اونچے برف پوش پہاڑوں کا دل موہ لینے والا نظارہ کیا، سارا سفر سنسنی خیزی اور رعنائیوں سے بھر پور، آنکھوں کو خیرہ کرتے نظاروں سے لدا تھا۔
مصنف: شہزاد احمد حمید
قسط: 488
یہ بھی پڑھیں: بھارتی مسافر طیارے کے حادثے میں ہلاکتوں کی تعداد 242 ہوگئی
تربیتی پروگرام کا آغاز
محکمہ بلدیات گلگت بلتستان نے اپنے افسران کو تربیت کے لئے اکیڈمی بھیجنے کی خواہش کا اظہار کیا۔ اتھارٹی کی منظوری کے بعد، ہمیں مدعو کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ میں نے وہاں چیف سیکرٹری طاہر حسین سے اپنے تعلقات کی بناء پر افسران کے لئے ٹریننگ کورس تیار کیا۔
یہ بھی پڑھیں: سونے کی قیمت میں اتار چڑھاؤ جاری
یادگار ہوائی سفر
سیکرٹری بلدیات پنجاب کی اجازت سے ملک اسحاق کے ساتھ بذریعہ جہاز گلگت کا سفر کیا۔ یہ ہوائی سفر بہت دلکش تھا۔ میں نے ہمالیہ اور قراقرم کے اونچے برف پوش پہاڑوں کا نظارہ کیا، جو آنکھوں کو خیرہ کر رہا تھا۔ 50 منٹ کی یہ شاندار فلائیٹ کے بعد ہم گلگت پہنچے۔
یہ بھی پڑھیں: وساکھی میلہ،صوبائی وزیر اقلیتی امور رمیش سنگھ اروڑہ کی زیر صدارت اعلیٰ سطحی اجلاس ، اہم فیصلے
ملاقاتیں اور تربیتی پروگرام کی منظوری
وزیر بلدیات گلگت بلتستان اور بعد میں چیف سیکرٹری سے ملاقات کر کے تربیتی پروگرام پر بریف کیا۔ وزیر صاحب نے ہماری تصویر بنوائی جبکہ چیف سیکرٹری نے پروگرام کی منظوری دی اور کچھ موضوعات بھی شامل کرنے کی تجویز دی۔ دورے کی رپورٹ سپیشل سیکرٹری بلدیات سارہ اسلم کو دی گئی، جو اس پروگرام کی کوارڈینیٹر تھیں۔
یہ بھی پڑھیں: آرمی چیف کا قصور سیکٹر، جلالپور پیر والا اور ملتان میں قائم فلڈ ریلیف کیمپس کا دورہ، متاثین کو مکمل تعاون کی یقین دہانی
مہمان افسران کی تربیت
اگلے 3 ماہ کے دوران، محکمہ بلدیات گلگت بلتستان کے گریڈ 17 سے 19 تک افسران مختلف گروپس میں ہماری مہمان بنتے رہے۔ ہم نے ان کی تربیت، مہمان نوازی اور تاریخی مقامات کی سیر کا اہتمام کیا۔ ہر آنے والا گروپ جانایالی گیا سے زیادہ خوش اور مطمئن ہوتا۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور کے سستے ترین پلاٹس، ماہانہ قسط انتہائی مناسب، جوب ہولڈرز کے لیے خوشخبری، اپنا گھر اپنی چھت، بسم اللہ ہاؤسنگ سوسائٹی
تربیت کا معیار
ٹریننگ کا معیار پاکستان کے معروف تربیتی اداروں سے کم نہیں تھا۔ تربیت مکمل ہونے کے بعد گلگت بلتستان کے وزیر اعلیٰ نے پنجاب کے وزیر اعلیٰ کا شکریہ ادا کیا، جس کا اثر سیکرٹری بلدیات پر بھی ہوا۔
یہ بھی پڑھیں: نہروں کا معاملہ: کے پی حکومت چشمہ رائٹ کینال منصوبے کیلئے متحرک ہوگئی
دوستی کے ناتے
اس تربیت نے مجھے اور میرے ساتھیوں کو نئے حوصلے دیے اور کئی دوستوں سے تعلق قائم ہوا، جن میں بشیر اللہ اور ہدایت اللہ شامل ہیں۔ آج بھی ان سے رابطہ ہے اور میں ہر سال گلگت کی سیر کے دوران ان سے ملتا ہوں۔
نوٹ
یہ کتاب "بک ہوم" نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں)۔ ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔








