ایک سال کے دوران 65 لاکھ فحش مواد کی ڈومینز کو بلاک کیاگیا، پی ٹی اے اور این سی سی آئی اے نے رپورٹ قومی اسمبلی میں پیش کردی
پاکستان میں سوشل میڈیا پر توہین آمیز فحش مواد کے خلاف کارروائیاں
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) اور وفاقی تحقیقاتی ادارے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) نے ٹک ٹاک اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر توہین آمیز فحش مواد سے متعلق رپورٹ قومی اسمبلی میں پیش کردی۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی کی تبدیلی کی خبریں بے بنیاد ہیں پیپلز پارٹی بلوچستان
رپورٹ کے اہم نکات
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سوشل میڈیا ٹک ٹاک پر توہین آمیز فحش مواد کی روک تھام کے لیے اقدامات جاری ہیں۔ گزشتہ سال سائبر ہراسگی پر 545، نفرت انگیز تقریروں پر 322، جعلی معلومات دینے پر 187، بچوں سے زیادتی پر 58 مقدمات کا اندراج کیا گیا۔ 360 خواتین اور 110 مرد سائبر ہراسمنٹ کا شکار ہوئے جبکہ نفرت انگیز تقاریر پر 42 خواتین اور 273 مرد متاثر ہوئے۔ اسی کے ساتھ غلط معلومات کی فراہمی سے 21 خواتین اور 180 مرد متاثر ہوئے۔
یہ بھی پڑھیں: امریکہ اور چین نے ٹیرف میں 115 فیصد کمی پر اتفاق کرلیا
این سی سی آئی اے کی رپورٹ
این سی سی آئی اے نے رپورٹ میں بتایا کہ توہین آمیز مواد پر 600 سے زائد یو آر ایلز بلاک کیے گئے، جبکہ 435 شکایات درج کی گئی جن میں سے 98 کی انکوائریز اور 42 مقدمات درج ہوئے۔ توہین آمیز فحش مواد پر 73 افراد کو گرفتار کیا گیا اور عدالتوں میں 3 افراد کو سزائیں دی۔
پی ٹی اے کی کاروائیاں
پی ٹی اے نے بتایا کہ ایک سال کے دوران 15 لاکھ غیر قانونی یو آر ایلز کے خلاف کارروائی کی، اور 65 لاکھ فحش مواد کی ڈومینز کوڈبلیو ایم ایس کے ذریعے بلاک کیا۔ ایچ ٹی ٹی پی ایس ویب سائٹس کو مکمل بلاک کرنے کے لیے ڈبلیو ایم ایس سسٹم فعال کردیا گیا ہے۔








