حج کی تربیت حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ ساحل سمندر کی سیر اور دوسری تفریحی جگہوں کے چکر لگتے رہے، ساتھ ساتھ کراچی شہر کی چہرہ شناسی بھی ہوتی رہی۔

مصنف: ع۔غ۔ جانباز

قسط: 104

یہ بھی پڑھیں: پاکستان کی مقامی اور عالمی مارکیٹ میں سونا مہنگا

حج کا مقصد

حج کا مقصد صرف مقامات مقدسہ کی زیارت ہی نہیں بلکہ عجز و نیاز میں ڈوب کر ربِّ کعبہ کے حضور پیش ہونا، رُوحِ ابراہیمی کو زندہ کرنا اور تسلیم و رضا کے سانچے میں ڈھل جانا ہے۔ لاکھوں فرزندانِ توحید کفن کی طرح احرام کی دو چادریں پہنے ایک ہی ترانہ "لبیک اللھم لبیک" پکارتے ہوئے اپنے رب کو منانے کے لیے دیوانہ وار اس کے گھر کے گرد چکّر لگاتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: لاہور میں رمضان کا چاند نظر نہیں آیا

حج کی عبادت

حج کی عبادت ایک وارفتگی کی عبادت ہے جس میں محب اپنے محبوب کو منانے کیلئے ننگے سر، سادہ لباس اور زبان پر اپنی حاضری کا کلمہ الاپتے ہوئے کبھی اپنے محبوب کے گھر کے گرد چکر لگاتا ہے کبھی اس کے گھر کو چومتا ہے، اس سے راز و نیاز کی باتیں کرتا ہے اور اس سے رحم و کرم کی بھیک مانگتا ہے۔ اس سے اپنی محبت کا اظہار کرتا ہے، اس کی توجہات مانگتا ہے اور اس سے قول و قرار کرتا ہے کہ تو ہی میرا مقصود ہے، تو ہی میرا مطلوب ہے۔ تو ہی میرا سب کچھ ہے۔ تیرے سوا میرا کوئی نہیں ہے۔ حاجی اپنے محبوب حقیقی کے حضور اپنی نادانیوں، اپنی کوتاہیوں پر ماتم کرتا ہے اور آئندہ اپنی وفاداری کا اقرار کرتا ہے۔ حتیٰ کہ اپنے محبوب کی ہر چاہت پر فدا ہونے کا عزمِ مصمّم کرتا ہے اور اپنے مقصد کو پا لیتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم سمیت اہم شخصیات کی سکیورٹی فورسز کی گاڑی پر حملہ کی مذمت

حج بیت اللہ کی عظمت

حج بیت اللہ ہر مسلمان کی زندگی کی تمنا اور بلند ترین نصب العین ہے۔ حج ایک عظیم الشان فریضہ ہے۔ قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: "لوگوں پر اللہ کا یہ حق ہے کہ جو اس گھر تک پہنچنے کی استطاعت رکھتا ہے اس کا حج کرے اور جو کوئی اس حکم کی پیروی سے انکار کرے تو اسے معلوم ہونا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ تمام دنیا والوں سے بے نیاز ہے۔" (سورۃ آل عمران 97)

بے شک اللہ تعالیٰ نے اپنے حرمت والے گھر کو عظمت بخشی اور صاحبِ استطاعت مسلمانوں پر اس گھر کا حج فرض کیا اور انہیں عام دنوں میں عمرہ کرنے کا حکم بھی دیا۔ قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: "اللہ کی خوشنودی کیلئے جب حج اور عمرہ کی نیت کرو تو اسے پورا کرو۔" (سورۃ البقرہ 196)

یہ بھی پڑھیں: ہرجانہ ادا کیا جائے، مضبوط بین الاقوامی ضمانتیں دی جائیں کہ آئندہ جارحیت نہیں کی جائے گی: صدر ایران مسعود پزشکیان

سعادت حج

یہ 1983ء تھا جب جمعۃ المبارک میں ہونے والا "حج اکبر" کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت جوش میں آئی اور مجھ جیسے ناچیز کے دل میں حج کرنے کی اُمنگ پیدا کردی۔ حج کے لیے باقاعدہ درخواست دینے کی بھی ضرورت نہ پڑی۔ وہ اس لیے کہ میرا بیٹا طارق کامران جو "لیبیا" کی ملٹری ورکشاپ میں ملازم تھا، اُس نے وہاں سے اُس وقت کے رائج قانون کے مطابق حج کے لیے مطلوبہ رقم کا بینک ڈرافٹ فارن کرنسی میں بھیج دیا۔ تو اِس طرح میں اور میری بیگم بغیر قرعہ اندازی حج کے لیے جانے والوں میں شامل ہوگئے۔

اُس وقت صرف کراچی سے ہی حج کے لیے پروازیں جاتی تھیں۔ لہٰذا ریل گاڑی میں ایک "4 سیٹ والا کپّا" بک کرا لیا گیا۔ بیٹا احمد ندیم بھی کراچی تک ہمارے ساتھ گیا اور پھر ہماری کراچی سے حج کے لیے روانگی کے بعد واپس لاہور آگیا۔ کراچی میں ہمارا قیام بھتیجے عبد الخالق کے ہاں رہا جو کہ وہاں کراچی میں نیوی میں آفیسر تھا۔ اُس کی ہنس مُکھ بیگم "رشیدہ" نے ہماری بہت خاطر مدارت کی۔ وہاں حج کی تربیت حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ ساحل سمندر کی سیر اور دوسری تفریحی جگہوں کے بھی چکّر لگتے رہے۔ ساتھ ساتھ کراچی شہر کی چہرہ شناسی بھی ہوتی ہی رہی۔ میں نے حجّ تمتّع کیا یعنی ایک ہی سفر میں عمرہ اور حج ادا کیا۔ پہلے عمرہ پھر حج۔ (جاری ہے)

نوٹ

یہ کتاب "بک ہوم" نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں) ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

Related Articles

Back to top button
Doctors Team
Last active less than 5 minutes ago
Vasily
Vasily
Eugene
Eugene
Julia
Julia
Send us a message. We will reply as soon as we can!
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Mehwish Sabir Pakistani Doctor
Ali Hamza Pakistani Doctor
Maryam Pakistani Doctor
Doctors Team
Online
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Dr. Mehwish Hiyat
Online
Today
08:45

اپنا پورا سوال انٹر کر کے سبمٹ کریں۔ دستیاب ڈاکٹر آپ کو 1-2 منٹ میں جواب دے گا۔

Bot

We use provided personal data for support purposes only

chat with a doctor
Type a message here...