اونچے برف پوش پہاڑوں کا دل موہ لینے والا نظارہ کیا، سارا سفر سنسنی خیزی اور رعنائیوں سے بھر پور، آنکھوں کو خیرہ کرتے نظاروں سے لدا تھا۔
مصنف: شہزاد احمد حمید
قسط: 488
یہ بھی پڑھیں: تجاوزات کے خلاف آپریشن، ریڑھی ضبط ہونے پر دکاندار دل کا دورہ پڑنے سے جاں بحق
تربیتی پروگرام کا آغاز
محکمہ بلدیات گلگت بلتستان نے اپنے افسران کو تربیت کے لئے اکیڈمی بھیجنے کی خواہش کا اظہار کیا۔ اتھارٹی کی منظوری کے بعد، ہمیں مدعو کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ میں نے وہاں چیف سیکرٹری طاہر حسین سے اپنے تعلقات کی بناء پر افسران کے لئے ٹریننگ کورس تیار کیا۔
یہ بھی پڑھیں: عمران خان کے بچے پاکستان نہیں آ سکتے تو انہیں کہیں کہ لندن میں نواز شریف کے گھر کے باہر احتجاج کرنے کے لیے آجائیں: سید مزمل شاہ
یادگار ہوائی سفر
سیکرٹری بلدیات پنجاب کی اجازت سے ملک اسحاق کے ساتھ بذریعہ جہاز گلگت کا سفر کیا۔ یہ ہوائی سفر بہت دلکش تھا۔ میں نے ہمالیہ اور قراقرم کے اونچے برف پوش پہاڑوں کا نظارہ کیا، جو آنکھوں کو خیرہ کر رہا تھا۔ 50 منٹ کی یہ شاندار فلائیٹ کے بعد ہم گلگت پہنچے۔
یہ بھی پڑھیں: ملک بھر میں سونے کی قیمت میں اضافہ
ملاقاتیں اور تربیتی پروگرام کی منظوری
وزیر بلدیات گلگت بلتستان اور بعد میں چیف سیکرٹری سے ملاقات کر کے تربیتی پروگرام پر بریف کیا۔ وزیر صاحب نے ہماری تصویر بنوائی جبکہ چیف سیکرٹری نے پروگرام کی منظوری دی اور کچھ موضوعات بھی شامل کرنے کی تجویز دی۔ دورے کی رپورٹ سپیشل سیکرٹری بلدیات سارہ اسلم کو دی گئی، جو اس پروگرام کی کوارڈینیٹر تھیں۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان میں کتنے فیصد نوجوان ویپ کا استعمال کرتے ہیں؟ رپورٹ جاری
مہمان افسران کی تربیت
اگلے 3 ماہ کے دوران، محکمہ بلدیات گلگت بلتستان کے گریڈ 17 سے 19 تک افسران مختلف گروپس میں ہماری مہمان بنتے رہے۔ ہم نے ان کی تربیت، مہمان نوازی اور تاریخی مقامات کی سیر کا اہتمام کیا۔ ہر آنے والا گروپ جانایالی گیا سے زیادہ خوش اور مطمئن ہوتا۔
یہ بھی پڑھیں: کون اس گھر کی دیکھ بھال کرے۔۔۔جون ایلیا کو مداحوں سے بچھڑے 23 برس بیت گئے
تربیت کا معیار
ٹریننگ کا معیار پاکستان کے معروف تربیتی اداروں سے کم نہیں تھا۔ تربیت مکمل ہونے کے بعد گلگت بلتستان کے وزیر اعلیٰ نے پنجاب کے وزیر اعلیٰ کا شکریہ ادا کیا، جس کا اثر سیکرٹری بلدیات پر بھی ہوا۔
یہ بھی پڑھیں: پرائز بانڈ جیتنے پر ٹیکس کی شرح میں اضافہ
دوستی کے ناتے
اس تربیت نے مجھے اور میرے ساتھیوں کو نئے حوصلے دیے اور کئی دوستوں سے تعلق قائم ہوا، جن میں بشیر اللہ اور ہدایت اللہ شامل ہیں۔ آج بھی ان سے رابطہ ہے اور میں ہر سال گلگت کی سیر کے دوران ان سے ملتا ہوں۔
نوٹ
یہ کتاب "بک ہوم" نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں)۔ ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔








