بیوی کے مبینہ قاتل اور چار سال سے مفرور انڈین فوج کے سابق کپتان جو گیس سلینڈر بھروانے کے سبب پکڑے گئے
سابق کپتان کی گرفتاری
ممبئی (ڈیلی پاکستان آن لائن) انڈین پنجاب کے شہر فاضلکہ کی پولیس نے فوج کے سابق کپتان سندیپ تومر کو گرفتار کر لیا ہے، جو اپنی بیوی کے قتل کے مقدمے میں تقریباً چار سال سے مفرور تھے۔
یہ بھی پڑھیں: عادل بازئی خون کے کینسر میں مبتلا ہیں، جنید اکبر کا انکشاف
پولیس کی تفتیش
بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق بھارتی پولیس نے بتایا کہ وہ ایل پی جی سلینڈر بھروانے اور مالی لین دین کے دوران اپنی اصلی بینک اکاؤنٹ کی تفصیلات اور پی اے این کارڈ استعمال کر رہے تھے۔ پولیس نے اسی سراغ کی مدد سے ان تک رسائی حاصل کی۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان تحریک انصاف نے اسلام آباد میں 5 اگست کو جلسے کی اجازت مانگ لی
کیس کا پس منظر
ایس ایس پی گُرمیت سنگھ کے مطابق سابق کیپٹن سندیپ تومر کے خلاف 2013 میں آئی پی سی کی دفعہ 304 بی کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ ان پر اپنی بیوی کے ساتھ بدسلوکی، جہیز کے مطالبے اور ان کی موت کا سبب بننے جیسے الزامات تھے۔ یہ مقدمہ ان کے سسر کی مدعیت میں درج کیا گیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: بین الاقوامی موسمیاتی ایپس کی پاکستان میں مون سون کی زائد بارشوں کی پیشگوئی
قتل کا واقعہ
پولیس کے مطابق سندیپ تومر نے اپنی بیوی شویتا سنگھ کو قتل کیا اور اسے خودکشی کا رنگ دینے کی کوشش کی۔ بعد ازاں پولیس کی تحقیقات میں یہ بات ثابت ہوئی کہ یہ خودکشی نہیں بلکہ قتل تھا۔ واقعے کے روز ہی ملزم کو گرفتار کر لیا گیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: یونان کشتی حادثے کا مرکزی ملزم مصر سے گرفتار
عدالتی کارروائی
سندیپ تومر اس مقدمے میں تقریباً پانچ سال جیل میں رہے۔ تاہم 2019 میں پنجاب اور ہریانہ ہائی کورٹ نے انھیں ضمانت پر رہا کر دیا۔ 2022 میں عدالت نے دوبارہ انھیں سرینڈر کرنے کا حکم دیا مگر انھوں نے احکامات کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پیش ہونے سے انکار کیا اور 2022 سے مفرور تھے۔
یہ بھی پڑھیں: پولیس اور ریسکیو ٹیم نے دریائے چناب کے سیلابی ریلے میں پھنسے 200 مویشیوں کو ریسکیو کر لیا
گرفتاری کی تفصیلات
پولیس حکام کے مطابق ان کی تلاش جاری رہی اور آخرکار 28 مارچ کو فاضلکہ پولیس نے مدھیہ پردیش پولیس کی مدد سے انھیں گرفتار کیا۔ سندیپ تومر کا تعلق اتر پردیش کے شہر کانپور سے ہے۔ واقعے کے وقت وہ پنجاب کے شہر ابوہَر میں 12 بہار رجمنٹ میں کیپٹن کے طور پر تعینات تھے۔
یہ بھی پڑھیں: ہم ورلڈ کپ کے لیے اب پوری طرح تیار ہیں، ٹرائی نیشن سیریز جیت کر کپتان سلمان آغا کا بیان
شادی اور الزام
ایف آئی آر کے مطابق دونوں کی شادی فروری 2013 میں ہوئی تھی اور شویتا سنگھ کی موت 8 جولائی 2013 کو ہوئی۔ مرنے والی خاتون کے والد کے مطابق شادی کے کچھ عرصے بعد ہی سندیپ تومر اور ان کے گھر والے جہیز کے لیے شویتا کو پریشان کرنے لگے تھے اور یہ بات انھوں نے اپنی والدہ کو بھی بتائی تھی۔
یہ بھی پڑھیں: شیر اپنا راستہ خود منتخب کرتا ہے اور ہمیشہ اُس پر رواں دواں رہتا ہے، مولانا حسرت موہانی عمر بھربھارتی مسلمانوں کے حقوق کی نگہبانی کرتے رہے۔
مقدمے کی ابتدا
8 جولائی کو انھیں بیٹی کی موت کی اطلاع ملی جس کے بعد انھوں نے داماد سندیپ تومر کے خلاف مقدمہ درج کروایا۔ ایس ایس پی کے مطابق پہلے تو ملزم نے اپنی بیوی کی موت کو خودکشی قرار دیا لیکن تفتیش میں ثابت ہوا کہ یہ قتل ہی تھا۔
یہ بھی پڑھیں: جہاز دریائے نیل کیساتھ ساتھ اسوان کی طرف روانہ ہوا۔ نیچے کرناک مندر کے کھنڈرات اور بادشاہوں اور ملکاؤں کی وادیاں دھوپ میں چمکتی نظر آ رہی تھیں
سزا کی تصدیق
2014 میں مقامی عدالت نے سندیپ تومر کو قتل کا مجرم قرار دیتے ہوئے عمر قید کی سزا سنائی۔ اس کے بعد انھیں فیروزپور جیل بھیج دیا گیا اور فوج نے بھی انھیں برخاست کر دیا۔ تقریبا پانچ سال سزائے قید کاٹنے کے بعد انھوں نے ہائی کورٹ میں اپیل دائر کی جس کے بعد 2019 میں انھیں ضمانت پر رہائی ملی۔
یہ بھی پڑھیں: مسلم لیگ ن اور پی ٹی آئی کے درمیان رابطے بحال ہو گئے
عدالتی احکامات کی خلاف ورزی
تاہم 2022 کی سماعت کے دوران ہائی کورٹ نے عمر قید کی سزا برقرار رکھی۔ اس پر عمل کرنے کے بجائے وہ عدالت میں پیش نہ ہوئے اور فرار ہو گئے۔ 2024 میں شکایت کنندہ نے دوبارہ ہائی کورٹ سے رجوع کیا اور ملزم کی گرفتاری کا مطالبہ کیا۔ عدالت کے حکم پر ایس پی فاضلکہ کی سربراہی میں تین رکنی ٹیم تشکیل دی گئی جس نے سندیپ تومر کی تلاش جاری رکھی۔
یہ بھی پڑھیں: خیبرپختونخوا کے سیاحتی مقامات کا قدرتی حسن برقرار رکھنے کیلئے اہم فیصلہ
نئی شناخت کا استعمال
ایس ایس پی فاضلکہ کے مطابق ضمانت پر رہائی کے بعد سندیپ تومر نے اپنی شناخت تبدیل کر لی تھی اور ملک کے مختلف حصوں میں کام کر رہے تھے۔ گرفتاری کے وقت وہ دوسری شادی بھی کر چکے تھے۔
یہ بھی پڑھیں: علی امین گنڈاپور نے اپوزیشن لیڈر کے پی اسمبلی کو قانونی نوٹس بھجوا دیا
حلیے کی تبدیلی
چار سال کے دوران انھوں نے اپنا حلیہ اور پتا دونوں بدلے اور پنجاب کے بعد اڑیسہ، بنگلورو اور مدھیہ پردیش میں رہائش اختیار کرتے رہے۔ ایس ایس پی کے مطابق ’کچھ دن پہلے ان کے بینک سٹیٹمنٹ سے پتا چلا کہ وہ ایک گیس ایجنسی سے ایل پی جی سلینڈر بھرواتے ہیں۔
گرفتاری کا عمل
’جب گیس ایجنسی سے رابطہ کیا گیا تو ان کا موجودہ پتا دستیاب ہوا۔‘ یہ معلومات مقامی پولیس کے ساتھ شیئر کی گئیں اور وہاں سے سندیپ تومر کو فوراً گرفتار کر لیا گیا۔ بعد ازاں فاضلکہ پولیس کی ایک ٹیم انھیں پنجاب لے آئی جہاں مقامی عدالت نے انھیں ریمانڈ پر جیل بھیج دیا ہے۔








