حکومت نے وقت سے پہلے قیمتیں بڑھا کر آئل کمپنیوں کو اربوں روپے کا غیر منصفانہ فائدہ پہنچایا ہے، تیمور سلیم جھگڑا
معاشی صورتحال پر تبصرہ
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) معاشی ترجمان تحریک تحفظ آئین پاکستان تیمور سلیم جھگڑا کا کہنا ہے کہ عالمی منڈی میں قیمتیں زیادہ ہونے پر انہیں آدھا کرنا ممکن نہیں، لیکن حکومت کی بدانتظامی واضح ہے۔ حکومت نے وقت سے پہلے قیمتیں بڑھا کر آئل کمپنیوں کو اربوں روپے کا غیر منصفانہ فائدہ پہنچایا۔
یہ بھی پڑھیں: میں روسٹرم پر گیا، چیف جسٹس اسلام آبادہائی کورٹ کو سلام کیا مگر انہوں نے جواب نہیں دیا; سہیل آفریدی
حکومتی پالیسیاں اور عوام پر اثرات
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم کے ریلیف کے دعوؤں کے باوجود راتوں رات پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں بھاری اضافہ کیا گیا۔ سبسڈی اور قیمتوں کے تعین کے حوالے سے حکومت کی غیر مستقل مزاجی اور متضاد پالیسیاں عوام دشمن ہیں۔ بی آر ٹی میں مفت سفر جیسے اقدامات وقتی "پینک سٹیپ" ہیں۔ یہ اصل معاشی تباہی کا حل نہیں ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: لوگ ہر میچ میں پرفارمنس کی توقع رکھتے ہیں، ہم روبوٹ نہیں، ہم سے بھی غلطیاں ہوتی ہیں، حارث رؤوف
بین الاقوامی موازنہ
پاکستان میں پٹرول کی قیمتوں کا موازنہ کینیا، بنگلہ دیش اور بھارت جیسے ممالک سے کیا گیا جہاں قیمتیں نسبتاً کم ہیں۔ پاکستان میں پٹرول 458 روپے تک پہنچ چکا ہے جبکہ ہمسایہ ممالک میں یہ 280 سے 300 روپے کے درمیان ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سندھی شاعر کا قتل، لے پالک بیٹے کو سزائے موت سنا دی گئی
نئی ٹیکس کی شرح
تیمور سلیم جھگڑا نے کہا کہ پاکستان میں پٹرول کی قیمتیں کئی ایسے ممالک سے بھی زیادہ ہیں جن کی فی کس آمدن پاکستان سے بہتر ہے۔ حکومت یہ تاثر دے رہی ہے کہ قیمتیں عالمی بحران کی وجہ سے بڑھیں، جبکہ حقیقت میں ٹیکسوں کا بوجھ بڑھایا گیا ہے۔ تاریخ میں پہلی بار پٹرولیم لیوی اور کسٹمز ڈیوٹی میں اس حد تک اضافہ کیا گیا ہے جو کہ عوام پر اضافی بوجھ ہے۔ "کلائمیٹ لیوی" ٹیکس غیر منطقی ہے۔
عالمی مثالیں
دنیا کے دیگر ممالک (جیسے انڈیا، آسٹریلیا، اسپین اور کوریا) جنہوں نے عالمی بحران کے دوران اپنے عوام کو ریلیف دینے کے لیے ٹیکس کم کیے، ان کی مثالیں بھی موجود ہیں۔ پاکستان میں پیٹرول مہنگا ہونے کی اصل وجہ عالمی مارکیٹ سے زیادہ حکومت کی جانب سے لگائے گئے بھاری ٹیکس اور لیوی ہیں۔








