ایرانی وزیر خارجہ کی پاکستان کے ذریعے امریکہ سے پیغامات کے تبادلے کی تصدیق، سیز فائر نہیں جنگ کا خاتمہ چاہتے ہیں، الجزیرہ کو انٹرویو
ایران اور امریکہ کے درمیان روابط
تہران (ڈیلی پاکستان آن لائن) ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے الجزیرہ کو دیے گئے ایک تفصیلی انٹرویو میں انکشاف کیا ہے کہ امریکہ کے ساتھ براہِ راست اور خطے کے بعض ممالک کے ذریعے پیغامات کا تبادلہ جاری ہے، تاہم انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ ایران اور واشنگٹن کے درمیان باقاعدہ مذاکرات ہو رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: سنگجانی جلسہ؛ زین قریشی کے ناقبل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری
بات چیت کی نوعیت
انہوں نے بتایا کہ انہیں اسٹیو وٹکوف کی جانب سے براہِ راست پیغامات موصول ہوتے ہیں، جیسا کہ ماضی میں بھی ہوتا رہا ہے، لیکن ان روابط کو مذاکرات قرار دینا درست نہیں۔ ان کے مطابق ایران میں کسی بھی سطح پر مذاکرات کے دعوے بے بنیاد ہیں، اور تمام پیغامات وزارتِ خارجہ کے ذریعے بھیجے یا وصول کیے جاتے ہیں، جبکہ سکیورٹی اداروں کے درمیان بھی محدود نوعیت کے رابطے موجود ہیں، جن میں بعض معاملات پاکستان کے ذریعے بھی زیرِ بحث آئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: دکھی انسانیت، بے روزگار اور غیر تربیت یافتہ افراد کے لیے کام کریں: طارق محمود رحمانی
ایران کی حکمت عملی
عباس عراقچی نے واضح کیا کہ ایران نے امریکہ کی جانب سے پیش کیے گئے 15 نکاتی منصوبے پر اب تک کوئی ردِ عمل نہیں دیا اور نہ ہی اپنی طرف سے کوئی تجاویز یا شرائط پیش کی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایران نے امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے حوالے سے ابھی تک کوئی فیصلہ نہیں کیا اور اسے اس عمل پر سنجیدہ تحفظات ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کسی عارضی جنگ بندی کے بجائے پورے خطے میں مکمل طور پر جنگ کے خاتمے کا خواہاں ہے۔
یہ بھی پڑھیں: نیا سال بہت توقعات لیکر آیا ہے: ایم کیو ایم پاکستان نے ’’کراچی بچاؤ مہم‘‘ شروع کرنے کا اعلان کر دیا
امریکی دھمکیوں کا مقابلہ
امریکی دھمکیوں کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ایرانی وزیرِ خارجہ نے کہا کہ تہران اپنے مخالفین کے کسی بھی ممکنہ حملے کا انتظار کر رہا ہے۔ ان کے بقول اگر امریکہ یا اس کے اتحادیوں نے کوئی کارروائی کی تو ایرانی افواج پوری قوت کے ساتھ جواب دینے کے لیے تیار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایران نے یہ جنگ شروع نہیں کی بلکہ اپنا دفاع کیا ہے اور بھرپور انداز میں کیا ہے، جبکہ دشمن کو اپنے اثاثوں، اہلکاروں، ریڈار سسٹمز اور فضائی صلاحیتوں میں نقصان اٹھانا پڑا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: 26 نومبر احتجاج کیسز: بشریٰ بی بی کی عبوری ضمانت میں توسیع
زمینی جنگ کے حالات
انہوں نے مزید کہا کہ ایران زمینی جنگ کی صورت میں بھی بھرپور دفاع کی صلاحیت رکھتا ہے اور کسی بھی ممکنہ حملے کا سامنا کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کو امید ہے کہ اس کے مخالفین ایسی غلطی نہیں کریں گے۔
یہ بھی پڑھیں: ویمنز ٹی 20 ورلڈکپ: پاکستان نے بھارت کو 106 رنز کا ہدف دے دیا
آبنائے ہرمز کی صورتحال
آبنائے ہرمز کی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے عباس عراقچی نے کہا کہ فی الحال یہ راستہ کھلا ہے، تاہم جو ممالک ایران کے ساتھ حالتِ جنگ میں ہیں، ان کے جہازوں کے لیے یہ گزرگاہ بند ہے۔ انہوں نے کہا کہ جنگی حالات میں دشمن کو اپنی علاقائی سمندری حدود کو تجارتی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
خلاصہ
انٹرویو کے دوران انہوں نے ایک بار پھر اس بات پر زور دیا کہ اگرچہ بعض سکیورٹی نوعیت کی بات چیت جاری ہے اور امریکہ کے نمائندے سے براہِ راست رابطہ بھی موجود ہے، لیکن اس کے باوجود ایران اور امریکہ کے درمیان کسی قسم کے باضابطہ مذاکرات نہیں ہو رہے۔








