فارغ بیٹھنا بیماری ہے، اصول پر کام کرنے والے پر کبھی دباؤ نہیں ڈالا جا سکتا، آپ غریب اور مستحق کی مدد کریں اللہ تعالیٰ کی مدد خود ہی شامل ہو جاتی ہے۔
مصنف کا تعارف
مصنف: شہزاد احمد حمید
قسط: 483
یہ بھی پڑھیں: عوام نے خاتون کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرنے والے نوجوان سے عشق کا بھوت اُتار دیا
پہلا باب: چوہدری جعفر کی جدوجہد
چوہدری جعفر ضد لگائے ہوئے تھے۔ وہ نہیں جانتے تھے کہ اس ملک کی افسر شاہی جب کسی بات کی مخالفت پر تل جائے تو سیاست دان وہ چیز کبھی بھی حاصل نہیں کر سکتے۔ اپنی بے شمار کوشش کے باوجود وہ اکیڈمی کی ایک انچ جگہ بھی نہیں لے پائے تھے۔ اکیڈمی کی مالی، باورچی کی کچھ خالی اسامیوں پر بھرتی کا عمل شروع کیا تو موصوف پھر سے تشریف لائے۔ اس بار انہوں نے 2 مالیوں کی سفارش کر ڈالی۔ میں نے ان سے پوچھا، "جناب! کیا ان بچوں کو مالی کا کام آتا ہے؟" بولے، "زمینداری کر لیتے ہیں۔" میں نے ان سے بحث کرنا مناسب نہیں سمجھا، البتہ ان کے سفارشی بندوں کو نوکری نہیں دی، ہاں ان کے سفارشی رقعے عرصہ تک میرے ریکارڈ میں رہے۔ اصول پر کام کرنے والے بندے پر کبھی دباؤ نہیں ڈالا جا سکتا۔ آپ غریب اور مستحق کی مدد کریں اللہ کی مدد خود ہی شامل ہو جاتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: نمونیابچوں اور بزرگوں کے لیے خطرناک ثابت ہوسکتا ہے: وزیر اعلیٰ پنجاب
دوسرا باب: اڈہاک ازم کا مسئلہ
جعفر اقبال کا مسئلہ حل ہوا تو ساری توجہ اکیڈمی کے معاملات درست کرنے کی طرف کر دی۔ عرصے سے اکیڈمی ایڈہاک بنیادوں پر ہی چلائی جا رہی تھی۔ جب کوئی ریگولر سربراہ نہیں ہوتا تو وہ ادارہ توجہ سے محروم رہتا ہے اور حکام کی نظروں سے اوجھل ہو جاتا ہے۔ اس ادارے کو صرف سیکرٹری یونین کونسل کی تربیت گاہ تک محدود کر دیا گیا تھا۔ اس سطح تک محدود ہونے کے دو نقصانات ہوئے؛ پہلا، تربیت دینے والے جمود کا شکار ہو گئے۔ دوسرا، جمود کا شکار ادارہ کوئی بھی نیا initiative لینے سے گھبراتا ہے۔ میں یہاں آیا تو صورت حال ایسی ہی ہو چکی تھی۔ دفتری معاملات بھی حوصلہ افزاء نہ تھے۔ کام کم یا نہ ہونے کی وجہ سے سبھی سست ہو چکے تھے۔ فارغ بیٹھنا بھی بیماری ہے اور یہ دیمک کی طرح ہر شے کو کھوکھلا کر دیتا ہے۔ دیمک یہاں بھی پہنچ چکی تھی اور چیزوں اور عقل کو کھانے لگی تھی۔
یہ بھی پڑھیں: سپریم لیڈر کا انتخاب ایران کا اندرونی معاملہ ہے، بیرونی دباؤ کو قبول نہیں کیا جائے گا، ایرانی وزیر خارجہ کا بیان
تیسرا باب: کارکردگی میں بہتری
فیکلٹی کے اکثر دوست فیلڈ سے ہی آئے تھے۔ وہاں سے اکتا کر یا گھبرا کر یہاں پناہ گزین ہوئے تھے، اور 8 گھنٹوں کی بجائے وہ صرف 1 گھنٹہ کام کرتے تھے۔ سستی اور مستی کی چھایا انہیں گھیر چکی تھی۔ آرام طلبی نے ان میں کام کرنے کی سپرٹ ہی ختم کر دی تھی۔ ان کی صلاحیتیں زنگ آلود ہو گئی تھیں۔ ہر افسر کا علیحدہ کمرہ تھا اور ان کمروں میں ایک قدر مشترک تھی، مٹی اور دھول میزوں اور کرسیوں پر جمی تھی۔ ہر افسر شاید ہفتے میں ایک بار ہی اپنے کمرے میں تشریف لاتا، گھنٹہ بھر سکرولنگ کرکے خانہ پوری کرتا اور پھر ذاتی کاموں میں مشغول ہو جاتا۔
یہ بھی پڑھیں: جب قومیں یہ ٹھان لیتی ہیں کہ انہیں اوپر اٹھانا ہے، اپنے بچوں کو تابناک مستقبل دینا ہے تو یقین کریں منصوبہ بندی میں ناکامی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
چوتھا باب: اصلاحات کی ضرورت
پرانے ہیڈ کلرک کھو کھر صاحب کی ریٹائرمنٹ کے بعد یہ عہدہ کسی مناسب عہدے دار کے انتظار میں تھا۔ سارے دفتری معاملات اتنے زنگ آلود تھے کہ جہاں انگلی رکھو سوراخ منتظر ہوتا۔ ایک بٹ سینئر کلرک اس عہدے پر براجمان تھا۔ یہ شخص ایک پرانی انکوائری میں سزا یافتہ تھا اور وہ کیسے نوکری کر رہا تھا سوالیہ نشان تھا۔ ہفتہ دس دن کے بعد ہی اس اہلکار کو اس کے عہدے سے ہٹا کر میں نے اصلاحات کا پہلا قدم اٹھایا کیوں کہ وہ کسی طور بھی اس عہدے کا اہل نہیں تھا۔ یاد رہے ہیڈ کلرک کے گرد ہی سارا دفتر گھومتا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: حکومت کا الیکٹرک بائیکس 2 سال کی اقساط پر دینے کا فیصلہ
پانچواں باب: نئے عہدے دار کی تعیناتی
3 سینئر کلرکوں میں سے میری دانش میں نثار احمد سب سے بہتر اور ایکٹو تھا۔ قرعہ انتخاب اسی کا نکلا، اسے اس عہدے کا چارج دیا اور بٹ کو مالیوں کا انچارج بنا دیا۔ انصر نے کچھ شور مچایا، شاید وہ نہیں جانتا تھا کہ افسر افسر ہی ہوتا ہے۔ نثار کو میں نے کام کرنے کی مکمل آزادی دی، جہاں اسے کوئی مشکل پیش آتی میں اس کی رہنمائی کرتا اور تادم تحریر وہ اپنے فرائض خوش اسلوبی سے انجام دے رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: فخر زمان ضرورت پڑنے پر کھیلیں گے، بابر اعظم کو پتا ہے ہمیں اُن سے کیا درکار ہے، مائیک ہیسن
آخری باب: خالی اسامیوں کی بھرتی
دفتری حالات بہتر ہوئے تو اگلا مرحلہ خالی اسامیاں بھرنا تھا۔ ڈرائیور، باورچی، مالی اور نائب قاصد کی اسامیاں کب سے خالی تھیں جس سے متعلقہ شعبوں کی کارکردگی متاثر ہو چکی تھی۔ 4 سرکاری گاڑیوں کے لئے صرف ایک ڈرائیور تھا۔ 8 مالیوں کی پوسٹ پر صرف 3 مالی تھے اور اکیڈمی کے وسیع لان میں گھاس بے ترتیب پھیلی تھی۔ باورچی کی ساری اسامیاں خالی تھیں۔ سارے کام ہی اڈہاک بنیادوں پر چلائے جا رہے تھے۔ ملک اسحاق جو ایڈمن کے معاملات دیکھتے تھے انہیں کاروائی کے لئے کہا اور جلد ہی اخبار میں ان اسامیوں کا اشتہار دے کر اس کام کا آغاز کیا۔
نوٹ
یہ کتاب "بک ہوم" نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں) ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔








