صنعتی، زرعی پیداوار میں اضافے اور برآمدات کو بڑھاوا دینے سے عوام کو بے روزگاری اور غربت سے نکال کر خوشحالی کی منزل سے ہمکنار کیا جا سکتا ہے۔

مصنف: رانا امیر احمد خاں

قسط: 355

یہ بھی پڑھیں: ایگری گریجویٹ انٹرنز کی فیلڈ میں موجودگی سے گندم کی بہتر پیداوار متوقع، 4 بڑے شہروں میں ماڈل ایگری کلچر مال فنکشنل

کان کنی / مائننگ کو فروغ دینے کی فوری ضرورت

اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے پاکستان کے صوبوں کی سرزمین معدنیات اور تیل و گیس کے خزانوں سے مالا مال ہے۔ صوبہ بلوچستان میں کوہلو، ڈیرہ بگتی، مسلم باغ، قلعہ سیف اللہ خاں، خضدار، لسبیلہ، چاغی، دلبند، پنجگور، خاران اور قلات میں تیل گیس کے وسیع ذخائر کے علاوہ سونا، چاندی، تانبہ، لوہا، سیسہ، زنک اور کرومائیٹ کی وسیع کانیں ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: آدمی نے بلیک میلنگ سے تنگ آکر ایسکارٹ کا سر قلم کردیا

تعلیمی اداروں کی کمی اور خودکفالت کی ضرورت

افسوس گزشتہ 75 سالوں میں ہمارے حکمرانوں نے معدنیات کی مائننگ کان کنی کے لیے ٹیکنیشن، انجینئرز اور جیالوجسٹ پیدا کرنے کے لیے الگ سے کوئی اعلیٰ تعلیمی ادارہ یونیورسٹی نہیں بنائی کہ ہم زیر زمین خزانوں سے استفادہ کرنے اور معدنی دولت نکالنے میں خودکفالت حاصل کرتے یوں غیر ملکی کمپنیوں کی اجارہ داری سے نجات حاصل کر لیتے۔ بقول ہمارے مرحوم دوست انجینئر کرنل (ر) عبدالرزاق بگٹی، پاکستان کے قومی سائنسی ادارہ Nescom میں کم و بیش 80 ہزار سائنسدان، انجینئرز اور ٹیکنیشنز ہیں جو ملک کے میزائل اور نیوکلیئر پروگرام کے ساتھ منسلک ہیں۔ ان کی صلاحیتوں کو بروئے کار لا کر اور پاکستان منرل ڈویلپمنٹ کارپوریشن کے زیر اہتمام معدنیات کی مائننگ فوری شروع کی جانی چاہیے اور اس کی آمدنی سے صوبہ کے پی، بلوچستان اور صوبہ سندھ کے غریب عوام کی حالت بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پنجاب حکومت کا پنجاب ایئر لائن کے نام سے ایئر لائن لانچ کرنے کا فیصلہ

گوادر کی بندرگاہ کی فنکشنل بننے میں تاخیر

گوادر کی بندرگاہ کو فنکشنل کرنے میں کیوں دیر لگائی جا رہی ہے؟ گوادر سے تجارتی سرگرمیوں کی صورت میں سالانہ 10 ارب ڈالر کی آمدنی متوقع ہے جبکہ ٹرانزٹ ٹریڈ کی راہداری سے مزید اربوں ڈالر کی توقع ہے۔ ہمارے ہمسایہ ملک بھارت کی طرح صرف IT ایکسپورٹس کو 3 تا 5 ارب ڈالر سے بڑھا کر کم از کم 50 ارب ڈالر تک لے جانے کی ضرورت ہے۔

یہ بھی پڑھیں: سٹاک مارکیٹ میں تیزی کا رجحان برقرار، ایک لاکھ 20 ہزار پوائنٹس کی حد بحال

ملک میں صنعتوں کا فروغ

صنعتی اور زرعی پیداواروں میں اضافہ کرنے اور ملکی برآمدات کو کئی گنا بڑھاوا دینے سے ہی ملک کے کروڑوں عوام کو بے روزگاری اور غربت سے نکال کر خوشحالی کی منزل سے ہمکنار کیا جا سکتا ہے۔ اس لیے ضرورت اس امر کی ہے کہ زراعت کی ترقی اور صنعت کاری میں اربوں کھربوں کی بلیک منی (خفیہ دولت) کی سرمایہ کاری کے لیے اگلے 5سال کے لیے چھوٹ دے دی جائے۔ نیز ہر قسم کی کاروباری سرگرمیاں شروع کرنے، گھر بنانے وغیرہ کے لیے ہرممکن سازگار ماحول اور سہولیات مہیا کی جائیں تاکہ گزشتہ 30، 40 سالوں سے تبدریج ڈوبتی ہوئی ہماری اکانومی کا پہیہ تیزی سے چلنا شروع ہو جائے۔

یہ بھی پڑھیں: ارشد خان کے بعد ایک اور چائے والا نے پوری دنیا میں دھوم مچا دی

ماضی کے منافع دینے والے اداروں کی حالت

سٹیل مل، پی آئی اے، ریلوے جیسے ماضی میں منافع دینے والے ادارے 2010ء سے لگاتار نقصان میں جا رہے ہیں اور قومی خزانے پر بوجھ بنے ہوئے ہیں۔ انہیں منافع بخش بنایا جانا موجودہ سیاستدانوں کے بس کی بات نہیں لہٰذا انہیں پرائیویٹ سیکٹر کے حوالے کرنے میں مزید تاخیر نہ کی جائے۔

یہ بھی پڑھیں: بلغاریہ اور جاپان سے تعلق رکھنے والی خواتین کا کوٹ ادو کے 2 نوجوانوں سے نکاح، دونوں نے اسلام قبول کر لیا۔

بجلی کی قیمتوں کے اثرات

پاکستان جب تک آئی پی پی ایز کی مہنگی بجلی آج کی اسّی (80) روپے فی یونٹ بجلی سے جان چھڑا کر سستی بجلی کا حصول ممکن نہیں بنائے گا، ہماری صنعت و حرفت کبھی ترقی کر سکے گی اور نہ ہی ہم اپنی ایکسپورٹس کو اپنی ضروریات کے مطابق بڑھاوا دیں سکیں گے اور نہ ہی اپنے ملکی و غیر ملکی قرضوں کے انبار اپنے سر سے اْتارنے کی پوزیشن میں آئیں گے۔

حکومت کے اقدامات کی ضرورت

لہٰذا آج کے دونوں حکمران سیاسی خاندانوں کو جنہوں نے 35 سال قبل 1990ء کے عشرہ میں آئی پی پی ایز کی مہنگی بجلی لگوانے کا آغاز کیا تھا، ان سے پاکستانی قوم سے معافی مانگنی چاہیے۔ نیز اپنی اناؤں کو اپوزیشن پارٹیوں کے ساتھ آئے روز کی بلیم گیم اور دیگر لڑائیوں کو خیرباد دیتے ہوئے ملک میں ایسے اقدامات اور حالات پیدا کریں کہ فوری طور پر تمام سیاسی جماعتیں ایک میز کے گرد بیٹھ کر آئندہ کے لیے پاکستان کو آگے لے جانے کے لائحہ عمل پر متفق ہو کر چل سکیں۔ ورنہ تمام سیاستدان اور سیاسی پارٹیاں ملک کو ناقابل تلافی نقصان پہنچانے کا باعث بنتے رہیں۔

(جاری ہے)

نوٹ: یہ کتاب "بک ہوم" نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں) ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

Related Articles

Back to top button
Doctors Team
Last active less than 5 minutes ago
Vasily
Vasily
Eugene
Eugene
Julia
Julia
Send us a message. We will reply as soon as we can!
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Mehwish Sabir Pakistani Doctor
Ali Hamza Pakistani Doctor
Maryam Pakistani Doctor
Doctors Team
Online
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Dr. Mehwish Hiyat
Online
Today
08:45

اپنا پورا سوال انٹر کر کے سبمٹ کریں۔ دستیاب ڈاکٹر آپ کو 1-2 منٹ میں جواب دے گا۔

Bot

We use provided personal data for support purposes only

chat with a doctor
Type a message here...