ایک تو خیبرپختونخوا کو این ایف سی ایوارڈ میں پورا شیئر نہیں دیا جارہا، دوسرا فاٹا انضمام تاحال مکمل نہیں ہوسکا، تیسرا موجودہ صورتحال میں 25 تا 30 ارب بجٹ کٹوتی کی بات کی جارہی ہے، سہیل آفریدی۔
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کا بیان
پشاور(ڈیلی پاکستان آن لائن) وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کا کہنا ہے وفاقی حکومت خیبرپختونخوا کو اس کے آئینی حقوق فراہم نہیں کر رہی۔ این ایف سی ایوارڈ کے تحت صوبے کو اس کا مکمل حصہ نہیں دیا جا رہا، جبکہ سابق فاٹا اضلاع کا انتظامی انضمام ہونے کے باوجود تاحال مالی انضمام مکمل نہیں کیا گیا، جو آئین کے منافی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن عمرہ کی سعادت حاصل کرنے کیلئے سعودی عرب روانہ
این ایف سی کی تقسیم کا مسئلہ
2018 سے اب تک این ایف سی کی تقسیم غیر آئینی طریقے سے جاری ہے، کیونکہ آئین کے مطابق وسائل کی منصفانہ تقسیم چاروں صوبوں میں ہونی چاہیے، اور فاٹا کی آبادی کا حصہ نہ دینا بھی آئینی خلاف ورزی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: حکومت کا پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا اعلان
مالی بحران اور بجٹ میں کٹوتی
پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے مزید کہا کہ خیبرپختونخوا کو نہ صرف این ایف سی بلکہ نیٹ ہائیڈل پروفٹ (NHP) میں بھی اس کا جائز حق نہیں دیا جا رہا، جبکہ موجودہ مالی بحران کے دوران صوبے کے بجٹ میں 25 سے 30 ارب روپے تک کٹوتی کی تجویز دی جا رہی ہے، جسے صوبائی حکومت نے مسترد کر دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: صدر مملکت نے سی ڈی اے ترمیمی بل 2025 کی منظوری دے دی
عوامی ریلیف اقدامات
انہوں نے واضح کیا کہ صوبائی حکومت نے اپنے وسائل سے عوام کو ریلیف فراہم کیا، جس میں موٹرسائیکل پٹرول ریلیف اور کسان پیکج شامل ہیں۔ دہشت گردی کے خلاف قومی پالیسی کے تحت بے گھر ہونے والے افراد کی امداد بھی صوبائی حکومت خود کر رہی ہے، جبکہ حالیہ تاریخ کے بدترین سیلاب کے دوران بھی عوام کو مکمل ریلیف فراہم کیا گیا اور وفاق کی جانب سے کوئی مالی مدد نہیں دی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: عمران خان سے تینوں بہنوں کی ملاقات
دہشت گردی کے خلاف پالیسی
انہوں نے کہا کہ عمران خان کے وژن کے مطابق دہشت گردی کے خاتمے کے لیے جامع پالیسی پیش کی گئی، تاہم اس پر عملدرآمد نہیں کیا گیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ 21 سال کی پالیسی ناکام رہی ہے، جبکہ ان کی حکومت کی تجاویز کو نظرانداز کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: انسداد دہشتگردی عدالت نے اعظم سواتی کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا
اختلافی بیانیے
وزیراعلیٰ نے کہا کہ ان کے خلاف مختلف بیانیے بنائے گئے، جن میں فوج مخالف اور غیر جمہوری رویے کے الزامات شامل تھے، مگر یہ تمام بیانیے عوام نے مسترد کر دیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بطور وزیراعلیٰ انہیں دہشت گرد اور سمگلر جیسے القابات سے پکارا گیا، اس کے باوجود انہوں نے ملک اور افواج پاکستان کے ساتھ یکجہتی کا مظاہرہ کیا اور شہداء کے جنازوں میں شرکت کی۔
احتجاج کا اعلان
آخر میں وزیراعلیٰ نے اعلان کیا کہ تمام آئینی و قانونی راستے اختیار کرنے کے باوجود انصاف نہ ملنے پر احتجاج کا راستہ اختیار کیا جائے گا۔ 9 اپریل کو لیاقت باغ راولپنڈی میں جلسہ منعقد کیا جائے گا، جس کے لیے قانونی اجازت حاصل کی جا رہی ہے۔ اگر اجازت نہ ملی تو جہاں روکا گیا وہیں احتجاج کیا جائے گا۔ عوام سے اپیل کی کہ وہ بھرپور شرکت کر کے اپنا جمہوری حق استعمال کریں۔








