چھوٹے بیٹے سے خواہش کا اظہار کر بیٹھا کہ اگر انڈیا کا ویزہ لگ جائے تو جیتے جی ایک بار اپنی جنم بھومی دیکھ آؤں، سر پٹ دوڑا آیا اور کہا مبارک ہو ویزہ لگ گیا۔
ع۔غ۔ جانباز کی تحریر
قسط: 107
تاریخی پس منظر
یاد رہے پہلے مسجد اور قبرستان کے درمیان ایک بڑا محلہ تھا، جس کا نام "حارۃ الاغوات" تھا۔ یہاں پر رہنے والے افراد کو "حرم نبویؐ کے خادم" سمجھا جاتا تھا۔ 1984ء تا 1994ء کی توسیع کے ابتدائی دنوں میں اس آبادی کو وہاں سے ہٹا دیا گیا، جس کی وجہ سے اب مسجد نبوی اور بقیع کے درمیان کوئی چیز حائل نہیں ہے۔ بقیع میں تقریباً 10 ہزار صحابہ رضی اللہ عنہم مدفون ہیں، جن میں خاتون جنت سیدہ فاطمۃ الزہراءؓ، حضرت عباسؓ، حضرت صفیہؓ، آپ کی پھوپھی، ازواج مطہراتؓ، اور حضرت عثمانؓ کے مزارات شامل ہیں۔
مسجد حرام کی توسیع
یاد رہے کہ سعودی دور میں مسجد حرام میں توسیع کا آغاز 5 محرم الحرام 1375 ہجری میں ہوا، جب مسجد نبوی کی پہلی توسیع کا کام مکمل ہوا۔ سرکاری طور پر اعلان کیا گیا کہ تمام آلات اور مشینری مکہ مکرمہ منتقل کی جائے تاکہ مسجد حرام کی توسیع کا کام شروع کیا جا سکے۔ مسلمان ایک امام کی اقتداء میں نماز ادا کرنے لگے، جس کے نتیجے میں علیٰحدہ مصلّے کا رواج ختم ہوگیا۔ بہرحال، 1985ء میں حج کے دوران مختلف مسلکی علماء اِدھر اُدھر مجلسیں جما کر اپنے مسلکی ارشادات فرمایا کرتے تھے، اور وہاں کئی ٹولیوں کی شکل میں حاجی بیٹھے نظر آتے تھے۔
انڈیا کا ویزا اور کیپٹن عبد الغفور جانباز
1947ء میں برّصغیر کی تقسیم کے دوران جو کشت و خون ہوا اور ایک دائمی کرب جو مقدّر بنا، وہ قبر کی مٹی تک ایک پرچھائی بن کر پیچھا کرتا رہے گا۔ لیکن اس ساری کٹھن راہ گزر سے گزرتے ہوئے بھی کبھی کبھی دل میں شگوفے پھوٹنے لگتے ہیں اور جنم بھومی دیکھنے کی خواہش شدت اختیار کرتی ہے۔ اسی کشمکش میں، جب میں اپنے چھوٹے بیٹے قمر ضیاء "ٹیکنیکل مینجر" کے پاس "مارگلہ ٹیکسٹائل ملز" حسن آباد میں گیا، تو وہاں یہ خواہش ظاہر کی کہ اگر انڈیا کا ویزہ لگ جائے تو جیتے جی ایک بار اپنی جنم بھومی دیکھ آؤں۔
بیٹا کہنے لگا, "ابا جی، یہ بھی کوئی کام ہے؟ ہمارے ہاں تو ایک خاص کارندہ اس کام پر مامور ہے اور وہ ساری انتظامیہ کو ویزے لگا کر دیتا ہے۔" چنانچہ اُس کو یہ کام سونپ دیا گیا۔ اُس نے انڈین ایمبیسی سے فارم لیا، بھر کر میرے دستخط کروا لیے اور پھر وہاں جمع کرا آیا۔
ایک دو ہفتے بعد، وہ پھر انڈین ایمبیسی گیا تاکہ ویزا لگنے کا پتہ کرے۔ لیکن وہ منہ لٹکائے واپس آیا، اسے بتایا گیا کہ ویزا Reject ہوگیا ہے۔ یہ بات اُس نے ہم سے مخفی رکھی۔ پھر دوبارہ خود ہی فارم لے کر بھر کر دستخط کروانے کے بعد انڈین ایمبیسی دے آیا۔ نا جانے سہواً اُس سے ایک غلطی کیونکر ہوئی کہ میرے لمبے قد اور چال ڈھال کو دیکھتے ہوئے میرا نام "کیپٹن عبد الغفور جانباز" لکھ دیا۔
جب وہ دوبارہ پتہ کرنے گیا تو اُس کی باچھیں کھِل گئیں۔ ویزا لگ چکا تھا، اور وہ سر پٹ دوڑا ہمارے پاس آیا اور کہا, "جناب مبارک ہو، ویزا لگ گیا ہے۔" (جاری ہے)
نوٹ
یہ کتاب "بک ہوم" نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں)۔ ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔








