حکومت نے آئی ایم ایف سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھانے کا وعدہ کر لیا
پاکستان کا آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدہ
لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) پاکستان نے آئی ایم ایف کے ساتھ پٹرولیم قیمتیں بڑھانے کا وعدہ کر لیا ہے۔ بجٹ میں مالیاتی گنجائش نہ ہونے کی صورت میں قیمتوں میں اضافہ کیا جائے گا۔ دوسری طرف تیل، بجلی اور گیس کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے مہنگائی پچھلے ماہ میں ڈیڑھ سال کی بلند ترین سطح 7.3 فیصد تک پہنچ گئی۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم شہباز شریف اتحادی جماعتوں کے اعزاز کے عشائیہ، 27 ویں ترمیم میں تعاون پر شکریہ ادا کیا
سبسڈی کے حوالے سے حکومت کا مؤقف
نجی ٹی وی ایکسپریس نیوز کے مطابق، حکومت نے عالمی مالیاتی فنڈ کو آگاہ کیا کہ پٹرول اور ڈیزل پر دی جانے والی سبسڈی عارضی ہے اور یہ تب تک جاری رہے گی جب تک بجٹ میں مالیاتی گنجائش کی نشاندہی نہیں ہو جاتی۔ ایندھن کی قیمتوں کو برقرار رکھنے کے لیے مزید 200 ارب کی مالیاتی گنجائش نکالنے کیلیے صوبوں سے بات چیت کی جا رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ایران نے جوہری پروگرام بحال کیا تو امریکا کارروائی کرے گا: ٹرمپ کا انتباہ
سبسڈی میں کمی کے اقدامات
حکام نے آئی ایم ایف کو بتایا کہ بجٹ میں زیادہ سبسڈی سے بچنے کے لیے ایندھن کی قیمتوں میں باقاعدگی سے نظرثانی کی اجازت جاری رہے گی جب تک کہ اضافی گنجائش نہیں نکلتی۔ حکومت نے سرکاری گاڑیوں کے فیول الاونسز میں کمی اور پچھلی سہ ماہی کے غیر تنخواہی اخراجات میں 20 فیصد کمی کر کے 27 ارب روپے بچائے ہیں۔ وفاقی ترقیاتی بجٹ سے مزید 100 ارب روپے کم کر دیئے گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: کوہاٹ؛ دریائے سندھ میں کشتی ڈوب گئی
قیمتوں میں ممکنہ اضافہ
تاہم، حکومت کے اندر لوگوں کا یہ بھی خیال ہے کہ طلب کو کم کرنے کے اقدام کے طور پر اس جمعہ کو قیمتوں میں کچھ اضافہ کیا جانا چاہیے۔ ذرائع کے مطابق، ایندھن کی قیمتوں میں 20 فیصد اضافے کے باوجود گزشتہ ماہ کھپت میں کوئی کمی نہیں ہوئی کیونکہ نہ تو عوام اور نہ ہی حکومت نے خود نظم و ضبط کا مظاہرہ کیا۔
یہ بھی پڑھیں: وزیر خزانہ کا ریٹنگ ایجنسی سے پاکستان کی ریٹنگز کو بہتر بنانے کا مطالبہ
بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کی نئی شرائط
آئی ایم ایف نے توانائی کی قیمتوں میں اضافے کے اثرات کو دور کرنے کے لیے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے مستحقین کے لیے سہ ماہی وظیفے کو اگلے سال جنوری سے 35 فیصد بڑھا کر 19,500 روپے کرنے کی نئی شرط بھی عائد کر دی ہے۔ تاہم، امداد میں 5 ہزار روپے کا سہ ماہی اضافہ درمیانی آمدنی والے گروپوں پر اثرات کو پورا نہیں کر سکتا۔
یہ بھی پڑھیں: سونے کی قیمت پھر بڑھ گئی، 900روپے کا اضافہ
نئی مفاہمت اور مستقبل کے اقدامات
ذرائع کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت اور آئی ایم ایف کے درمیان جنوری 2027 سے غیر مشروط کیش ٹرانسفر کی رقم 14,500 روپے سے بڑھا کر 19,500 روپے کرنے کے لیے مفاہمت ہو گئی ہے۔ یہ اضافہ مہنگائی کے اثرات کو دور کرنے کے لیے کافی ہو گا اور کم آمدنی والے طبقے کی جانب سے استعمال کی جانے والی بنیادی خوراک کی قیمت کے 15 فیصد کے قریب لے جایا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: راولپنڈی انسٹیٹیوٹ آف یورولوجی میں فعال ہونے والا گردوں کا ڈائلسز سینٹر مریضوں کے لیے کسی نعمت سے کم نہیں : حنیف عباسی
صحت اور تعلیم کے شعبے میں اضافے
ذرائع نے بتایا کہ مشروط منتقلی کے حصے کے طور پر، صحت اور تعلیم کی اسکیموں کے تحت تقریباً 7 لاکھ مزید مستفید کنندگان کو شامل کیا جائے گا اور مزید 2 لاکھ کو بی آئی ایس پی کے ذریعے چلائے جانے والے نیوٹریشن پروگراموں میں شامل کیا جائے گا۔
قرض کی سیٹلمنٹ کے لیے مزید اقدامات
حکومتی ذرائع نے بتایا کہ 1.2 بلین ڈالر کے قرض کی اقساط کی سیٹلمنٹ کے لیے اسٹاف لیول سطح پر مشروط معاہدے تک پہنچنے سے پہلے آئی ایم ایف کو قیمتیں بڑھانے کی یقین دہانی کرائی گئی تھی۔ اس سلسلے میں ایگزیکٹو بورڈ کا اجلاس فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی عدالتی مقدمات سے 322 ارب روپے ریونیو کمانے کی صلاحیت سے مشروط ہے۔








