خود کو واہگہ بارڈر کے تصور سے پار کیا تو انڈین آرمی والے میرے گرد گھیرا ڈالے ہوئے تھے، آرمی کا ٹرک مجھے کسی نامعلوم جگہ لے جانے کیلئے کھڑا تھا۔
آغاز
مصنف: ع۔غ۔ جانباز
قسط:108
میں نے جب ورق گردانی کی اور کیپٹن عبد الغفور جانباز کے نام کے ویزہ پر جب خود کو واہگہ بارڈر کے تصوّر سے پار کیا تو وہاں انڈین آرمی والے میرے گرد گھیرا ڈالے ہوئے تھے۔ اور ایک آرمی کا ٹرک مجھے کسی نامعلوم جگہ پر لے جانے کے لیے وہاں کھڑا تھا اور میری اپنی جنم بُھومی کی زیارت کی خواہش کہیں ہوا میں تحلیل ہو رہی تھی۔ بس چپُکا ہو رہا اور اِسی میں اپنی بہتری اور عافیت محسوس کرتے اپنے شب و روز کے کام میں جُت گیا اور اپنی ”جنم بُھومی“ کو دُور سے ہی سلام کر کے خانہ پُھری کرنے لگا۔
یہ بھی پڑھیں: پیکا ایکٹ اور ہتک عزت قانون آزادی صحافت کا گلا گھونٹنے کے مترادف ہے: پی ایف یو جے
ریٹائرمنٹ کا وقت
1990ء میں بطور ”سینئر ریسرچ آفیسر“ریٹائرمنٹ کے بعد دل ناداں ریٹائرڈ لائف گذارنے پر رضامند نہ ہوا۔ اب یہ کوئی زور، زبردستی کا زمانہ تو نہیں تھا کہ اس کو ایک شدید قسم کی جھاڑ پلائیں اور یہ خاموشی کی اتھاہ گہائیوں میں جا کر چپ سادھ لے اور چپکا ہو رہے۔ ویسے بھی دلوں کے سودے ایسے تو نہیں کیے جاتے۔
یہ بھی پڑھیں: جب سوچ آزاد ہو جائے تو قومیں خود بخود آگے بڑھنے لگتی ہیں، قومیں صرف وسائل سے نہیں، فکر سے بنتی ہیں۔
دوست سے مشورہ
ایک دوست سے بلامعاوضہ مشورہ دینے کی درخواست کی۔ بھلا آدمی تھا، اُس نے گرم گرم چائے بھی پیش کی اور پیالی سے اُٹھتے ہوئے چائے کے دِلربا مُرغولوں کے سائے میں مشورہ دیا کہ کہیں اشیائے ضروریہ کی دکان ڈال کر نہ بیٹھ جائیں۔ سو فیصد ناکامی کی گارنٹی لکھنے کے لیے وہ قلم اٹھانے ہی والے تھے کہ ہم نے ہار مان لی اور اُن کے عقیدت مندوں میں شامل ہونے کا ببانگ دُہل اعلان کردیا۔
یہ بھی پڑھیں: متوقع تحریک عدم اعتماد ؛پیپلزپارٹی نے ایک مرتبہ پھر وزیراعظم کو استعفیٰ دینے کیلئے مہلت دیدی
نئے شعبے کا انتخاب
اب مرحلہ آیا کہ کس شعبہ کا انتخاب کیا جائے، قرُعہ بطور ”اسٹیٹ ایجنٹ“ کام کرنے کے نام نکلا۔ اِس شعبہ کے متعلق کچھ پہلے سے بھی جانکاری تھی۔ واپڈا نے اِس دوران مختلف شہروں میں رہائشی سکیموں کا ڈول ڈالا۔ سب سے پہلے لاہور میں ”واپڈا ٹاؤن“ کے نام سے سکیم کا اجراء کیا۔ اُس جگہ اپلائی کیا تو D2 میں ایک کنال کا پلاٹ الاٹ ہوگیا اور ادائیگی قسطوں میں شروع ہوگئی۔
یہ بھی پڑھیں: اسحاق ڈار سے اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار کی ملاقات
دفتر کا قیام
سروس کے آخری دنوں میں میں نے ”رئیل اسٹیٹ“ کا دفتر بنانے کے لیے دفتر کی تلاش شروع کردی۔ دفتر جاتے ایک دن میں نے دیکھا تو شالا مار لنک روڈ پر سوکارنو بازار کے پاس ایک اشتہار لہرا رہا تھا۔ ”دوکان کرائے کے لیے خالی ہے“ میں نے دفتر جانے کی بجائے وہیں دُکان کی پچھلی جانب مالک مکان سے رابطہ کیا تو وہ واقف ہی نکلا لہٰذا فوراً ضروری کاروائی کے بعد چند دن میں دُکان کا قبضہ لے لیا۔
یہ بھی پڑھیں: باجوہ نے کہا رانا بہت موٹے ہوگئے ہو، جیل میں تھے تو بہت سمارٹ تھے، فیض رانا کو پھر سمارٹ بناؤ: رانا ثناء اللہ
نئے کلائنٹس کا آنا
دوسرے دن سب سے پہلا گاہک جو اندر آیا تو وہ ایک ”لحیم و شحیم“ تیس پینتیس کے پیٹھے میں نوجوان ہوگا۔ آتے ہی کھڑے کھڑے دفتر کی مبارکباد دی اور ساتھ ہی اپنا فیصلہ بھی سنا دیا۔ ”پراپرٹی کے ریگولر کام آپ کریں گے اور پھڈّے کے کیس ہم ڈیل کریں گے۔“
یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی کے سابق رہنما متحرک۔۔۔ اسحاق ڈار، ایاز صادق اور مولانا فضل الرحمان سے ملاقاتوں کا فیصلہ
پہلا کاروباری تجربہ
ایک گھر دفتر کے سامنے سڑک کے اُس پار ریلوے کالونی میں واقع تھا۔ مالک مکان نے اِسے بیچنے کا ارادہ ظاہر کیا اور ساتھ ہی یہ بھی بتایا کہ اس مکان کے ذمّے ہاؤس بلڈنگ فنانس کارپوریشن کا کچھ قرضہ بھی واجب الادا ہے۔ چنانچہ میں نے جلد ہی ایک گاہک تلاش کرلیا اور ایک میٹنگ کر کے واجب الادا قیمت کا حتمی فوری فیصلہ ہوگیا۔ (جاری ہے)
نوٹ
نوٹ: یہ کتاب ”بک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں) ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔








