کیا ہم کسی بحران کو حل کرنے کے بجائے ایک نیا بحران پیدا کر رہے ہیں؟شفایوسفزئی
شفا یوسفزئی کا بحران کی بات
لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) معروف اینکرپرسن شفا یوسفئی کا کہنا ہے کیا ہم کسی بحران کو حل کرنے کے بجائے ایک نیا بحران پیدا کر رہے ہیں؟
یہ بھی پڑھیں: البانیہ کی مشہور اداکارہ انیلا بشانے اے آئی چیٹ بوٹ میں اپنی تصویر اور آواز کا استعمال روکنے کے لیے اپنی حکومت کے خلاف عدالت سے رجوع کر لیا
مفت پبلک ٹرانسپورٹ کی پالیسی
اپنے ایکس بیان میں انہوں نے کہا کہ 30 دن کے لیے مفت پبلک ٹرانسپورٹ کی پیشکش ایک غیر متوازن پالیسی قدم ہے۔ بظاہر یہ فیصلہ عوام دوست اور دلکش محسوس ہوتا ہے، تاہم حقیقت میں یہ مہنگا، غیر ہدفی اور مالی اعتبار سے مشکل ہے۔
یہ بھی پڑھیں: 50 فیصد پر پہلے ہی کنٹرول، اب پورے غزہ پر قبضہ، اسرائیل کا نیا جنگی منصوبہ سامنے آگیا
ٹرانسپورٹ کا نظام اور مالی دباؤ
ٹرانسپورٹ نظام محض خیر سگالی پر نہیں چل سکتا۔ کرایوں کو مکمل طور پر ختم کرنا، چاہے عارضی طور پر ہی کیوں نہ ہو، مالی بوجھ کو بڑی حد تک ریاست پر منتقل کر دیتا ہے، جو پہلے ہی محدود وسائل کا سامنا کر رہی ہے۔اس کے برعکس ایک زیادہ متوازن اور دانشمندانہ حکمت عملی یہ ہوتی کہ کرایوں میں نمایاں کمی کی جاتی، تاکہ عوام کو ریلیف بھی ملتا اور نظام بھی بلا تعطل چلتا رہتا، بغیر اس کے کہ غیر ضروری مالی دباؤ میں اضافہ ہو۔
توازن قائم کرنے کی ضرورت
شفا یوسفزئی نے اس بات پر زور دیا گیا کہ فوری ریلیف اور مالی ذمہ داری کے درمیان توازن قائم رکھنا ناگزیر ہے۔
- Rather than managing a crisis, are we manufacturing a new one?
A blanket offer of free public transport for 30 days is a blunt policy tool - great for headlines and as generous as it may sound but realistically speaking its expensive, untargeted, and fiscally hard to justify.…
— Shiffa Z. Yousafzai (@Shiffa_ZY) April 3, 2026








