برسوں بعد ملاقات میں خلوص اور محبت پہلے جیسی ہی تھی، پر تکلف چائے سے تواضع کی گئی، تھکاوٹ اور گفتگو کی کمی نے جلد نیند کی وادی میں اتار دیا
تحریر کا آغاز
مصنف: شہزاد احمد حمید
قسط: 489
آزاد کشمیر یاترا؛
یہ بھی پڑھیں: ایم کیو ایم کے بانی الطاف حسین کی طبیعت دوبارہ خراب، ہسپتال منتقل
دعوت اور سفر کی تیاری
ڈائریکٹر جنرل بلدیات آزاد کشمیر نصرت عزیز ”لاء کالج لاہور“ میں میری کلاس فیلو تھا۔ اس نے ایک روز فون کرکے اپنے افسران اور سیکرٹری یونین کونسل کی اکیڈمی میں تربیت کی خواہش کا اظہار کیا اور ساتھ ہی مظفر آباد دورے کی دعوت بھی دے ڈالی۔ اس کی خواہش پر میں نے ایک وفد تشکیل دیا جس میں امتیاز چیمہ، طارق شیخ، قمر رضا، ملک اسحاق، اور عمران نسیم شامل تھے۔ آزاد کشمیر جانے کی اجازت لی اور ”وطن ہمارا آزاد کشمیر“ 3 روزہ دورے پر سرکاری گاڑی میں ڈرائیور ارشد کے ہمراہ الصبح مظفر آباد کے لئے روانہ ہوگئے۔
یہ بھی پڑھیں: کراچی میں 3 سالہ بچی کا بہیمانہ قتل، لاش کچرا کنڈی سے برآمد
مظفر آباد کی خوبصورتی
مری سے ہوتے ہم شام آزاد کشمیر کے پر فضاء، پر سکون، پہاڑوں اور سبزے میں گھرے 2 دریاؤں (جہلم اور نیلم) کے سنگم پر آباد صدر مقام مظفر آباد پہنچے۔
یہ بھی پڑھیں: اداکارہ ریچل کارپانی 45 برس کی عمر میں چل بسیں
دوستوں کا ساتھ اور سفر کی خوشیاں
قمر رضا ساتھ ہو تو تھکاوٹ اور بوریت کا احساس نہیں رہتا۔ وہ اپنی شاعری کم ہی سناتا ہے (وہ صاحب دیوان شاعر ہے، کئی شعری مجموعوں کا مصنف، ملک گیر شہرت کا مالک) لیکن ہر نوع کے نئے لطائف کا ذخیرہ اس کے پاس ہر قسم کی اداسی دور کرنے کے لئے تریاق ہوتا تھا۔ دوران سفر امتیاز چیمہ کی پہلے عمران نسیم سے چپقلش ہوئی اور پھر امتیاز قمر کی مزاح کی چوٹ برداشت نہ کرسکا اور لڑنے پر اتر آیا۔ ایسے میں قمر مسکرا دیا اور ہنستے بولا؛ ”چیمہ یار! سڑ کے نئیں بولنا۔“ چیمہ کا غصہ دھیما ہوتے ہوتے بجھ ہی گیا۔ بس چیمہ کی یہی کمزوری ہے کہ ہر شخص کو اپنی لاٹھی سے ہانکنے کے مرض میں مبتلا اکثر دوستوں میں ناگواری کا سبب بن جاتا تھا۔ ویسے ہے وہ بڑا دلدار اور دوستدار۔
یہ بھی پڑھیں: حکومت عمران خان کو اسپتال منتقل کرنے پر راضی تھی، ذرائع پی ٹی آئی
نصرت عزیز سے ملنا
شام کو نصرت کے دفتر پہنچے تو وہ 20 سال کے بعد بھی بڑے تپاک سے ملا۔ برسوں بعد کی ملاقات میں خلوص اور پیار پہلے جیسا ہی تھا۔ پر تکلف چائے سے تواضع کی گئی۔ اس سے مل کر ہوٹل چلے آئے جہاں رات بھر قیام تھا۔ دریاؤں کے سنگم پر واقع یہ ہوٹل رہنے کی آرام دہ جگہ تھی۔ شام کا سہانا موسم اور ٹھنڈی ہوا ہم جیسے گرم علاقے سے آئے لوگوں کے لئے بڑی فرحت بخش تھی۔
یہ بھی پڑھیں: سعودی عرب پر حالیہ حملے مسلم امہ کو آپس میں دست و گریبان کرنے کا امریکی و اسرائیلی منصوبہ ہے، مولانا فضل الرحمان
صبح کی تازگی
راستے کی تھکاوٹ اور گفتگو کی گراوٹ نے جلد ہی نیند کی وادی میں اتار دیا۔ صبح بیدار ہوا تو دریائے جہلم کے کنارے لمبی واک پر نکل گیا۔ درختوں اور پھولوں کو چھیڑتی تازہ ہوا، دریا کا شور، پہاڑوں کے سائے میں ڈوبا شہر، ایسا سماں کم کم ہی ملتا ہے۔ نو بجے میٹنگ کے لئے نصرت کے دفتر چلے آئے اور تربیت کے حوالے سے کئی گھنٹے تک میٹنگ ہوتی رہی۔ ورکنگ لنچ سے فارغ ہوئے تو قریبی پراجیکٹ منیجر کے دفتر چلے آئے تاکہ پرانی آڈٹ رپورٹس دیکھ کر ان کے لئے تربیت کا پروگرام ترتیب دیا جا سکے۔
یہ بھی پڑھیں: گندم کے کاشتکاروں کیلئے خوشخبری،کھاد کے بعد گندم کے تصدیق شدہ بیج کے نرخ بھی نیچے آگئے.
شعری محفل کی رونق
شام کو واپس آئے تو قمر کے دوست اور نامور شاعر احمد عطا اللہ نے رات کھانے کی دعوت دے ڈالی اور چھوٹے سے مشاعرے کا بھی اہتمام کر لیا۔ مشاعرہ میں کچھ سامعین ہونے چاہئیں جو شاعر کو داد دے سکیں ہم تھے ہی۔ قمر کی طرح احمد عطا بھی سرکاری ملازم تھا۔ وہ ہنس مکھ، عمدہ اور زندہ دل انسان اور اچھا شاعر تھا۔
یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی کے اس احتجا ج کا نتیجہ بھی پہلے جیسا ہوگا، طلال چودھری کا دعویٰ
شاعری کا جذباتی اظہار
ویسے شاعری جذبات کے اظہار کا نام ہے جس میں جھوٹ کی آمیزش زیادہ ہوتی ہے۔ خود کو एक्सप्रेस کرنے کا ایسا ذریعہ جس میں آپ وہ کچھ بھی کہہ سکتے ہیں جو نثر میں نہیں کہا جا سکتا۔ یہ محفل اپنی تمام تر رعنائیوں کے ساتھ کافی دیر تک جاری رہی۔ ساتھ ہم نے لذیذ کھانوں کا بھی لطف لیتے رہے۔ شاعروں کا کلام سن کر تھک گئے تو یہ محفل برخاست ہوئی۔ (جاری ہے)
نوٹ
یہ کتاب ”بک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں) ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔








