جنس بیورو کی جانب سے وزیراعظم کی سادگی مہم اور بچت اقدامات پر پیش رفت سے متعلق آڈٹ رپورٹ بھی پیش کی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان نے بھارت کے 2 جہاز مار گرائے
بریفنگ کی اہم نکات
اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ صوبائی حکومتوں کے ساتھ مل کر موٹرسائیکل اور رکشہ مالکان کی رجسٹریشن کا عمل تیز کیا جا رہا ہے تاکہ ممکنہ ریلیف ان تک مؤثر انداز میں پہنچایا جا سکے۔ ملکی ضروریات کو پورا کرنے کیلئے ایندھن کے مناسب ذخائر موجود ہیں اور آئندہ کیلئے بھی انتظامات کیے جا رہے ہیں۔ ہائی آکٹین ایندھن پر لیوی میں اضافے کے باوجود جیٹ فیول کی قیمتوں میں کوئی تبدیلی نہیں آئی، اور ملک میں ادویات کا وافر ذخیرہ موجود ہے۔ وزیراعظم کی بچت مہم پر عملدرآمد یقینی بنایا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کراچی میں دوران واردات شہری کی فائرنگ سے ڈاکو ہلاک
اجلاس میں شریک اہم شخصیات
اجلاس میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وفاقی وزراء خواجہ آصف، احسن اقبال، ڈاکٹر مصدق ملک، احد خان چیمہ، مصطفیٰ کمال، محمد اورنگزیب، عطاء اللہ تارڑ، علی پرویز ملک، شزہ فاطمہ خواجہ، رانا مبشر اقبال، سردار اویس خان لغاری، مشیر وزیراعظم رانا ثناء اللہ، وزیر مملکت بلال اظہر کیانی، معاونین خصوصی طارق فاطمی، طلحہٰ برکی، ارکان قومی اسمبلی انجینئر قمر الاسلام، ریاض الحق، حافظ محمد نعمان اور متعلقہ اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔
یہ بھی پڑھیں: بھارتی سپریم کورٹ نے چائلڈ میرج ایکٹ کو تمام مذاہب پر لاگو کرنے کی حکومتی درخواست مسترد کردی
عوامی ریلیف پر زور دینے والا بیان
’’دنیا نیوز‘‘ کے مطابق وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ حکومت کمزور اور متوسط طبقے کو مزید ریلیف فراہم کرنے کیلئے کوشاں ہے اور مشکل کی اس گھڑی میں معاشی طور پر کمزور افراد کو تنہا نہیں چھوڑا جائے گا۔ حکومت نے سرکاری اخراجات میں نمایاں کمی، ترقیاتی بجٹ میں کٹوتی اور 60 فیصد سرکاری گاڑیوں کو فوری طور پر بند کرنے جیسے اقدامات کئے ہیں۔
بچت اور عوامی ریلیف کے اقدامات
موجودہ حالات میں قربانی کا آغاز حکومتی اخراجات میں کمی سے کیا گیا۔ تیل کی قیمتوں میں اضافے کی تجاویز کو بارہا مسترد کیا گیا اور بچت سے حاصل ہونے والی رقم عوامی ریلیف کیلئے استعمال کی جا رہی ہے۔ ڈیجیٹل نظام کے ذریعے ریلیف کے اقدامات عام آدمی تک پہنچائے جائیں گے۔ عالمی سطح پر بحران کے باوجود بروقت فیصلوں کی بدولت ایندھن کی فراہمی میں کسی قسم کا تعطل نہیں آنے دیا گیا، جبکہ پاکستان خطے میں امن کے قیام کیلئے سفارتی سطح پر بھرپور کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔








