ڈیرہ لگا کر ایک جگہ بیٹھ جاتے پھر بس تربوز ہوتے یا ہم۔ سانس کی نالی تک بھر جاتی تو مجبوراً آگے چل پڑتے کہ کہیں لینے کے دینے ہی نہ پڑ جائیں
مصنف: ع۔غ۔ جانباز
قسط: 103
سروے پارٹی اپنا کام پہلے سے نشان زدہ Sites پر بور کر کے مٹی کے سیمپلز تھیلیوں میں بھرتے اور Hcl ڈال کر اثرات فیلڈ نوٹ بکس میں درج کرتے۔ یہ تا حدّ نگاہ ریت کے ٹیلے جو تربوز کی لہلہاتی بیلوں کی ہر یاول کی چادر اوڑھے دامن میں نومولود، کچے پکے تربوز سنبھالے، خوشیوں سے اپنے دامن بھرے۔ چشم برآہ ہوتے اپنے محنت کش مالکان کے کہ آئیں صبح صبح ناشتہ تربوز کی نرم و نازک پھانکوں سے کریں اور وہاں بیج ایک بھی ضائع نہ ہونے دیں۔ اور ایک پوٹلی میں سنبھالے گھر لے جائیں۔ ساتھ لائی بکری یا گائے کو تربوز کے تازہ دم میٹھے میٹھے چھلکے دیں کہ وہ بھی اس محفل میں شریک ہوں۔
سرکاری مفت خورے
اور ہم سرکاری مفت خورے، سوئل سروے کی کٹھن منزلوں سے گذرتے۔ لیبر سے 10 فٹ زمین میں بور کروا کر سوئل کا ڈیٹا رجسٹر میں درج کرتے اور دوسرے ضروری کوائف کا اندراج ہوتا۔ اور پھر آگے دوسری نشان زدہ سائٹ کی طرف ریت ٹیلوں کی وُسعتوں کو ماپتے چل دیتے۔ چار پانچ میل کا سفر ایک سیدھ میں کرتے تو بھوک چمکتی، تکیہ کس پر تھا۔ نگاہ کس پر تھی۔ اُنہی تربوزوں کی نرم و نازک پھانکوں پر۔ ڈیرہ لگا کر ایک جگہ بیٹھ جاتے اور پھر بس تربوز ہوتے یا ہم۔ جب سانس کی نالی تک بھرجاتی تو مجبوراً آگے چل پڑتے کہ کہیں لینے کے دینے ہی نہ پڑ جائیں۔ اور بھاگ دوڑ کرتے اگلی سائیٹ پر جا کر لیبر سے بور کروانا شروع کردیتے۔ اس طرح سوئیل سروے کرتے اور تربوز تربوز کھیلتے یہی کوئی 10-8 میل کا فاصلہ طے کر کے واپسی کا ڈول ڈال دیتے اور ریسٹ ہاؤس جا کر اکٹھے کیے ہوتے سیمپلز کی اینوینٹری تیار کرتے اور بوریوں میں بند کر دیتے کہ لاہور لیبارٹری کو برائے Analysis روانہ کر دئیے جائیں۔
علاقے کی خوراک
اِس علاقہ کے لوگوں کی مین خوراک تربوز ہے۔ صرف شام کو روٹی وغیرہ کا اہتمام کرتے ہیں۔ ٹرک بھر بھر کر بیوپاری لوگ اس علاقے سے تربوز ملک کے دُور دراز شہروں تک پہنچاتے ہیں اور منڈیوں میں آڑھتی نیلامی کے ذریعے دوکانداروں کو دیتے ہیں۔
1985ء میں حج
حج اسلام کے 5 ارکان میں سے پانچواں اور نہایت عظیم الشّان رکن ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے ساتھ مہربانی اور لطف و کرم کا معاملہ فرماتے ہوئے صرف صاحبِ اِستطاعت پر حج فرض کیا اور پوری زندگی میں صرف ایک بار فرض کیا۔ حج بیت اللہ ایک ایسی عبادت ہے جو تمام عبادات کا مجموعہ ہے۔ نماز صرف بدنی اور لسانی عبادت ہے۔ زکوٰۃ صرف مالی عبادت ہے۔ جبکہ حج بدنی، لسانی اور مالی عبادات کا مجموعہ ہے۔ باقی جتنی عبادات ہیں ان میں سے حضوری کی اتنی کیفیات پیدا نہیں ہوتی جتنی کہ حج میں حضوری کی کیفیات پیدا ہوتی ہیں۔ کیونکہ حج مقاماتِ مقدسہ پر حاضر ہونے کا نام ہے۔ حج سب سے بڑی اجتماعی عبادت ہے۔ ہر سال فرزندانِ توحید پوری دنیا کے ہر گوشے سے ایک مرکز پر جمع ہوتے ہیں۔ جسے بیت اللہ کہا جاتا ہے۔ جو اللہ کی تجلیاّت اور اس کی عظمت و جلال کا محور ہے۔ جو امن والے شہر مکّہ مکرمہ میں واقع ہے جو بہت مبارک ہے۔ (جاری ہے)
نوٹ: یہ کتاب ”بک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں) ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔








