آئی ایم ایف کو بجلی مہنگی کرنے کی یقین دہانی، بجٹ سبسڈی 830 ارب تک محدود رکھنے کا فیصلہ
پاکستان کا بجٹ 2023: آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) حکومت نے عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کو بجلی کی قیمتیں بڑھانے کی یقین دہانی کراتے ہوئے بجٹ میں سبسڈی کو 830 ارب روپے تک محدود کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب میں جنگلی حیات کے غیرقانونی شکار پر 10 ہزار سے 25 ہزار روپے تک جرمانے بڑھا دیے گئے
سبسڈی کی حد اور آئی ایم ایف کی شرائط
تفصیلات کے مطابق آئندہ بجٹ میں سبسڈی کو 830 ارب روپے تک محدود رکھنے کے عزم کے ساتھ، پاکستان نے آئی ایم ایف کو یقین دہانی کرائی ہے کہ حالیہ خلیجی جنگ اور اس کے نتیجے میں عالمی توانائی کی منڈی میں آنے والے جھٹکوں کے اثرات کو کم کرنے کے لیے ٹیرف میں بروقت اضافہ کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: بانی پی ٹی آئی عمران خان کی ایکس پوسٹس غیرقانونی قرار دینے کیلئے اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست دائر
نیا ٹیرف کا آغاز
آئی ایم ایف کے ساتھ 7 ارب ڈالر کے توسیعی فنڈ سہولت کے تحت طے پانے والے ڈھانچہ جاتی معیار کے مطابق نیا بنیادی ٹیرف 15 جنوری 2027 سے نافذ العمل ہوگا۔
بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری
آئیسکو، گیپکو اور فیسکو سمیت بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری ایک بار پھر تاخیر کا شکار ہوگئی ہے، اور اب اس کے 2027 کے اوائل تک مکمل ہونے کی توقع ہے۔








