روس کی جوہری کمپنی نے بوشہر پاور پلانٹ سے اپنے عملے کے مزید 198 افراد کو نکال لیا
ایران کے بوشہر جوہری پاور پلانٹ پر حملہ
تہران (مانیٹرنگ ڈیسک) ایران کے بوشہر جوہری پاور پلانٹ پر امریکہ اور اسرائیل کے پروجیکائل حملے کے بعد، روس کی سرکاری جوہری کمپنی نے پلانٹ سے اپنے عملے کے مزید 198 افراد کو نکال لیا۔
یہ بھی پڑھیں: سندھ میں گٹکا، ماوا تیار اور فروخت کرنے والوں کیخلاف شکنجہ تیار، آئی جی کی زیر صدارت اجلاس، اہم فیصلے
روسی کمپنی کی تشویش
’’جنگ‘‘ کے مطابق سربراہ روسی جوہری کمپنی کا کہنا ہے کہ بوشہر جوہری پلانٹ کے اطراف کی صورتحال بدترین ہو رہی ہے۔ پلانٹ کی حدود میں پروجیکٹائل حملے سے ایک ایرانی شہری جاں بحق ہوا ہے۔ اس صورتحال سے روسی صدر پوتن کو آگاہ کر دیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعلیٰ مریم نواز کی زیرصدارت کمشنر اور ڈپٹی کمشنر میٹنگ کا 4 گھنٹے طویل سیشن، 17 اضلاع میں بیوٹیفکیشن پراجیکٹس کی منظوری، بڑے شہروں کو 1100 الیکٹرک بسیں فراہم کرنے کا اعلان
انیخلاء کے بارے میں وضاحت
روسی خبر ایجنسی کے مطابق، روسی عملے کا انخلاء پہلے سے طے تھا۔
حملے کا تازہ ترین اثر
میڈیا رپورٹس کے مطابق، آج صبح بوشہر پروجیکائل حملے میں ایک شخص جاں بحق ہوا ہے۔








