مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی، عالمی غذائی تحفظ کے حوالے سے خدشات بڑھ گئے
مشرقِ وسطیٰ کی کشیدگی اور غذائی تحفظ
اقوام متحدہ (ڈیلی پاکستان آن لائن) مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے باعث عالمی غذائی تحفظ کے حوالے سے خدشات بڑھ گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: انڈر 19 ورلڈ کپ، پاکستان ٹیم اپنا پہلا میچ آج انگلینڈ کے خلاف کھیلے گی
ماہرین کی رائے
اقوام متحدہ کے ادارہ برائے خوراک و زراعت کے چیف ماہرِ اقتصادیات میکسی مو تورےرو کالین نے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ اس تنازع کے اثرات فوری طور پر خوراک کی فراہمی پر ظاہر نہیں ہوں گے، تاہم زرعی پیداوار کی لاگت کے ذریعے بتدریج منتقل ہو کر مستقبل میں عالمی غذائی منڈی کو متاثر کر سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت نے اپنی سب سے بھاری سیٹلائٹ لانچ کردی
قیمتوں میں اضافہ
’’اے پی پی‘‘ کے مطابق ادارہ کی جاری رپورٹ کے مطابق توانائی کی قیمتوں میں اضافے کے باعث مارچ 2026 میں عالمی خوراک کی قیمتوں کا اعشاریہ سالانہ بنیاد پر 1.0 فیصد بڑھ گیا اور یہ مسلسل دوسرا مہینہ ہے جب اس میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ اس وقت عالمی سطح پر خوراک کی فراہمی مجموعی طور پر مستحکم ہے جس کی وجہ سے قیمتوں میں اضافہ محدود رہا تاہم اگر توانائی کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار رہتی ہیں تو خوراک کی قیمتوں پر مزید دباؤ پڑ سکتا ہے۔
سپلائی کی اہمیت
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ خطہ توانائی اور کھاد کے خام مال کی ترسیل کے لیے ایک اہم گزرگاہ ہے۔ اگر سپلائی میں رکاوٹ یا ترسیلی لاگت میں اضافہ ہوتا ہے تو اس کے نتیجے میں زرعی پیداوار کی لاگت میں اضافہ ناگزیر ہو جائے گا۔








