محنت، اخلاص اور خدمتِ انسانیت کی ایک روشن داستان
تحریر: وقار ملک
یہ بھی پڑھیں: پاک فوج کا عراقی فوج کے لیے اسپیشل فورسز ٹریننگ کا کامیاب انعقاد
خصوصیات اور کردار
دنیا میں کچھ شخصیات ایسی ہوتی ہیں جو اپنے کردار، محنت اور خلوص کے ذریعے نہ صرف اپنی پہچان بناتی ہیں بلکہ اپنے وطن اور کمیونٹی کا نام بھی روشن کرتی ہیں۔ ندیم بٹ انہی شخصیات میں شامل ہیں، جنہوں نے یورپ کی سرزمین پر رہتے ہوئے صحافت کے میدان میں ایک منفرد مقام حاصل کیا اور پاکستانی کمیونٹی کو عالمی سطح پر متعارف کروانے میں اہم کردار ادا کیا۔
یہ بھی پڑھیں: ہندو انتہا پسندوں کا عیسائی پادری پر بدترین تشدد، چہرے پر سرخ سندور مل دیا، جوتوں کا ہار پہنا کر گاؤں میں گھمایا
نئی شروعات اور کامیابی
یورپین دارالحکومت میں رہتے ہوئے ندیم بٹ نے جس انداز میں پاکستانی کمیونٹی کی نمائندگی کی، وہ قابلِ ستائش ہے۔ انہوں نے نہ صرف یورپ میں بسنے والے پاکستانیوں کے مسائل، کامیابیوں اور سرگرمیوں کو اجاگر کیا بلکہ یورپین یونین جیسے اہم ادارے کو ایشیائی کمیونٹی، خصوصاً پاکستانیوں میں متعارف کروانے کا فریضہ بھی سرانجام دیا۔ ان کی صحافت نے مختلف ثقافتوں کے درمیان ایک مضبوط پل کا کردار ادا کیا۔
یہ بھی پڑھیں: ستاروں کی روشنی میں آپ کا آج (ہفتے) کا دن کیسا رہے گا ؟
پیشہ ورانہ سفر
ندیم بٹ کے صحافتی سفر کا آغاز ایک ایسے معروف ٹی وی چینل سے ہوا جو یوکے اور یورپ میں گھر گھر دیکھا جاتا تھا۔ یہ چینل اپنی الگ پہچان رکھتا تھا اور ناظرین میں بے حد مقبول تھا۔ ایسے پلیٹ فارم پر کام کرنا خود ایک چیلنج تھا، لیکن ندیم بٹ نے اپنی محنت، لگن اور پیشہ ورانہ مہارت کے ذریعے اس چیلنج کو کامیابی میں بدل دیا۔ انہوں نے دن رات محنت کی، اپنی صلاحیتوں کو نکھارا اور جلد ہی وہ وقت آ گیا جب ناظرین ان کی خبروں اور پروگرامز کا بے چینی سے انتظار کرنے لگے۔
یہ بھی پڑھیں: سینیٹ کا اجلاس تین گھنٹے کی تاخیر کے بعد بالآخر شروع
اخلاقیات اور شخصیت
ان کی کامیابی کا راز صرف پیشہ ورانہ مہارت نہیں بلکہ ان کا اعلیٰ اخلاق، نرم گفتاری، محبت، شرافت اور مثبت رویہ بھی ہے۔ انہوں نے ہمیشہ لوگوں کے ساتھ احترام اور خلوص کا برتاؤ کیا، جس کی بدولت انہوں نے یورپ میں نہ صرف ایک کامیاب صحافی بلکہ ایک باوقار انسان کے طور پر بھی اپنی پہچان بنائی۔
یہ بھی پڑھیں: ایرانی قیادت اور عوام پر مکمل اعتماد ہے، پرامن اور مستحکم ایران پاکستان کے مفاد میں ہے: ترجمان دفتر خارجہ
خاندانی زندگی
ذاتی زندگی میں بھی ندیم بٹ ایک مثالی شخصیت کے طور پر سامنے آتے ہیں۔ انہوں نے اپنی مصروف زندگی کے باوجود اپنے بچوں کی تربیت پر خصوصی توجہ دی۔ انہیں قرآن، اسلام اور دینی تعلیمات سے روشناس کروایا اور ساتھ ہی جدید تعلیم کے زیور سے بھی آراستہ کیا۔ انہوں نے اپنے بچوں کو طب کے شعبے میں آگے بڑھنے کی ترغیب دی تاکہ وہ انسانیت کی خدمت کر سکیں۔ آج ان کے بچے ڈاکٹر بن چکے ہیں اور معاشرے میں خدمتِ انسانیت کے جذبے کے تحت اپنی ذمہ داریاں ادا کر رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: بنگلہ دیش کے ایئر چیف کا نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی کا دورہ، دو طرفہ فوجی تعاون پر زور
یادگار لمحہ
23 مارچ 2026 کا دن ندیم بٹ کی زندگی میں ایک یادگار سنگ میل ثابت ہوا۔ اس موقع پر پاکستان کے سفارت خانہ برسلز کی جانب سے انہیں بہترین صحافت کے اعزاز سے نوازا گیا۔ یہ ایوارڈ سفیر پاکستان، رحیم حیات قریشی نے انہیں پیش کیا۔
یہ بھی پڑھیں: سیکیورٹی فورسز نے افغانستان سے ڈرون حملوں کی کوشش ناکام بنادی، ملبہ گرنے سے دو بچوں سمیت چار افراد زخمی
کامیابی کی داستان
ندیم بٹ اپنی کامیابی کو ہمیشہ اللہ تعالیٰ کی رحمت اور کرم قرار دیتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے: "خلوصِ دل سے کی گئی محنت اور سچی نیت سے کی گئی عبادت کبھی رائیگاں نہیں جاتی۔" انہوں نے یہ ثابت کیا کہ اگر انسان محنت، دیانتداری اور اخلاص کے ساتھ اپنے مقصد کی طرف بڑھتا رہے تو کامیابی اس کا مقدر بن جاتی ہے۔
خلاصہ
ندیم بٹ کی داستان نہ صرف صحافت سے وابستہ افراد بلکہ ہر اس شخص کے لیے مشعلِ راہ ہے جو اپنی زندگی میں کچھ بڑا کرنا چاہتا ہے۔ انہوں نے اپنی صحافت کے ذریعے نہ صرف معلومات فراہم کیں بلکہ نوجوان نسل میں شعور بیدار کیا۔ آخر میں، شیخ ماجد نے کہا کہ ترقی صرف وہی انسان حاصل کر سکتا ہے جو اپنے دل میں اخلاص رکھتا ہو، جبکہ ندیم بٹ اسی اصول کی جیتی جاگتی مثال ہیں۔
نوٹ: یہ مصنف کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔
اگر آپ بھی ڈیلی پاکستان کیلئے لکھنا چاہتے ہیں تو اپنی تحاریر ای میل ایڈریس '[email protected]' یا واٹس ایپ "03009194327" پر بھیج دیں۔








